افغان طالب علموں کو متاثر نہ ہونے دیا جائے

افغان طالب علموں کو متاثر نہ ہونے دیا جائے

طورخم سرحد کے کھلنے کے بعد آمد و رفت کے لئے ضروری قانونی دستاویزات کی مکمل پابندی اور خاصہ داروں کی جگہ ایف سی کی تعیناتی ایک ایسا سنجیدہ اقدام ہے جس سے سرحدی انتظامات کی شفافیت اور بہتری کی بجا طور پر توقع کی جاسکتی ہے۔ زیرو پوائنٹ پر خاصہ داروں کی تعیناتی کئی ایک خامیوں کا باعث تھی جس میں سے ایک رشوت ستانی اور اقرباء پروری بھی تھی جس کی ایف سی کے جوانوں سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ جس طرح کے حالات ہیں ان میں کسی نرمی کا مشورہ بے وقت کی راگنی ہوگی لیکن اس کے باوجود انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور اچھے ہمسائیگی کے تقاضے واسطے اس امر میں نرمی کے محفوظ طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے عملے اور خاص طور پر سرحد پار کرکے سکول آنے والے تین سو پچاس طالب علموں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ ٹرانسپورٹ کے عملے کی جانچ پڑتال اور ان کی آمد و رفت کے ضمن میں مشکلات کے حل کے لئے ان کے لئے خصوصی پاس جاری کرکے اور ان کا ریکارڈ رکھ کر سہولت پیدا کی جاسکتی ہے جبکہ سکول کے طالب علموں کا مسئلہ اس سے بھی سادہ اور سہل ہے جن کو خصوصی کارڈ جاری کرکے مخصوص وقت میں آنے اور جانے کی سہولت دی جائے اور ان کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔ اگر حکام ان کی تعداد میں کمی لانا چاہتے ہیں تو اس امر کی تصدیق کے بعد ہی ان طالب علموں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے جن کو روکنے سے ان کی تعلیم کا حرج ہوتا ہو۔ باقی جن کلاسوں کے طالب علموں کے لئے اگر افغانستان کی حدود میں سکول دستیاب ہوں تو ان کے والدین کو ان کو منتقل کرنے کا موقع دیا جائے۔ حکومت خیر سگالی کے طور پر ان کے لئے وہاں سکول قائم کرنے میں مدد دے اور بین الاقوامی امدادی اداروں سے ان کے لئے سکولوں کی تعمیر کے لئے رابطہ کیا جائے۔ خود افغانستان کی حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ اگر ممکن ہو تو سرحدی علاقے میں افغانستان کی طرف سکول قائم کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ چند اساتذہ کے لئے قانونی دستاویزات کے ساتھ سرحد پار کرنا ان بچوں کی بہ نسبت زیادہ آسان ہوگا بہرحال جب تک اس مسئلے کا کوئی موزوں حل نہیں نکل آتا سرحدی حکام سے گزارش ہے کہ وہ افغانستان کے پسماندہ اور سرحدی علاقوں کے بچوں کو تعلیم سے محروم نہ کریں بلکہ شفقت کا مظاہرہ کرکے ان بچوں کے دلوں میں ہمدردی کاجذبہ پیدا کرے۔
ٹیڑھی کھیر
اگرچہ وزیر صحت شہرام خان ترکئی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی حاضری یقینی بنانے کے آن لائن نظام کی کامیابی میں رطب اللسان ہیں اور ان کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کو بھی چیلنج کرنے کی کوئی وجہ نہیں لیکن عوامی کسوٹی پر ان کا دعویٰ جب تک پورا نہ اترے اور خلق خدا اس امر کی گواہی نہ دے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور عملے کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ہی ساتھ علاج معالجہ پر توجہ ادویات کی فراہمی یا پھر آلات تشخیص اور لیبارٹری سہولیات میں بہتری آئی ہے تب تک ان اقدامات کو احسن گرداننے کے باوجود لا حاصل ہی سمجھا جائے گا اس لئے کہ جن کی سہولت اور اطمینان کے لئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں اگر ان کی شکایات میں کمی نہیں لائی جاسکتی ہے تو اس نظام اور اس کے تحت کارروائیوں کا حاصل کیا؟ صوبائی حکومت نے ہسپتالوں میں بائیو میٹرک نظام کے تحت حاضری لگانے کا نظام رائج کرتے ہوئے بھی خوش امیدی کا اظہار کیا تھا لیکن عملی طور پر صورتحال برعکس ہے۔ عام مشاہدات کی بات ہے کہ انگوٹھا لگانے کی حد تک تو تدریسی ہسپتالوں کے ڈاکٹر حاضر رہتے ہیں مگر ضرورت پڑنے پر وہ کھانے اور نماز کے لئے گئے ہوتے ہیں۔ یا پھر ان کو کسی واش روم میں تلاش کرنے میں گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ مانیٹرنگ ٹیموں کے لئے محولہ عوارض کو نظر انداز کرنا ممکن نہ ہوگا۔ پھر ہر نظام کی خامیاں اور ان کو ناکام بنانے کے طریقے بھی ایجاد کرنے میں ہماری مہارت کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ان ساری مشکلات کا سادہ اور سہل حل ایماندار اور فرض شناس عمال کا تقرر ہے جس میں بد قسمتی سے حکومت تقریباً ناکا م ہے۔ ہسپتالوں میں سیاسی' سفارش اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر کلیدی عہدوں پر ایسے افراد براجمان ہیں جو کسی مریض کے لواحقین سے بات کرنے کو وقت کا ضیاع اور کار لا حاصل سمجھتے ہیں۔ اگرچہ لوگ تسلی کے دو بول بولنے میں عار محسوس نہ کریں تو عوام کی شکایات میں کمی آسکتی ہے۔محکمہ صحت کو چاہئے کہ وہ اپنی کارکردگی میں بہتری لائے جبکہ صوبے کے تین بڑے اور خود مختارتدریسی ہسپتالوں کی انتظامیہ خاص طور پر ہسپتالوں کے نظام کی بہتری عملی طور پر سامنے لانے کی ذمہ داری نبھائے اور عوام کو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔

متعلقہ خبریں