پانامہ فیصلے کے مضمرات

پانامہ فیصلے کے مضمرات

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جب پانامہ لیکس کا کیس عدالت عظمیٰ لے جانے کا فیصلہ کیا تو یار دوستوں نے اسے سیاسی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب عمران خان قانون کے داؤپیچ میں پھنسا رہے گا اور نواز شریف اپنے پانچ سال پورے کر لے گا،کہنے والوں نے یہاں تک بھی کہا کہ عمران خان کو اس غلطی کا خمیازہ آئندہ الیکشن میں کمزور سیاسی ساکھ کی صورت بھگتنا پڑ سکتا ہے لیکن پانامہ کیس سپریم کورٹ میں دائر کرنے سے لیکر فیصلہ آجانے تک اور اس کے بعد بھی عمران خان مسلسل پر امید اور مطمئن دکھائی دے رہے ہیں ۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر مسلم لیگ ن بھنگڑے ڈال رہی ہے اور مٹھائی تقسیم کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن ایک بات کی طرف شاید کسی کی توجہ نہیں جا رہی کہ عدالت عالیہ کے پانچ معزز جج صاحبان میں سے کسی ایک جج نے بھی نواز شریف کے مؤقف کی تائید نہیں کی ہے ،کسی ایک جج نے بھی یہ نہیں کہا کہ عمران خان کا مؤقف درست نہیں اور اس نے بلا وجہ نواز شریف اور اس کی فیملی کے خلاف کیس دائر کیا ہے بلکہ عدالت عالیہ کے پانچ جج صاحبان میں سے دو جج صاحبان نے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جبکہ باقی تین جج صاحبان نے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے جس کی تفصیلات اخبارات میں شائع ہو چکی ہے ۔جج صاحبان کی طرف سے مزید تحقیقات کا مطلب یہ ہوا کہ عدالت عالیہ کو فراہم کردہ معلومات پوری نہیں تھیں بلکہ عدالت عالیہ کو فراہم کردہ معلومات چھپائی گئی ہیں اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عدالت عالیہ کے معزز جج صاحبان اس اہم کیس کا فیصلہ سنانا چاہتے تھے لیکن شواہد نا مکمل ہونے کی بنا پر انہیں مزید تحقیقات کی نو بت پیش آئی۔ پانامہ کیس چونکہ میاں نواز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف ہے اس لئے عدالت کو درست معلومات مہیا کرنا بھی انہی کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے وقت گزارو پالیسی پر عمل کرتے ہوئے عدالت عالیہ اور اس کے معزز جج صاحبان کو غیر ضروری باتوں میں الجھائے رکھا ،قطری شہزادے کاخط اور اس طرح دیگر بے کار باتوں میں عدالت عالیہ کا وقت ضائع کیا گیا ،جان بوجھ کر حسن نواز اور حسین نواز کو پیش نہیں کیا گیا اور آج جبکہ عدالت عالیہ نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ان لوگوں کو پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے تو اس پر مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں ،بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں اور مبارکبادیں دی جا رہی ہیں…کیوں؟
جب کیس باقی ہے تو چرب زبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو یہ تاثر کیوں دیا جا رہا ہے کہ عدالت عالیہ نے نواز شریف اور ان کی فیملی کے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔ہاں اگر عدالت یہ فیصلہ سناتی کہ نواز شریف پر الزام لگایا گیا تھا ،طویل سماعت اور تحقیقات کے بعد عدالت اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کی فیملی پر لگائے گئے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں ، اس طرح کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کی طرف سے بھنگڑے ڈالنا ،مٹھائیاں تقسیم کرنا اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینا بجا تھا ۔رہی یہ بات کہ مسلم لیگ ن سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے بعد بھی ایسا کیوںکر رہی ہے تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے اس قدر شوروغل مچارہی ہے کہ لوگ سمجھیں کہ سچ وہی ہے جو مسلم لیگ ن بیان کر رہی ہے ،دوسری بات یہ ہے کہ وہ ایسا اس لئے کر رہی ہے کہ اس شور شرابہ میں چند دن اور گزارے جا سکیں ،پانامہ معاملہ کو یونہی لٹکا کر وقت گزارہ جا ئے کیوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانامہ کا معاملہ لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو جا ئے گا لیکن ایسا نہیںہوا …کیونکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تن تنہا پوری قوم کا معاملہ اٹھایا گو انہیں اس بارے میں شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑالیکن عمران خان نے بہت احسن انداز سے پاکستان کے عوام کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ حکمران کس طرح ملک اور قوم کے پیسے کو لوٹ کر بیرون ممالک منتقل کر رہے ہیں،سو عمران خان نے تصادم اور دھرنا کے بجائے قانونی راستے کو اختیار کرتے ہوئے انصاف کے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ،سپریم کورٹ جانے کے بعد بھی عمران خان کو ہر قدم پر یہ مشورے دیئے گئے کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں لیکن آج پاکستان کے عوام کی اکثریت عمران خان کے مؤقف کی تائید کرتے دکھائی دیتی ہے،ایک عام شہری بھی یہ کہہ رہا ہے کہ جب میاںنواز شریف کا دامن صاف ہے تو عدالت عالیہ کے معزز جج صاحبان کے سامنے بہت کچھ کیوں چھپایا گیا؟پانامہ کیس کو شروع ہوئے تقریباًایک سال کا عر صہ بیت چکا ہے اسے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھیں تو جے آئی ٹی کا قیام اور نواز شریف کو 60دن کی مہلت کی صورت میں ایک پنڈورہ بکس کھلتا نظر آرہا ہے ،کل کلاں پانامہ کیس کا کیا فیصلہ آتا ہے یہ تو خدا ہی بہتر جانے لیکن ایک بات روز روشن ی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ عمران خان نے پوری قوم کا مؤقف درست انداز میں پیش کیا ہے ،تصادم اور دھرنا کے بجائے قانونی راستے کو اپناتے ہوئے قومی اداروں کو مضبوط کیا،یہ یقینا عمران خان کے مؤقف کی جیت ہے ،یہ کامیابی کا پہلا زینہ ہے کہ بینچ کے دو ججز نے اختلافی نوٹ لکھا ہے ،اس سے قبل اشرافیہ کے خلاف فیصلے کی مثال نہیں ملتی۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو شعور عمران خان نے قوم میںپیدا کیا ہے پوری قوم مل کر اس شعور کو بلندی کی اس سطح پر لے جائے کہ جہاں ایک عام شہری اور حکمران کے خلاف یکساں فیصلے صادر ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں