ہیلری کلنٹن کیا کہتی ہے؟

ہیلری کلنٹن کیا کہتی ہے؟

کسی ملک کی ترقی سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر نا ممکن ہے ۔ وہی اقوام ترقی اور کامرانیوںکی منزلیں طے کرتی ہیں جو سائنس اور ٹیکنالوجی میں اہم اور ممتاز مقا م حاصل کرتی ہیں۔ فی زمانہ بہت ساری ایجادات ہوئیں۔ حقیقت میں بیسویں صدی ایجادات اور سائنسی کامرانیوں کی صدی تھی۔ سائنسی ایجادات کی بدولت زندگی آسان اور سہل ہوگئی ۔ انسان اب تھوڑی سی محنت سے تھوڑے وقت میں بہترین نتائج حاصل کرسکتا ہے۔ اب جبکہ ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوچکے ہیں ،ہمیں بُہت کچھ کرنا ہوگا۔ اور سائنسی ایجادات کے ساتھ ہمیں مذہب ،ادب ، فنون لطیفہ ، سماجی اور معاشرتی علوم کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔ فی زمانہ پوری دُنیا میںاور خاص طور پر تیسری دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بزنس ایڈمنسٹر یشن کے بُہت ادارے وجود میں آرہے ہیں اور ہم ہر وہ کام کر رہے ہیں جس سے ہمیں مادی اور مالی فائدہ پہنچتا ہو۔ مگر بدقسمتی سے مذہب ، ادب، فنون لطیفہ، معاشرتی علوم، سوشل سائنس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ پنجاب یو نیور سٹی کے وائس چانسلر نے کیا خو ب بات کہی، کہتے ہیں کہ جس طرح زندگی کے ہر شُعبے میں مادہ پرستی کا رُجحان بڑھتا جا رہا ہے اس طرح ہمارے تعلیمی نظام میں مادہ پر ستی کا زیادہ عمل دخل ہے ۔ طالب علم اُن مضامین میں زیادہ دا خلے لینے کی کو شش کر تا ہے جس میں اس کو زیادہ مالی اور مادی فائدہ ہو تا ہے۔ سا ئنس نے جو ترقی کرنی تھی وہ تو کر لی اور اس کی ترقی کے اور بھی امکانات ہیں ۔ مگر بدقسمتی سے ہم سائنس کی ترقی سے اُ س وقت تک مُستفید نہیں ہو سکتے جب تک ہم بشریت، معا شرتی علوم اور انسانی رویوںسے صحیح طور آشنا نہ ہوں۔ سائنس جو دورُخی تلوار ہے اسکو اچھے کی بجائے غلط کاموں کے لئے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آج کا انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنی نوع انسانوں کے فائدے کی جگہ انسانوں کی تباہی اور بربادی کے لئے زیادہ استعمال کر تا ہے۔ موجودہ دورمیں زندگی تیز سے تیز تر ہو تی جا رہی ہے ۔ انسانی رویوں اور زندگی میں حد سے زیادہ تیزی آئی ہے جو عقلی اور استدلالی نہیں اور جسکی وجہ سے انسان بے چینی اور بے سکونی کا شکار ہے۔ آج کا انسان انسانیت سے دورہٹتا جا رہا ہے ۔ ہمدردی، محبت خلوص اوربھائی چارہ کی جو فضا آج سے کچھ عرصے پہلی تھی ،ختم ہو تی جا رہی ہے ۔ انسان ایک دوسرے کی تباہی اور بربادی کی طرف مائل ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے آج کل کے طالب علم اُن مضامین کا چنائو توکر تے ہیںجن سے اُسکو مادی اور مالی فائدہ ہو تا ہے مگر سوشل سائنس ، آرٹس اور دوسرے معاشرتی علوم کی طرف کو ئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا جو ملکی کلچر اور روایات کو سُنوارنے اور بنانے میںبہت اہم کر دار ادا کر تا ہے اُ سکے پروگراموں اور خا ص کر ڈراموں میںایسے کردار پیش کیے جاتے ہیں اور منظر کشی کی جاتی ہے جو ہماری اخلاقی قدروں، روایات اورثقافت سے قطعاً ہم آہنگ نہیں ہو تے۔ بعض اوقات تو اپنے ملک کے پروگراموں اور ڈراموں کو دیکھ کر ایسا لگتا جیسے ہم کسی اور ملک کے پروگرام اور ڈرامے دیکھ رہے ہیں۔ پوری دنیا کے دفا عی اخراجات 1700بلین ہیں ۔ جس میں صرف امریکہ کا حصہ آدھا یعنی 700 بلین ڈالر ہے۔ اور سارے کا سارا بجٹ اسلحے کی خرید وفروخت پر صرف ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ خطیر رقم انسان کی تباہی اور بربادی پر خرچ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر تیسری دُنیا کے مما لک کے بجٹ کو دیکھا جائے تو یہ غریب مما لک اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ اپنے دفاع پر خرچ کرر ہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے دفاعی اخراجات 9 ارب ڈالرز ہیں جبکہ بھارت دفاع پر60 بلین ڈالرز خرچ کر رہا ہے ۔ اسی طرح یہ دونوں مما لک بُہت بڑی رقم انسا نوں کی فلاح وبہبود کی جگہ انسانوں کی تباہی اور بربادی پر خرچ کر تے ہیں۔جس میں بھارت کی جنونیت بھی شامل ہے۔یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے غُر بت کی لکیر سے نیچے رہنے والے لوگ سب سے زیادہ اسی خطے میں ہیں۔ اگردونوں ممالک اپنے دفاعی بجٹ کو اپنے ملک کے لوگوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کریں تو اس سے کروڑوں لوگوں کو فائدہ ہو سکتا ہے اور لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں سائنسی علوم کی جگہ مذہب، معاشرتی علوم جس میں انتھرو پولوجی، سوشیالوجی اور ادبیات شامل ہیںکو فروغ دینا ہو گا۔ اگر ہم واقعی سا ئنسی ترقی اور کامرانیوں سے فائدہ اُٹھا نا چا ہتے ہیں تو ہمیں سائنس کے ساتھ ساتھ مذہب، سوشیالوجی اور ادبیا ت ز کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔ ملک میں سوشل سائنز کے اداروں کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے ملک کے ادیبوں شاعروں اور آرٹسٹوں کو انسانوں کی تربیت کرنے کے لئے استعمال کرنا ہو گا۔ہمارے مذہبی سکالروں، ادیبوں، لکھاریوں، صحافیوں، الیکٹر ا نک اور پرنٹ میڈیا کے اہل کاروں کو اپنے فن پاروں اور تحریروں کی وساطت سے کو شش کرنی ہوگی کہ انسانی رویوں کو اعتدال پر لائیں اور اُ س میں ایسی مُثبت تبدیلیاں لائی جائیں جو بنی نوع انسانوں کی فلا ح و بہبود کے لیے ہوں۔ امریکہ کی صدارتی اُمیدوار اور امریکہ کی سابق و زیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ اب دنیا اور امریکہ کو مذہب اور فیملی سسٹم کا احیاء کرنا ہوگا۔کیونکہ امریکہ کے معاشرے کا احیا دین اور فنون لطیفہ کے احیا سے ہوگا۔

متعلقہ خبریں