خوشگوار تبدیلی کا احساس

خوشگوار تبدیلی کا احساس

2013ء کے انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو ان پر الزام لگا کہ پی ٹی آئی کے پاس تجربہ کار ٹیم نہیں ہے اور اچھی ٹیم نہ ہونے کی بنا پر پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں قابل ذکر کارکردگی نہیں پیش کر پائے گی،چار سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد یہ الزام کسی حد تک آج بھی دہرایا جاتا ہے۔ لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے چند کارہائے نمایاں ایسے ہیں کہ دیگر صوبوں کی حکومتیں اس کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی میں چند لوگ واقعی اس قابل ہیں کہ ان کی محنت ،لگن اور مثبت کاموں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی اورمیری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ جو محسوس کروں وہی تحریر کروں۔ 

مثال کے طور پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا تعمیر سکول پروگرام خیبرپختونخوا کی تاریخ کا انقلابی اقدام ہے جس کے ذریعے پیرنٹس ٹیچرز کونسلز کے ذریعے صوبے کے 30 ہزار سرکاری سکولوں میں 43 ارب روپے کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، اگر تعصب کی عینک اتار کر ہم دیگر صوبوں سے کے پی کے کے تعلیمی معیار خاص کر سرکاری سکولوں میں سہولیات کے حوالے سے جائزہ لیں تو ماضی کی نسبت واقعی سکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر کام ہوا ہے اور بہتری نظر بھی آرہی ہے۔ایک پڑھا لکھا اور مہذب معاشرہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب شعبہ تعلیم کی بہتری پر زور دیا جائے اور عملی طور پر اس سلسلے میں اقدام اٹھائے جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بحالی اور معاشرے کو پرامن رکھنے کیلئے تھانے کا کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے ،کہا جاتا ہے کہ اگر پولیس ٹھیک ہو جائے تو پورا معاشرہ ٹھیک ہو سکتا ہے،سو پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں پولیس اور تھانے کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اور پولیس کو عوام دوست بنانے کیلئے اپنے تئیں بھر پور کوششں کی ہے گو ابھی اس سلسلے میںطویل سفر طے کرنا باقی ہے کیونکہ برسوں کی خرابی ایک دم سے سدھرنے والی نہیںلیکن یہ حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کی پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اوراس بہتری کادوسرے صوبوں میں میں بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں سے چونکہ عوام و خواص کو واسطہ رہتا ہے اس لئے پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام کو علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچانے کیلئے فعال کردار ادا کرتے ہوئے صوبے میں سرکاری ہسپتالوں کی بلاشبہ کارکردگی بہتر کی ہے ۔
گو اس سلسلے میں پی ٹی آئی کو ڈاکٹروں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے سخت اقدام اٹھائے ہیںاور آج صوبے کے لوگوں کو علاج کے لئے اسلام آباد یا پنجاب نہیں جانا پڑتا۔جہاں تک میرا خیال ہے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے جنگلات کی حفاظت اور اہمیت کے پیش نظرقابل ستائش اقدام اٹھائے ہیں یہی وجہ ہے کہ محکمہ جنگلات، سی اینڈ ڈبلیو، ایری گیشن اور واپڈا کی ملکیتی77 ہزار کنال اراضی قابضین سے واگزار کرائی جاچکی ہے جس پر اب پودے لگائے جارہے ہیں۔ قابضین سے اراضی واگزار کرانے کے دوران ٹمبر مافیا اور لینڈ مافیا کے ہاتھوں اب تک چار سرکاری اہلکار شہید جبکہ تین اہلکار زخمی بھی ہوچکے ہیں۔صوبے میں جنگلات کی حفاظت اور بلین ٹری پروجیکٹ کی کامیابی کا سہرا گوپی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی ذاتی دلچسپی کو جاتا ہے لیکن اس منصوبے کو عملی شکل سیکرٹری جنگلات وماحولیات نے انتھک محنت کے ذریعے دی ہے۔
آپ اسلام آباد سے پشاور جائیں تو پشاورٹول پلازہ کے فوری بعد یونہی پشاور میں داخل ہوتے ہیں تو دائیں بائیں خوبصورت پھولوں کی مہک محسوس کیے بغیر آپ رہ نہیں پائیں گے، پشاور میں داخل ہونے والوں کو یہ پھول خوشگوار تبدیلی کا احساس دلاتے ہیں ، اسی طرح پشاور سے اسلام آبادموٹروے پر جانے سے تھوڑا پہلے کمبوہ اڈا کے قریب جب اسلام آباد موٹروے پر چڑھنے کیلئے جاتے ہیں تو بائیں طرف خوبصورت پھولوں سے سجا ایک پارک دکھائی دیتا ہے جس میں شام کے وقت اکثر بچے کھیل رہے ہوتے ہیں، کچھ فیملیز بھی بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ علاقہ ایک وقت میں گندے پانی کے جوہڑ کا منظر پیش کرتا تھا سیکرٹری ماحولیات نے خصوصی طور پر دلچسپی لیکر پہلے مرحلے میں اس کی صفائی کرائی اور دوسرے مرحلے میں پھول بوٹے لگاکر اس جوہڑ نما جگہ کو پارک میں تبدیل کر دیا۔گلوبل وارمنگ کے بعد یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ جنگلات کی حفاظت اور ان کے رقبے میں اضافہ کرنا پاکستان کی اولین ضرورت بن چکا ہے۔ درجہ حرارت اور بارش کی مقدار اور اوقات میں جو ممکنہ تبدیلیاں آئیں گی ان کے نقصان دہ اثرات کو زائل کرنے کے لیے جنگلات کا موجودہ رقبہ کافی نہیں ہو گا اور کچھ ہی عرصہ میںپاکستان کے موسموں میں واضح تبدیلی آچکی ہے۔موسمیاتی تغیر کے تناظر میںضرورت اس امر کی ہے کہ کے پی کے حکومت کی طرح جنگلات کی حفاظت اور پودے لگانے کا منصوبہ پورے پاکستان میں شروع کیا جائے کیونکہ ہم نے اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے اور اپنے ہونہالوں کو صاف ستھرا اور خوبصورت پاکستان دے کر جانا ہے کیونکہ جو پودے ہم آج لگائیں گے کل ہماری آنے والی نسلیں اس کا پھل کھائیںگی۔

متعلقہ خبریں