وزیراعظم کا پیغام کس کے نام

وزیراعظم کا پیغام کس کے نام

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے خفیہ ڈیل کی پیشکش اور اپنے انکار کی بات کرکے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس سے ملکی سیاست کا دامن پہلے سے صاف نہیں۔ پاکستان میں اقتدار ڈیل اور تسلیمات کے بغیر شاید ہی کبھی ملا ہو ۔ جو لوگ راست طریقے سے اقتدار میں آنے اور سیاست کرنے کے لئے کوشاں رہے ان کو بھی بالآخر ڈیل کے نتیجے ہی میں ڈھیل ملی۔ ملک میں حصول اقتدار کے لئے کن کن جماعتوں نے کس کس سے ڈیل کی ان کو الزامات کی فہرست میں شامل کرکے ماضی قریب میں ہی جھانکا جائے تو پیپلز پارٹی کا کردار اگر این آر اوزدگی کے زمرے میں آئے گا تو خود وزیر اعظم نواز شریف کا بھی اٹک قلعہ سے جدہ ائیر پورٹ پر سرخ قالین کے استقبال کا سفر اور دس سال تک سیاست اور ملک سے باہر رہنے کا معاملہ ڈیل اور ڈھیل کے بغیر ممکن نہ تھا۔ جنرل(ر) پرویز مشرف بھی گوکہ سرخ قالین پر چل کر ایوان صدر سے رخصت ہوئے مگر بخوشی انہوں نے بھی قصر صدارت کو الوداع نہ کہااور اگر دیکھا جائے تو واپسی کے بعد پھر واپسی کا سفر بھی غیر معمولی ہی تھا۔ ایک مرتبہ پھر ان کی واپسی کی ڈیل کی افواہوں میں کتنی صداقت ہے اس کا صحیح علم نہیں لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے مشرف کی 2007ء میں ڈیل کرنے کی پیشکش اور ان کے بیان کے انکار کے پس پردہ مشرف ہی کو گویا پیغام دینا ہے۔ لیکن وطن عزیز کی سیاست میں مختلف داخلی و خارجی مقتدرین کی پر اسرار مداخلت اور اثر و رسوخ کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ اگر دوبارہ اس طرح کے تحرک کا مظاہرہ کیا گیا تو سوائے عدالتی معاملات کے سابق صدر مشرف کی واپسی کی راہ میں کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ ملکی سیاست میں ماضی کے واقعات و مشاہدات کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ اگر سابق صدر جنرل (ر) مشرف واپس آکر عدالتوں کا سامنا کرنے کی ٹھان لیں تو ان کی واپسی کا راستہ اگر ڈھلوان بھی ہو تو ہموار ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ ملکی سیاسی جماعتیں بہر حال ایک دوسرے کو راستہ دینے اور مشکلات سے نکالنے خاص طور پر پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کے میثاق جمہوریت کے بعد اس حد تک تعاون کہ حزب اختلاف کا کردار اختیار کرنے کی بجائے شامل اقتدار ہو کر سہارا دینے کی مثال موجود ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کو اس مرتبہ ان داخلی مقتدرین کی طرف سے مطلوبہ اور متوقع تائید و حمایت شاید حاصل نہ ہو جن کے بل بوتے پر اب تک ان کے چرچے ہیں۔ اس عنصر کا کردار فی الوقت کام سے کام رکھنے کا دکھائی دیتا ہے مگر ملکی سیاست میں نظریہ ضرورت ابھی باقی ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف واپسی کا عندیہ کیوں دے رہے ہیں ان کے بیانات بلا وجہ ہیں یا پھر کسی مشاورت کا نتیجہ آمدہ دنوں میں اس کی حقیقت سے پردہ سرکنے کا عمل شروع ہوگا تو وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان کی بہتر تفہیم ہوسکتی ہے۔ ملکی سیاست میں ڈیل اور ڈھیل کی کہانی اور ایک دوسرے کو ایسے معاملات میں موقع دینے جن کو مخالفین کرپشن اور بد عنوانی کو تحفظ دینے سے تعبیر کرتے ہوں ملکی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی سیاست ارتقاء کے جس دور سے گزر رہی ہے اور سیاستدانوں نے جن غلطیوں اور ایک دوسرے پر پردہ ڈالنے اور موقع دینے کی ریت اپنا رکھی ہے یہ زیادہ دیر پا نسخہ تو نہیں بن سکتا مگر یکے بعد دیگرے اقتدار کے سنگھا سن پر بیٹھنے کے لئے یہ ایک کار آمد عنصر ضرور بن چکا ہے۔ ملکی سیاست میں موروثیت اور خاندانی سیاست ہی ڈیل اور ڈھیل کی بنیاد ہے۔ جب تک اس کا خاتمہ نہیں ہوتا اس کار گر نسخے کو بھی غیر موثر بنانا ممکن نہ ہوگا۔ اس نسخے کو غیر موثر بنانے کے لئے عوام کو متبادل قیادت کو سامنے لانا ہوگا مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ عوام نے اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جن پر تکیہ کیا تھا وقت آنے پر نہ صرف وہ ہوا دینے لگے بلکہ ان عناصر کی کمزور حکمت عملی اور بے وقت کی راگنی ایک مرتبہ پھر موروثی سیاست کی برتری کے خدشات جنم لینے کا باعث بن رہا ہے۔ ملک میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں جب تک کوئی تیسری موثر قوت سامنے نہیں آئے گی یا پھر چھوٹی جماعتیں مل کر کوئی موثر اور متبادل قیادت سامنے نہ لائیں اس وقت تک ڈیل اور ڈھیل کی سیاست سے نجات ممکن نہیں۔ ایسے میں محولہ عناصر ہی پر منحصر ہوگا کہ وہ ملکی سیاست میں کن سے اور کس حد تک ڈیل کرتے ہیں اور ان کو کتنی ڈھیل ملتی ہے۔ معروضی حالات میں چھوٹی جماعتوں کی جانب سے کوئی متحدہ پلیٹ فارم اختیار کرنے کی بجائے سٹیٹس کو کی حامل قوتوں ہی کا ساتھ نبھانے اور اپنا الو سیدھا کرنے کا رجحان غالب دکھائی دیتا ہے۔ فی الوقت عوام کے مزاج میں بھی کسی ایسی تلملاہٹ کے آثار نہیں کہ مردہ کفن پھاڑ کر باہر آئے۔عوام کے پاس سیاسی عناصر اور حکمرانوں کے احتساب کا ایک اور زریں موقع آیا چاہتا ہے جسے اگر پہلے کی طرح ضائع کیا گیا تو وطن عزیز کی سیاست میں وہی عناصر چھائے رہیں گے جن سے چھٹکارا نہیں مل رہا۔

متعلقہ خبریں