انتخابی اصلاحات عام مشاہدے کیلئے مشتہر کی جائیں

انتخابی اصلاحات عام مشاہدے کیلئے مشتہر کی جائیں

پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی نے دو سال کے دوران 119اجلاسوں کے بعد بالآخر انتخابی اصلاحات کا حتمی مسودہ منظور کر لیاہے۔ اس پر کمیٹی میں شریک نو پارٹیوں نے دستخط کردیے ہیں ۔ البتہ پاکستان تحریک انصاف نے جس کے نمائندوں نے 118اجلاسوں میں شرکت کی حتمی مسودے پر دستخط نہیں کیے ہیں اور دوسری بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حتمی مسودے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ ایک معاصر کے مطابق پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کو مکمل طور پر ختم کر دیاجائے۔ تحریک انصاف کا اختلافِ رائے کیا ہے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے وضاحت نہیں ہو سکی۔ یہ بات بھی سمجھ نہ آ سکی کہ پیپلز پارٹی نے آئین کاآرٹیکل 62اور 63ختم کرنے کی سفارش کیوں کی۔ آرٹیکل 62اور 63جن کا آج کل پاناما کیس کی سماعت میں ذکر کثرت سے آ رہا ہے ، اس کا تعلق محض انتخابات میںحصہ لینے سے نہیں ہے بلکہ عوامی عہدے دار کے طرز عمل سے ہے۔ اور رائج انتخابی قوانین میں شاید ایسی شرط بھی نہیں ہے کہ امیدوار آرٹیکل 62اور 63کی پاسداری کا بیان حلفی دے گا ۔ دوسرے اگر پیپلز پارٹی آئین میں ترمیم چاہتی ہے تو اسے آرٹیکل 62اور 63کو حذف کرنے کا آئینی بل الگ سے پیش کرنا چاہیے تھا۔ وہ ابھی تک پیپلز پارٹی نے نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے پارلیمانی کمیٹی کے آخری اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی جس میں مجوزہ بل پر پارٹیوں کے نمائندوں نے دستخط کیے۔ تو کیا اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابی اصلاحات کے مجوزہ بل کی تیاری میں شرکت کے باوجود اسمبلی میں اس کی منظوری کی راہ میں حائل ہونا چاہتی ہے اور کیا تحریک انصاف نے بھی اسی لیے حتمی مسودہ پر دستخط نہیں کیے ہیں۔مجوزہ بل میں چونکہ عام انتخابات کے قوانین اور طریق کار میںتبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں اس لیے اس کے باوجود کے الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ جلد ہی یہ قانون منظور کروا لیا جائے کیونکہ آئندہ انتخابات کے لیے تیاری اسی قانون کے تحت ہونی ہے، یہ ضروری ہونا چاہیے کہ ان تجویز کردہ اصلاحات کو عوام کے مشاہدے کے لیے باقاعدہ مشتہر کر دیا جائے اور عوام کی تجاویز بھی حاصل کی جائیں ۔ بل میں بعض بہت تعمیری اصلاحات تجویز کی گئی ہیں مثال کے طور پر یہ کہ خواتین کے ووٹ اگر دس فیصد سے کم پڑیں تو اس حلقہ کا انتخاب کالعدم قرار دیا جائے۔ اس طرح امیدوار و ں کی بھی ذمہ داری ہو جائے گی کہ وہ خواتین کے ووٹ ڈلوائیں ۔ لیکن سیاسی پارٹیوں پر پابندی کہ وہ کم از کم پانچ فیصد ٹکٹ خواتین کو دیں سیاسی پارٹیوں کی جمہوری آزادی کے منافی ہوگا۔ اس تجویز کی بھی بھرپور پذیرائی ہو گی کہ انتخابی عذرداری کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی عذرداری کے فیصلے کے لیے مدت بھی مقرر کر دی جانی چاہیے۔ ماضی میں ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ عذداری کا فیصلہ اسمبلی کی مدت ختم ہو جانے کے بعد رکن اسمبلی کے خلاف ہوا۔ ایک عام شکایت یہ ہے کہ انتخابی مہم پر امیدوار خرچ بہت زیادہ کرتے ہیں۔ موجودہ قوانین میں اس خرچ کی حد مقرر ہے اور مجوزہ حتمی مسودہ میں بھی قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے چالیس لاکھ روپے اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے لیے یہ حد زیادہ سے زیادہ بیس لاکھ مقرر کی گئی ہے۔ اس رقم کے تعین کے لیے آبادی کو پیمانہ بنایا گیا ہے یاحلقے کے رقبہ کو یا بینرز اور سٹیج وغیرہ کے لیے اخراجات کو یہ معلوم نہیں۔اس خرچ کا حساب بھی امیدواروں سے طلب کیا جانا چاہیے جو جلسوں کے لیے سٹیج اور دوسرے سامان اور بینرز اور پوسٹرز کاحساب دے دیتے ہیں۔ رسیدیں ساتھ لف کرنے کی شرط غالباً نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو یہ کون سا مشکل کام ہے۔ فرض کیجئے ایک قومی اسمبلی کے حلقے میں پانچ امیدوار ہیں تو دو کروڑ روپے حلقے میں تشہیری مہم پر خرچ ہو سکتے ہیں۔یہ تو چلئے ہو گیا امیدواروں نے حساب بھی دے دیا لیکن ان کے حامی ان سے محبت رکھنے والے جتنا خرچ ان کی مہم پر کر سکتے ہیں اس کا کوئی حساب طلب نہیں کیا جاتا۔ اس لیے یہ حد جتنی مرضی مقرر کی جائے اس کی خلاف ورزی ممکن رہے گی۔ اگر انتخابی مہم کودولت مندی کے مظاہر سے پاک کرنا ہے تو اس کے لیے اور طریقہ کار بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بینروں اور پوسٹروں کا سائز طے کیا جا سکتا ہے اور ان کی تعداد بھی مقرر کی جاسکتی ہے خواہ وہ امیدوار کے اپنے خرچ سے لگائے جائیں خواہ اس کے حامی لگائیں ۔ اس طرح ورکروں کی دعوتوں پر جو خرچ کیا جاتا ہے اس کی بھی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ اس پابندی کا مقصد یہ ہے کہ متوسط طبقے اور غریب طبقے کے لوگ بھی انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ اور ان کا دولت مند نہ ہونا ان کے لیے باعث تحقیر نہ ہو۔ اس کے لیے کاغذات نامزدگی کی فیس میں اضافے کی بجائے اس میں کمی کی جانی چاہیے۔ اور سیاسی پارٹیوں پر یہ پابندی عائد کی جانی چاہیے کہ وہ پارٹی ٹکٹ دیتے وقت امیدوار سے کوئی اضافی چندہ یا پارٹی فنڈ وصول نہیں کریں گی ماسوائے اس کے جو چندہ یا پارٹی فنڈ وہ عام حالات میں باقاعدگی سے وصول کرتی ہیں۔اس تمام خرچ کے کچھ ضابطے ہونے چاہئیں۔ انتخابی اصلاحات کے حتمی مسودہ میں محض یہ چند باتیں نہیں اوربھی بہت سی اصلاحات اور ترامیم ہیں ۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ پارلیمانی کمیٹی نے یہ ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور کر لی ہیں کہ کاغذات نامزدگی میں امیدواروں پر اپنے اثاثے ظاہرکرنے کی پابندی ختم کردی جائے۔ حالانکہ موجودہ قوانین امیدواروں سے یہ طلب کرتے ہیں اس ترمیم کی حکمت یہ بیان کی گئی کہ اثاثے ظاہر کرنے سے ان کی دولت مجرموں کی نظروں میں آ جائے گی۔ لیکن یہ اندازہ کیسے ہوگا کہ انہوں نے اس پر لاگو ٹیکس دیے ہیں یا نہیں۔ کم ازکم ایسا بیان حلفی تو لیاجانا چاہیے کہ انہوں نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے اثاثوں پر تمام ٹیکس ادا کر دیے ہیں، ان تمام ابہامات کے ازالے کے لیے انتخابی اصلاحات کا حتمی مسودہ عام مشاہدے کے لیے عام فہم زبان میں مشتہر کیا جاناضروری ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں