اسلامی تہذیب سے مغرب کے خدشات

اسلامی تہذیب سے مغرب کے خدشات

بیسویں صدی کے نصف تک تقریباً ساری اسلامی دنیا مغرب کے تسلط سے آزاد ہو چکی تھی اور مسلمان بہت تیزی کے ساتھ اپنے ڈیڑھ صدی کے غلامانہ اور محکومانہ دور کے اسباب ونتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے اصل کی طرف لوٹنے کی شعوری کو ششوں میں مشغول ہوگئے۔ اس صدی میں عالم اسلام کی بیداری اور نشاة ِ ثانیہ کی بڑی بڑی تحریکیں رونما ہوئیں ۔ اور یہ سب تحریکیں علم اور ذہنی بیداری کی بنیاد پر تھیں ۔ ان میں تشدد اور انتہا پسندی کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔بر صغیر پاک و ہند اس حوالے سے بہت زرخیز رہا ۔ کیونکہ اس میں جو تحریکیں اُس وقت وجود میں آئیں ، اُن کی طرح تحریکوں کا باقی اسلامی دنیا میں اتنا زور نہیں تھا ۔ ہندوپاک کے پہلے مجدد (شیخ احمد سرہندی ) ایسے مجدد کہ جن کا نام ہی مجدد پڑ گیا ۔ یہ وہ دور تھا کہ زمانہ ہی پلٹ گیا تھا ۔ مشرق نے مغرب کی جگہ اور مغرب نے مشرق کی جگہ لے لی تھی گویا زمین کی کایا پلٹ گئی تھی ۔ اور سورج مشر ق کے بجائے مغرب سے نکلنے لگا تھا اور آج تک مغرب سے نکل رہا ہے ۔ عین ممکن تھا کہ خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ایک دفعہ اپنے اپنے ملکوں میں آزاد رہ کر مسلمانوں کے اتحاد اور ان کے مابین تعامل اور تعاون کی راہیں تلاش کی جاتیں ۔ لیکن امریکہ اور مغرب نے بہت چالاکی ، مستعدی اور ہوشیاری کے ساتھ اسلامی ملکوں میں اقتدار کی باگ ڈور اُن لوگوں کے ہاتھوں میں تھما ئی ، جو اُن کی ہاں میں ہاں ملانے والے اور شاہ سے زیاد ہ کے شاہ کے وفادارتھے ۔ لیکن مسلمانوں کی سخت جانی کا اندازہ لگائیے کہ پھر بھی اسلامی تحریکوں کی نشاة ِ ثانیہ کے لئے کوششوں سے باز نہ آئے ۔ اور یہ جدوجہد یہاں تک جاری رکھی کہ قریب تھا کہ بہت سے اسلامی ملکوں میں'' جمہوریت ''ہی کے ذریعے اسلامی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے ، لیکن نائن الیون اور اس قبیل کے دیگر واقعات نے اسلامو فوبیاکو جنم دیا ۔ اسلامو فوبیا کے ساتھ دہشت گردی کو بغیر کسی متعین تعریف کے آزادی کے حصول کے لئے چلنے والی تحریکوں سے بھی اس انداز میں منسلک کر دیا کہ تحریک آزادی کشمیر اور فلسطینی جدوجہد آزادی بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ۔ اس کے بر عکس عالمی قوتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں مسلمانوں کے اچھے بھلے آزادملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجاد ی ۔ اکیسویں صدی کا سب سے بڑاا لمیہ یہ بھی ہے کہ مغرب نے ایسی اصلاحات وضع کرلی ہیں جن کی وہی تشریحات قبول ہونگی جو اُن کو موافق لگے ، اس لئے سیکولرازم ایکسٹریمزم ، کیپٹل ازم ہیومنزم اور اسی طرح دیگر ازمز کی مختلف اوقات میں مختلف تعبیریں ممکن ہوئی ہیں ۔ نائن الیون اور اس جیسے دیگر واقعات کا خالص نچوڑ یہ نکالا گیا کہ اسلامی دنیا میں کچھ عناصر ایسے موجود ہیں جو مغرب کی ترقی اور ترقی یافتہ تہذیب سے خار کھاتے ہیں ۔ لہٰذا ان کا خاتمہ ضروری ہے ۔ اس آڑ میں ساری اسلامی دنیا کے خلاف ایسی فضا اور ماحول پیدا کیا گیا کہ مغرب میں اسلام اور مسلمانوں سے ایسی اسلاموفوبیا پیدا ہوئی جو نفرت میں تبدیل ہوئی اور پھر عراق اور لیبیا جیسے ملکوں پر جھوٹ بول بول کر حملے کئے گئے ۔

