تیمرگرہ اور پروفیسر فضل حسین ۔۔۔

تیمرگرہ اور پروفیسر فضل حسین ۔۔۔

ہمارے ایک دوست پروفیسر فضل حسین صاحب تھے ۔ تعلق جدی پشتی پشاور سے تھا ابتدائی نوکری ہی میںگورنمنٹ کالج تیمرگرہ میں پوسٹ ہوئے تھے لیکن پھر کبھی واپس پشاور نہ آئے ۔مجھے یاد ہے کہ ان کی ایسوسی ایٹ پروفیسرکی پروموشن ہوئی تو انہیں گورنمنٹ کالج پشاور ایڈجسٹ کردیا گیا۔میرے پاس آئے تو رونے لگے کہ میں اب واپس پشاور نہیں آنا چاہتا ۔وجہ پوچھنے پر موصوف نے بتایا کہ تیمرگرہ اب میرا وطن بن چکا ہے۔میری غمی خوشی اب اسی شہر کے ساتھ ہے ۔میں بیس برس تک اس شہر سے محبتیں کشید کرتا رہا ہوں۔خیر انہوں نے واپسی کی درخواست دی اور واپس تیمرگرہ پوسٹنگ ہوگئی ۔میرے پاس مٹھائی لے کر آئے تو اتنے خوش تھے جیسے کوئی بانڈ نکل آیا ہو۔چند برس بعد پروفیسر فضل حسین کا تیمرگرہ میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال ہوا تو ان کی آخری خواہش بھی پوری ہوگئی کہ جینا مرنا تیمرگرہ میں۔۔برخوردار جب سے جوان ہوئے ہیں گاڑی کی ڈرائیونگ سے ہمیں ''جبری ''مکھتی مل گئی ہے ۔سوسفر کے دوران فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر تسبیح پر اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔تیمر گرہ کے اس سفرمیں یاد تو اللہ کی جاری تھی لیکن ذہن میں پروفیسر فضل حسین کی معصوم صورت گھو م رہی تھی۔پشاور ایک نشہ ہے کہ جس کو لگ جائے پھر چھوٹتا نہیں ۔فراز نے کہا تھا ناکہ
روم کا حسن بہت دامن دل کھینچتا ہے
اے مری خاک پشاور تری یاد آئی بہت
ہزاروں لاکھوں لوگ اپنے اپنے وطن چھوڑ کر شہر گل پشاورمیںبس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن فضل حسین کا معاملہ الٹا تھاانہیں ایک بالکل نئے شہر نے اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔بلاشبہ اس شہر کے لوگوں نے پروفیسر مرحوم کو وہ پیار دیا ہوگا کہ وہ ان کی جدائی برداشت کرنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں گے۔انہی خیالوں میں گم ہماری گاڑی ملاکنڈ ڈویژن میں داخل ہوچکی تھی۔بٹ خیلہ کے برخوردار پروفیسر حشمت نے د عو ت دی کہ ان کی طرف آجاؤں ساتھ ہی عزیزی ڈاکٹر مشتاق بھی متمنی تھے کہ ان کے گھر ڈھیری جولاگرا م رکو ں لیکن ہم تو پروفیسر رفیق سے وعدہ کرچکے تھے کہ تالاش کامرس کالج ان کے پاس رکیں گے ۔موصوف وہاںکے پرنسپل ہیں ۔ حال ہی میں ان کی بیٹی نے سوات بورڈ کے میٹرک امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی ہے ۔بچوں کو ان کے گھر چھوڑ کر ہم تیمرگرہ کالج کی طرف روانہ ہوگئے ۔ایک بات جو راستے میں محسوس کی وہ بڑی عجیب تھی ۔سنگل سڑک اور بے تحاشہ گاڑیاں۔افسوس ہوا کہ اتنی بڑی بڑی بااثر اور قدآورشخصیات کا تعلق دیر سے ہے اور رہا ہے لیکن وہ اب تک اس سڑک کو ڈبل نہ کرواسکے ۔اور ہاں تالا ش تو حلقہ ہے ہمارے مہربان مظفر سیدصاحب کا ۔کبھی ملاقات ہوئی تو ضرور پوچھیں گے کہ محترم خزانہ تو آپ ہی کے پاس ہے سڑک پر توجہ کیوں نہیں دی ۔ویسے ہماری معلومات یوں بھی کمزور ہیں ہوسکتا ہے کہ سید صاحب نے کوئی ڈبل روڈمنظور کروارکھی ہواور ہمیں علم نہ ہوسواگر ایسا ہے تو خوش آئند ہے۔ یہاںکی بڑی آبادی خلیجی ملکوں میں محنت مزدوری کرتی ہے سو اکثر لوگ آسودہ ہیں ۔اس علاقے کاملک پر یہ احسان ہے کہ کثیر زرمبادلہ ملک میں آتاہے ۔پھر تو اس علاقے کا حق بنتا ہے کہ ایک ڈبل روڈ میسر ہو۔ خیر اس سڑک پر اب تو ہمارا سفر ناگزیر ہے کہ نوکری تو چھوڑ نہیں سکتے سو اس سڑک کے تذکرے ہم کرتے رہیں گے ۔ہمیں یوں بھی نئی نئی جگہیں دیکھنے کا شوق ہے ،نئی جگہوں کے نئے مسائل ، اور مسائل بھی وہ کہ جن سے بندہ خود گزرے ان پر لکھنے میں سوز و گداز خود ہی شامل ہوجاتا ہے ۔ سو ایک کالم نگار کی حیثیت سے یہ بات ہمارے لیے ضرور تازگی کا حوالہ رکھتی ہے کہ اس علاقے میں رہنے سے یہاں کے نئے نئے موضوعات پر لکھنے کا موقع ملے گا۔اب تو الیکشن بھی نزدیک ہے ،سیاسی گہما گہمی کے نظارے پشاور سے تیمر گرہ کے سفر میں ہوتے رہیں ۔نئے نئے سیاسی رجحانات سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتے رہیں گے۔یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے ۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج شہر سے باہر ایک پہاڑی پر قائم ہے اور اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے ۔یہاں کے پرنسپل پروفیسر نثار مقامی ہیں اور کالج کو خوب چلارہے ہیںاور ایک اچھے ماہر تعلیم اور ایڈمنسٹریٹر کی شہرت رکھتے ہیں ۔ہم نے انہیں فون پر آنے کی اطلاع کردی تھی ۔سوچ رہے تھے وہاں پہنچ کر ہی کاغذات بنائیں گے لیکن کالج کے سپرنٹنڈنٹ علیم نے پہنچتے ہی مکمل فائل سامنے رکھ دی۔ہم کو بس دستخط ہی کرنے تھے۔لو جی چارج لے لیا۔جولائی کی گرمی کی شدت بتانے کے لیے کسی تشبیہ یا استعارے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔سناہے کہ تیمر گرہ بھی پشاور جیسا شدید موسم رکھتا ہے ۔گرمیوں میں رَج کے گرمی اور سردیوں میں فریزر والی سردی ۔ سوچاپہلی بار جب پروفیسر فضل حسین اپنا شہر چھوڑ کر یہاں آئے ہوں گے تو شاید ان کی بھی میری جیسی حالت ہوئی ہوگی ،اسی مقا م پر ایک بات ہمیں خو ش کرگئی کہ فضل حسین کو دو شہر پیار کرتے ہیں اور یاد کرتے ہیں،میں بھی ،پروفیسر نثار اور علیم بھی ،میں جانے فضل حسین جیسا خوش بخت ہوں گا بھی ۔۔۔۔

متعلقہ خبریں