فاروق عبداللہ کا صائب مشورہ 

فاروق عبداللہ کا صائب مشورہ 

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور شیخ عبداللہ کے فرزند ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر پر تیسرے فریق کی ثالثی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اسلام آباد کے ساتھ تنازعہ کشمیر طے کرنے کیلئے امریکہ اور چین کی ثالثی قبول کرلینی چاہیئے ، تاکہ مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستا ن کے ساتھ لڑ نہیں سکتا کیونکہ دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور لڑائی کسی کے مفاد میں بھی نہیںہے ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس قسم کا مشورہ پہلی بار نہیں دیا ، وہ اس سے پہلے بھی بھارتی حکمرانوں پر واضح کر چکے ہیں کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت طاقت کے بل پر کشمیر کو ہڑپ کر لے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے ، اور صرف ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر ہی کیا موقوف بھارت کے دیگر کئی رہنما اور دانشور بھی بھارتی حکومت کو با ر بار کہتے آئے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر توجہ دے ۔ تاہم بھارتی حکمران نہ جانے کس زعم میں مذاکرات کو رد کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ، وہ نہ صرف مذاکرات سے پہلو تہی کرتے ہیں بلکہ ثالثی کے ذریعے بھی اس مسئلے کو حل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور اس کیلئے شملہ معاہدے کا سہارا لیتے رہتے ہیں ، حالانکہ شملہ معاہدہ کسی بھی صورت میں سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر حاوی نہیں ہو سکتا ،اور دوسرے یہ کہ دنیا کی کوئی طاقت زور زبردستی کسی قوم کے حق خود اختیاری سے انکار نہیں کر سکتی ، کیونکہ طاقت کے بل پر کسی بھی قوم کو غلام بنا نے کا دور کب کا گزر چکا ہے ، اور بھارتی مظالم سے تنگ آکر کشمیر یو ں کی نئی نسل نے ایک بار پھر آزادی کی شمع فروزاں کرنے کیلئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجا گر کر دیا ہے اور بھارتی افواج جتنے بھی مظالم ڈھائے ، مقبوضہ وادی میں روز کتنی شہادتیں ہوں ، اب اس تحریک کو دبانے کی کوئی کوشش کا میاب نہیں ہو سکتی بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں جتنے بھی مظالم ڈھا رہی ہے آزادی کی تحریک اتنی ہی زور پکڑ رہی ہے اور کشمیریوں کا جذبہ آزادی مزید بڑھ رہا ہے ، اس لیے بھارتی حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ کر اس مسئلے کو تیسرے فریق کی ثالثی کے ذریعے پر امن حل کرنے کی راہ میں مزید روڑے نہیں اٹکا نے چاہئیں کہ اس میں دونوں ملکوں کے عوام کی بہتری ، بھلائی اور مستقل امن کے قیام کا سبق پوشیدہ ہے ۔

متعلقہ خبریں