مشرقیات

مشرقیات

مقتدر باللہ کے بعد اس کے بھائی ابو منصور محمد بن معتضد باللہ تخت نشین ہوا ۔ اس سے بیعت غالباً ماہ شوال کی اختتامی دو راتوں میں بغداد میں لی گئی تھی ۔ جب اسے خلیفہ بنایا گیا تو اس نے اپنے بھتیجے مکتفی باللہ کو گرفتار کرالیا ۔پھر مکتفی کو ایسے گھر میں رکھا گیا ، جسے اینٹوں اور گچ سے بند کر دیا گیا تھا ۔ آخر کار مکتفی اس حالت میں انتقال کر گیا ۔
اسی طرح قاہرنے مقتدر کی ماں سیدہ کو بھی گرفتار کرالیا اور ان سے اتنا فدیہ کا مطالبہ کیا ، جو اسکی طاقت و سکت سے زیادہ تھا ۔ اس کو ڈرایا دھمکایا ، مارا اور اذیتیں دیں ۔ طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا کیا ، یہاں تک کہ سید ہ کو الٹا لٹکا یا اور سیدہ یہ کہتی تھی کہ کیا میں کتاب الٰہی کے مطابق تمہاری ماں نہیں ہوتی ؟ کیا میں نے پہلی مرتبہ اس سے قبل اپنے بیٹے سے تجھے نجات نہیں دلوائی ؟ اس کے باوجود تم مجھے سزائیں دے رہے ہو ۔ فدیہ اس وقت مانگ رہے ہو ، جب کہ میرے پاس مال و دولت ختم ہو گیا ہے ۔ پھرتھوڑے عرصے کے بعد سیدہ کا انتقال ہوگیا ۔ کچھ دنوں کے بعد قاہر بااللہ کے فوجیوں نے بغاوت کردی ۔ فساد برپا کر کے دیوان کے ہر گیٹ سے حملہ کر دیا ۔ آخر کار قاہر غسل خانہ کی چھت پر بھاگ کر کسی جگہ چھپ گیا ۔ تھوڑے عرصے کے بعد فوجیوں نے آکر اسے قید کر لیا ۔ خلافت سے معزول کر کے آنکھیں نکال لیں ۔ غالباً یہ واقعہ ماہ جمادی الثانیہ 322ھ میں پیش آیا۔ ابن المبطریق لکھتے ہیں کہ قاہر باللہ نے گھنائو نے قسم کے جرائم کئے تھے ، جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی پھر اس کے بعد ایک طویل مضمون لکھا ہے ۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں بغداد کی جامع مسجد منصور میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا چہرہ مسخ ہے ، جسم پر زرد رنگ کاجبہ اور روئی کا گدا ہے ۔ اس حالت میں وہ یہ کہہ رہا ہے کہ '' لوگو ! تم میری صدقات وغیرہ سے مدد کرو ۔ کل میں امیر المومنین تھا اور آج میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ فقیر ہوگیا ہوں ۔ ''میں نے لوگوں سے پوچھا کہ بھائی ان کے بارے میں کیا معلومات ہیں تو مجھے یہ بتا یا گیا کہ یہ قاہر باللہ ہے ۔ اس واقعہ سے لوگوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیئے۔ (حوالہ حیات الحیوان 1/258)
امام اعظم ابو حنیفہ کے صبر و تحمل ، اور فکر آخرت کا یہ عالم تھا کہ ایک موقع پر کسی خارجی نے امام صاحب کو برا بھلا کہا ، غلیظ گالیاں دیں ۔۔۔ اما م صاحب نے جواب میں ارشاد فرمایا : حق تعالیٰ تجھے معاف فرمائے تو جو کچھ کہہ رہا ہے ، خدا جانتا ہے کہ وہ مجھ میں نہیں ہے ۔ اس کے بعد اما م اعظم ابو حنیفہ پر گریہ طاری ہوا اور فرمانے لگے میں بھی خدا سے عفو کی امید رکھتا ہوں ، مجھے خدا کا عذاب رلاتا ہے ۔ عذاب کے تصور سے گریہ بڑھ گیا اور روتے روتے غش کھا کر گر گئے ۔ جب افاقہ ہو ا تو فرمانے لگے : اے باری تعالیٰ جس نے مجھ پر ایسی بات کہی ، جومجھ میں نہیں تھی ، اس کو معاف فر ما ۔ (عقود الجمان )

متعلقہ خبریں