مشرقیات

مشرقیات


آقا نے اپنے کمرے سے نوکر کو آواز دی ۔ یہاں آئو جواب ندارد ۔ آقا نے پھر آواز دی پھر کوئی جواب نہ آیا ۔ ایک آواز اور دی ، پھر بھی جواب نہ آیا ۔ خیال ہوا شاید ملازم نہیں ہے ، کچھ ٹھہر کر پھر اُسے آواز دی اُس دفعہ بھی کئی بار پکار ا لیکن جواب نہ ملا ۔ اتنے میں ایک شخص اندر آیا ۔ اس نے دیکھا کہ حضرت علی بیٹھے ہیں ۔ پوچھا ملازم کو آپ آواز دے رہے تھے ؟ جواب ملا ہاں ! میں آواز دے رہا تھا اس نے پوچھا آپ کا ملازم بہرا تو نہیں ہے ؟ حضرت علی نے فرمایا نہیں وہ تو خوب سنتا ہے ، اس آدمی نے کہا حیرت کی بات ہے ، میں جب باہر تھا میں نے اس وقت کئی بار آپ کی آواز سنی ۔ میں آپ کے ملازم کا نام جانتا ہوں وہ میرے سامنے کھڑا تھا برابر آپ کی آواز سن رہا تھا ، وہ اب بھی باہر کھڑا ہے اور آپ کی ہر آواز سن رہا ہے مگر معلوم نہیں جواب کیوں نہیں دیتا۔ ابن طبا طبا نے اپنی تاریخ الفخری میں لکھا ہے ۔ تھوڑی دیر میں وہ ملازم کسی کام سے اندر آیا حضرت علی نے اُسے دیکھا نظریں چار ہوئیں تو اشارے سے اُسے پاس بلایا ۔ وہ شخص بھی وہا ں کھڑا تھا جس نے تفصیلات سنائی تھیں اس کی موجودگی میں حضرت علی نے اپنے ملازم سے پوچھا کیا تو نے میری آواز نہیں سنی ؟ وہ اللہ کا بندہ بھی عجیب آدمی تھا ۔ بولا کہ میں نے تو آ پ کی آواز سنی تھی بلکہ درست یہ کہ جب جب آپ نے پکارا میں نے آپ کی آواز سنی اور پھر بھی تم نے جواب نہ دیا ؟ حضرت علی نے پوچھا۔ وہ بولا جی ہاں ! جھوٹ کیو ں بولوں ! کوئی اور ہوتا تو غصے سے بھڑک اٹھتا ۔ آپے سے باہر ہو جاتا ۔
مگر حضرت علی نے اس سے کچھ نہ کہا ۔حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیںارشاد نبوی ہوا کہ لوگوں کے قصوروں کو معاف کردیا کرو۔ انہیں اچھے کاموں کی طرف مائل کرو ۔ نادانوں اور جاہلوں سے چشم پوشی اختیار کرو ! حضرت علی نے اپنے ملازم سے پوچھا آخر تو نے میرے بار بار پکارنے کے باوجود کیوں جواب نہیں دیا ؟ کیا تجھے میرا ڈر نہیں ؟ وہ بولا مجھے آپ سے کوئی ڈر نہیں ، حضر ت علی نے پوچھا کیوں ؟ اس نے کہا ایک تو اس لئے کہ مجھے یقین ہے آپ کبھی مجھ سے باز پرس نہیں کریں گے ، دوسرا یہ کہ آپ ہماری غلطی پر ناراض ہونے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔
حضرت علی نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پوچھا گیا آپ کس بات کا شکر ادا کرتے ہیں۔ فرمایا اس بات کا کہ اللہ کے بندے مجھ سے امن میں ہیں ۔ اس نوکر کی حرکت بری بھی تھی سزا کے قابل بھی ، یہ مالک کاکردار تھا کہ معاف کردیا۔ بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ جن پر احسان کیا جائے ، انہیں اُسے یاد رکھنا اور اپنے آپ کو بہتر بنانا چاہیئے یہ نہیں کہ اپنی بُری حرکتوں کو دُرست سمجھیں اور یہ سوچنے لگیں کہ ہم نے اپنی سرکشی سے دوسرے کو دبا لیا ۔ ہر ایک کا اپنا اپنا ظرف ہوتا ہے ، معاف کرنے والے کی بڑائی کو کمزوری سمجھنا غلطی ہے ۔(روشنی)

متعلقہ خبریں