محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں

محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں


پانامہ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک تھکا دینے والے کیس کی سماعت بالآخر اختتام کو پہنچ چکی ہے اور فاضل عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو آئندہ چند روز میں کسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے جبکہ دوران سماعت عدالت عظمیٰ کے باہر متعلقہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے عدالتی کارروائی کے حوالے سے مرضی کی تاویلات اور وضاحتوں پر مبنی ڈرامہ بازی بھی اگرچہ تھم چکی ہے تاہم مختلف ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں مقدمے کے مختلف پہلوئوں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ تادم تحریر جاری تھا جن میں نہ صرف فریقین کے مواقف کی نمائندگی دکھائی دیتی تھی بلکہ قانونی ماہرین کی آراء سے بھی استفادہ کرکے عوام کی آگہی کے لئے بعض قانونی اور آئینی نکات کی وضاحت کا سامان کیاجاتا رہاہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سلسلہ فیصلہ آنے تک شاید اسی طرح جاری وساری رہے۔ اس ضمن میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ نہ صرف آئینی اور قانونی ماہرین کی آرا مختلف ہے اور ہر قانون دان اپنی بات کی وضاحت بعض سابقہ قانونی کیسز کی روشنی میں کرتا ہے اور آئینی نکات کا حوالہ دے کر رائے دیتا ہے بلکہ مختلف چینلز پر روزانہ شام کے وقت ٹاک شوز میں شرکت کرنے والے بھی اس حوالے سے دو گروہوں میں بٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اپنی اپنی رائے کو مقدم و مقدس گردانتے ہوئے اسے ہی حرف آخر قرار دیتے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے ملکی سیاسی فضا پر تکدر کے سائے منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اس سارے عمل میں حکومتی اور حکومت مخالف سیاسی قوتوں کے مابین ایک دوسرے پر جو زبانی جنگ جاری ہے اس میں تلخی تو پہلے سے موجود تھی مگر گزشتہ کچھ دنوں سے اس زبانی کلامی جنگ نے اخلاقیات کی نازک سرحدات کو بھی پارہ پارہ کرتے ہوئے کسی احتیاط کو ملحوظ نہ رکھنے اور تحمل و برداشت کی حدود پار کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا اور نوبت بہ ایں جارسید کہ اب لہجوں کی تلخی میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا اس میں ایک دوسرے کے مردوں کو گڑھوں سے اکھاڑنے اور ان بے چاروں پر بھی چوری' ڈکیتی اور نہ جانے کس کس قسم کے الزامات چسپاں کرکے ان بزرگوں کی روحوں کو قبروں میں بھی چین نہ لینے دینے کی صورتحال نظر آتی رہی۔ قومی سیاست میں اس قسم کی صورتحال یقینا قابل افسوس اور قابل مذمت ہے اور تمام سیاسی حلقوں کو سنجیدگی سے اس بات کا نوٹس لے کر کوئی ضابطہ اخلاق بنانے پر ضرور غور کرلینا چاہئے کیونکہ سیاسی جنگ کو پارٹی کے موجودہ رہنمائوں تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔ اس میں نہ صرف بزرگوں بلکہ گھریلو خواتین پر الزامات کی بھرمار اور کیچڑ اچھالنے سے سختی سے پرہیز کی ضرورت ہے۔ اب تازہ ترین صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس میں پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے آنے والے ہر فیصلے کو تسلیم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم کی قانونی ٹیم نے اجلاس کے شرکاء کو ممکنہ فیصلے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جس کی روشنی میں مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا اور فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں تمام قانونی اور آئینی آپشنز استعمال کئے جائیں گے لیکن سپریم کورٹ کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ کسی ایسی روایت کو قائم کرنے کے حق میں نہیں جس سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی بے تو قیری ہو۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ حکومت ہر حال میں اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ وزیر اعظم کی نا اہلی کی صورت میں ان ہائوس تبدیلی لائی جائے گی۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے تمام شرکاء نے کہا کہ نواز شریف ہی وزیر اعظم ہیں۔ انہیں عوام اور پارٹی کی مکمل تائید حاصل ہے اور تمام اتحادی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ لوگ چور دروازے سے اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اقتدار کے بھوکے 2018ء کے الیکشن کی تیاری کریں۔ کارکردگی پر عوام آئندہ بھی ہمیں ووٹ دیں گے۔ بعض عناصر کو سی پیک اور ملکی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔ ادھر دوسری جانب اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس پر فیصلہ محفوظ کئے جانے کے بعد ہنگامی اجلاس منعقد کئے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا۔ تحریک انصاف نے وزیر اعظم کی نا اہلی کی صورت میں قوم کی جانب سے جشن منانے کا اعلان کیا ہے۔ بلاول زرداری نے بھی پارٹی رہنمائوں سے مشاورت کی ہے جبکہ جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے بھی سر جوڑ کر صورتحال کاجائزہ لیا۔ ادھر بی بی سی نے اس پوری صورتحال پر ایک نشرئیے میں کہا ہے کہ فیصلہ کچھ بھی آئے سیاسی دنگل ضروری ہے۔ بی بی سی کی اس پیشگوئی کے بارے میں احتیاط کے ساتھ بھی تبصرہ کیاجائے تب بھی اس بات کے امکانات کو رد نہیں کیاجاسکتا کہ اگر تحریک انصاف وزیر اعظم کی ممکنہ نا اہلی پر اپنے ورکروں کو جشن منانے کی کال دے گی تو اس سے فریق مخالف یعنی مسلم لیگ(ن) کے جوشیلے کارکنوں کی جانب سے رد عمل کے اظہار کو شاید کسی بھی طور روکا نہ جاسکے اور یوں خانہ جنگی کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکے گا۔ ویسے بھی سیاسی بلوغت کے تقاضے یہ نہیں ہیں بلکہ جس طرح دنیا کے دیگر ممالک میں ایسی صورتحال پر وہاں کی سیاسی قیادت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برد باری اور تحمل سے کام لیتی ہے اسی طرح ہماری سیاسی جماعتیں بھی وتیرہ اختیار کریں۔ ویسے بھی اگر وزیر اعظم کی عدالت سے نا اہلی کا فیصلہ ہوتا ہے تو حکومت کو تو پھر بھی کوئی خطرہ نہیں بلکہ ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے حکمران جماعت کسی بھی دوسرے رکن کو نیا وزیر اعظم مقرر کرسکتی ہے۔ اور اب تک جو اطلاعات گردش کر رہی ہیں اس حوالے سے حکمران جماعت نے شاید نئے ممکنہ وزیر اعظم کا نام فائنل بھی کردیا ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے پر اگر حکمران جماعت نے سر تسلیم خم کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اسے حکمران جماعت کی جانب سے جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ایک اہم فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اس کو خوش آمدید کہنا چاہئے اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کھلے دل اور کھلے ذہن سے اس فیصلے کا خیر مقدم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔ قوم ویسے بھی سیاسی محاذ آرائی کے منفی اثرات گزشتہ دو ڈھائی سال سے بھگت رہی ہے اور اگر فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی خواہشات اور سوچ کے مطابق آجاتا ہے تو خواہ مخواہ ملک میں سیاسی گرم بازاری سے محاذ آرائی کی کوشش ملک و قوم کے مفاد میں ہر گز نہیں ہوگی بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو آنے والے انتخابات کی تیاری کے لئے کمر کس کر اپنا اپنا پروگرام عوام کو پہنچانا چاہئے کیونکہ اب نئے انتخابات میں وقت ہی کتنا رہ گیا ہے جسے مزید محاذ آرائی میں ضائع کرکے ملک میں افرا تفری کی کیفیت برقرار رکھی جائے۔ ہم تمام سیاسی قوتوں بشمول حکمران جماعت سے یہی گزارش کرتے ہیں کہ سیاسی محاذ آرائی میں خاصا وقت ضائع ہوچکا ہے اس لئے وہ گزرے ہوئے دنوں کی تلخیاں بھلا کر ایک بار پھر عوام سے رجوع کرنے کے لئے اپنے اپنے انتخابی منشور ترتیب دے کر عوام کی فلاح و بہبود کے پروگرام عوام کے سامنے لا کر ان سے حق حکمرانی کے لئے ووٹ طلب کریں تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیاجاسکے۔

متعلقہ خبریں