افغانستان میں امریکہ کا مستقبل

افغانستان میں امریکہ کا مستقبل

امریکی فوج کی اعلٰی قیادت کے ایک کمانڈر جنرل نکلسن نے افغانستان میں مزید نیٹو افواج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے ابھی تک افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ اپنے قیام کی مدت کو مزید طول دینے کے درپے ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو افغان جنگ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ ہوگی۔سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے جنرل نکلسن نے افغانستان میںحالات کو کشیدگی کا شکار قرار دیا ۔ دوسرے لفظوں میں جنرل نکلسن کے بیان نے افغانستان میں طالبان کی جیت کا واضح عندیہ دیا ہے۔ جنرل نکلسن کے علاوہ سینٹ کام کے چیف جنرل وٹل نے بھی سینٹرز کے سامنے اپنے دیئے گئے بیان میں فوج کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے جس کی وجہ انہوں نے نئی سٹریٹجی کا اطلاق بتائی ہے۔ جنرل وٹل نے جنرل نکلسن کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے نئی سٹریٹجی کی کامیابی کے لئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ حیران کُن طور پر، امریکی ڈیفنس سیکرٹری میٹس نئی افغان پالیسی کی حوالے سے بالکل خاموش ہیں اور اس سے زیادہ حیران کُن امر یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی تقریر کے دوران بھی نئی افغان پالیسی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لیکن ڈیفنس سیکرٹری نے سینٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے یہ اعتراف ضرور کیا ''ہمارا ملک اب بھی افغانستان میں جنگ لڑ رہا ہے اور اس وقت ہم شدید مسائل سے دوچار ہیں۔ طالبان نے ہماری کچھ فتوحات پر پانی پھیر دیا ہے''۔دوسری جانب، کچھ امریکی افسران اور دفاعی امور کے ماہرین ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان کی جانب سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی کاروائیاں کابل میں موجود امریکی حمایت یافتہ حکومت پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ان سب باتوں اور بیانات کے شور کے درمیان کوئی بھی فریق اس بات پر توجہ نہیں دے رہا کہ اگر ایک دفعہ جنگ شروع ہوجائے تو اس کو ختم کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ افغانستان کے مختلف حصوں میں افغان سیکیورٹی فورسز پسپا ہورہی ہیں لیکن دوسری جانب امریکہ نے زمینی حقائق پر سیاست کو ترجیح دیتے ہوئے افغانستان سے اپنی فوج کی ایک بڑی تعداد کو واپس بلا لیا ہے۔ کشیدگی زدہ علاقوں میں طالبان کی جارحیت کی وجہ سے افغان سیکیورٹی فورسز نے پچھلے دو سالوں میں شدید جانی نقصان اٹھایا ہے۔ یکم جنوری 2016ء سے 19 اگست 2016ء کے درمیان 5523 افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 9665 زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ 2017ء میں پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی کاروائیوں میں اضافے سے افغانستان کی مرمت اور بحالی کی امریکی کوششوںکو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دہشت گردی کی کاروائیوں میں اضافے کی ایک وجہ فوجی اور سول قیادت کی حالات کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں ناکامی بھی ہے۔ دہشت گردی کی کاروائیوں کی نتیجے میں معاشی اور معاشرتی اہداف کا حصول (جیسا کہ غربت کا خاتمہ، حقوقِ نسواں میں بہتری اور تعلیمی شعبے میں صنفی امتیاز کا خاتمہ) بھی مشکل ہوگیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے فوجوں کی واپسی کو ایک انتظامی فیصلہ قرار دیا گیا تھاجس سے نہ صرف افغان سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہوئے ہیں بلکہ شدت پسندوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اوبامہ انتظامیہ کی پالیسی کو سمجھتے ہوئے شدت پسند تنظیموں نے فوجوں کے انخلاء کا انتظار کیا جس کے بعد ان کی کاروائیوں میں شدت دیکھنے میں آئی جس سے نہ صرف افغان سیکیورٹی فورسز بلکہ امریکی افواج کو بھی نقصان اُٹھانا پڑا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلان نہیں کیا ۔ ٹرمپ جیسے صدر سے امریکی خارجہ پالیسی میں مکمل تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر ٹرمپ اپنے جرنیلوں کی جانب سے افغانستان میں مزید فوج کی درخواست پر عمل درآمد کرتے ہیں تو پاکستان کو خطے میں ایک مرتبہ پھروہی اہمیت حاصل ہوجائے گی جو کہ 9/11 کے بعد حاصل ہوئی تھی۔ لیکن اگر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں کرتے ہیں تو ان کو افغان اتحادی حکومت کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا جو کہ پہلے ہی پاکستان پر طالبان کی حمایت اور سرپرستی کے الزام عائد کرتی رہتی ہے۔حالیہ واقعات کے تنا ظر میں،پاکستان کی پالیسیوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کسی تیسرے فریق کی موجودگی میں ہی ممکن ہے۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تیسرا فریق کون ہوگا اور کیا پاکستان اس تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول کرے گا؟ اگر افغان حکومت کی بات کی جائے تو ملکی حالات کی کشیدگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ اختیارات کی جنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔ افغان حکومت کی قیادت انتخابی اصلاحات لانے کے علاوہ حکومتی اداروں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ اگر اوبامہ اپنے دعوئوں کے مطابق افغانستان میں مزید30000 فوجی بھیج دیتے تو حالات کنٹرول میں ہوتے لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے طالبان کو مظبوط ہو کر اپنی کاروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا موقع مل گیا۔ نئے صدر سے یہ امید کی جارہی ہے کہ وہ افغانستان کی پیچیدہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حالات کا مناسب تجزئیہ کرنے کے بعد ہی افغانستان پالیسی کا اعلان کریں گے۔ لیکن یہاں پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ صرف چند ہزار مزید فوجی بھیجنے سے صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی نہیں آئے گی۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک سہ طرفی پالیسی اپنائی گئی تھی جس میں افغانستان کی مرمت و بحالی، طالبان کے خلاف جنگ اور منشیات کی غیر قانونی تجارت پر قابو پانا شامل تھا لیکن یہ پالیسی خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ افغانستان میں 1 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرچکا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہورہا ہے ۔ دوسری طرف طالبان کے ساتھ مفاہمت کی امیدیں بھی دم توڑ چکی ہیں جس کی وجہ سے امریکہ کو افغانستان میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مشکلات سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ کو ایک جامع پالیسی وضع کرنی ہوگی۔

بشکریہ: ڈان ترجمہ: اکرام الاحد

متعلقہ خبریں