اسلامی دنیا کا دوسراالمیہ یہ رہا کہ بیسویں صدی میںجہا ں احیائے اسلام کی تحریکیں اُٹھیں وہاں اُس کے ساتھ متوازی طور پر نئے علوم کی تخلیق کی تحریکیں نہ اُٹھ سکیں ۔ جس نے مسلمان ممالک کو مغرب کے مقابلے میں کمزور کیا ۔ آبادی اور وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود کوئی مسلمان ملک مغرب کے کسی چھوٹے سے ملک کا بھی اقتصادی اور عسکری قوت کے لحاظ مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ بعض مسلمان اقتصادی لحاظ سے اچھے ہیں تو عسکری یا دفاعی لحاظ سے کوئی وزن نہیں رکھتے اور پاکستان ایٹمی قوت ہے لیکن معاشی لحاظ سے امریکہ اور مغرب کا مقروض اور حسن اتفاق سے عراق جیسا ایک آدھ ملک دونوں لحاظ (معاشی و عسکری ) سے ابھرنے والا تھا ، تو اسرائیل نے دن دہاڑے اُس کے ایٹمی پلانٹ پر بمباری کر کے تباہ کیا اور امریکہ و برطانیہ کی افواج نے نو شیر وان عادل کے بغداد کے بخیئے ادھیڑ کے رکھ دیئے امت مسلمہ کے عوام میں (حکمرانوں میں نہیں ) ایک عرصہ سے ایک ہونے کی خواہش اور آرزوموجود ہے ۔ ظاہراًآج کے ماحول میں خلافت کا احیا ممکن نظر نہیں آرہا لیکن مغرب کو معلوم ہے کہ یہ ناممکن بالکل نہیں ہے لہٰذا اسلامی دنیا میں جب کوئی تحریک چلنے لگتی ہے اور اُس کا مقصد اور ہدف مسلمانوں کی فلاح وبہبود ہوتا ہے تو مغرب اپنی مضبوط انٹیلی جنسیااور پیڈیا کے ذریعے اُس میں ایسے طریقے سے نفوذ وسرایت کر جاتا ہے کہ اُس میں ایسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ لوگ اُسے فساد سے تعبیر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ حالانکہ عالم اسلام کی اکثر تحریکں اخلا ص اور اصلاح کی بنیاد پر اُٹھتی ہیں ، لیکن مغرب کے نفوذ و اثرات کے سبب یہ تحریکیں خود مسلمانوں کے خلاف کام کرنے لگتی ہیں اور نتیجتاً مسلمان ممالک کا انفراسٹر کچر تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے اور ایک کنفیوژن اور فساد کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور کسی کو کچھ سجھائی نہیں دیتا ''عرب اسپرنگ '' کتنے زور وشور سے اُٹھی اور اس سے کیا امیدیں بندھ چلی تھیں ، لیکن نتیجہ کیا ہو ا؟ ۔ داعش بغداد سے اُٹھی شام سے ہوتی ہوئی افغانستان تک پہنچی لیکن اب اُس کی سرگرمیاں خود مسلمان ممالک اور عوام کے خلاف ہو کر مسلمانوں ہی کے نقصان کا باعث بن رہی ہیں ۔ آج پورا عالم اسلام انتشار کا شکارہے اور ایک خلفشار برپا ہے جس کی کسی کو کچھ سمجھ نہیں ہے ، لیکن یہ بات ظاہر و باہرہے کہ اس سے مسلمانوں اور مسلمان ممالک کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے لہٰذا مسلمان حکمرانوں کو چاہیئے کہ او آئی سی کی سطح پر ایک ہو کر امت مسلمہ کو اس مصیبت سے نکالیں اور مسلمان عوام فرقہ واریت سے باز آکر ایک امت میں سمو جائیں ۔

متعلقہ خبریں