افغانستان کا سیاسی بحران

افغانستان کا سیاسی بحران

افغان نائب صدر عبدالرشید دوستم کی تُرکی سے خودساختہ جلاوطنی ختم کرنے کے بعد وطن واپسی کی کوشش سے افغان سیاست میں پیدا ہونے والی ہلچل سے اندازہ ہوتا ہے کہ اشرف غنی کی زیرِ قیادت نیشنل یونٹی گورنمنٹ کتنے بحرانوں میں گھری ہوئی ہے ۔ افغان نائب صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے2016ء میں اپنے محافظوں کوشبرغان میں ایک سیاسی مخالف کو اغواء کرنے، اس پر تشدد کرنے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انہوں نے رواںسال مئی میں افغانستان سے بھاگ کر تُرکی میں پناہ لے لی تھی۔لیکن اس دوران وہ افغانستان میں موجود اپنے حواریوں سے رابطے میں تھے اور ملک میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ملک میںواپسی کی اپنی ناکام کوشش سے دو ہفتے قبل عبدالرشید دوستم تُرکی میں بلخ کے گورنر عطا محمد نور، قائم مقام وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی اور سابق نائب صدر محمد محقق سمیت بہت سی نامور سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کررہے تھے۔انقرہ میںہونے والی ان ملاقاتوں میںماضی میں ایک دوسرے کے دشمن رہنے والے رہنمائوں نے افغانستان کو شدت پسندوں کے حملوں ، معاشی بدحالی اور صدر اشرف غنی کی جانب سے اپنی مہم کے دوران کئے جانے والے وعدوں پر عمل درآمدمیں ہچکچاہٹ جیسے بحرانوں سے نکالنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی اتحاد بنانے پر اتفاق کیا۔عبدالرشید دوستم کی جانب سے کئے گئے اعلان میں جس اتحاد کی بات کی گئی ہے اس میں سینئر حکومتی عہدیدار بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ صدر اشرف غنی کی گھبراہٹ اس وقت کھل کرسامنے آگئی تھی جب پچھلے ہفتے انہوں نے اپنے انٹیلی جنس کے سربراہ کو دوستم کو واپسی پر آمادہ کرنے کے لئے تُرکی بھیجا تھا۔لیکن پچھلے ہفتے پیر کو جب عبدالرشید دوستم کے پرائیویٹ جہاز نے مزار شریف میں لینڈ کرنے کی کوشش کی تھی تو اسے اترنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ افغان حکومت کے اس اقدام سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ دوستم کی واپسی سے خوفزدہ ہے۔ تُرکی میں بننے والے نئے اتحاد کے رہنماء دوستم کی وطن واپسی کے بعداپنی مستقبل کا لائحہ عمل پیش کرنے کی تیاری کررہے تھے۔ عبدالرشید دوستم نے بلخ کے دارالخلافے میں اپنا جہاز اتارنے کی کوشش بھی کی تھی جہاں پر گورنرعطاء محمد نور انچارج ہیں لیکن وہاں پر بھی ان کو جہاز اتارنے کی اجازت نہیں ملی جس کے بعد وہ ہمسایہ ملک ترکمانستان میں اترنے میں کامیاب ہوگئے جہاں سے وہ زمینی راستے سے افغانستان آنے کی کوشش کریں گے۔ عبدالرشید دوستم صدر اشرف غنی کی جانب سے اختیارات کے اپنی ذات تک ارتکاز کی وجہ سے ان سے ناراض تھے اور انہوں نے کئی بار اپنی ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے صدر اشرف غنی پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو دیوار سے لگا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔کئی مہینے پہلے اپنی ہی حکومت کے خلاف نائب صدر کی بیان بازی کے بعد افغان سیاسی حلقوں اور حکومت میں بحران کی پیش گوئی کی جاسکتی تھی۔ آج بھی افغان اتحادی حکومت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں جس میں عبدالرشید دوستم کی جانب سے بنائے جانے والے اتحاد کے علاہ گورننس کے سنگین بحران بھی شامل ہیں۔ افغان آئین میں ایک سال پہلے کی جانے والی ترمیم کے تحت اختیارات کی تقسیم کے فارمولے کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔ تین سال کاعرصہ بیت چکا ہے لیکن آج تک چیف ایگزیکٹو کے عہدے کو قانونی حیثیت دینے ، انتخابی عمل میں شفافیت لانے اور لویہ جرگہ بلانے کے لئے کی جانے والی ترامیم پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور ان کی ٹیم کو فیصلہ سازی سے دور رکھنے پر شدید ناراض ہے اور چاہتی ہے کہ وہ اتحادی حکومت سے الگ ہوجائیں کیونکہ صدر اشرف غنی نے مئی 2015ء میںشیڈول انتخابات نہ کروانے کے علاوہ تمام اہم اداروں کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ خود پر ہونے والی تنقید پر عدم برداشت کی وجہ سے اشرف غنی کے مخالفین نے بہت سے اتحاد بنا لئے ہیں جو صدر اور ان کی کابینہ کو ہٹانے کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے بنائے جانے والے تمام اتحاد اشرف غنی کے آمرانہ رویے اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی سے نالاں نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب عبدالرب رسول سیاف کی سربراہی میں عسکری حلقے بھی صدر کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔ سابق کامرس منسٹر انوارالحق احدی بھی اشرف غنی کی مخالفت میں کھل کر سامنے آچکے ہیں۔اگرچہ عبدالرشید دوستم پر بہت سے سنگین جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے افغانستان کے شمال میں دہشت گردی کی بہت سے کارروائیوں کو ناکام بنایا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے فریاب اور جازجان میں ایک طالبان مخالف کارروائی کی قیادت کرکے طالبان کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا ہے۔ اقتدار میں رہنے کے لئے اشرف غنی مستقبل قریب میں گلبدین حکمت یار کوئی اہم عہدہ دے سکتے ہیں لیکن اگر عبدالرشید دوستم صدر کے خلاف اتحاد بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اشرف غنی کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوجائے گا۔ دوسری جانب اگر افغان اتحادی حکومت اپنے ہی نائب صدر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتی ہے تو یہ اقدام خود کشی سے مترادف ہوگا۔
(بشکریہ: ڈان ،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں