امریکی وزیر خارجہ کا دورہ

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کے دورے پر روانہ ہونے کے بعد سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جس کے بعد وہ پاکستان اور بھارت بھی آئیں گے اور بھارت میں ان سے افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی ملاقات کریں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء پالیسی کے اعلان اور اس کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دورۂ امریکہ کے بعد یہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس دورے کے شروع ہونے سے پہلے امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کی ہیں جن سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ قوت کے بل پر افغانستان کا مسئلہ حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ طالبان نے بھی افغانستان کے سرکاری ٹھکانوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے یعنی امریکہ کی قوت کے استعمال کی پالیسی کی مزاحمت کا اظہار کر دیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی فضائی کارروائیوں میں ایک نمایاں عنصر یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کارروائیاں پاک افغان سرحد کے قریب بھی کی گئی ہیں جہاں پاکستان مخالف تحریک طالبان پاکستان کے عناصر روپوش ہیں۔ ڈرون حملے میں عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق تحریک طالبان پاکستان نے کر دی ہے اور خالد عمر خراسانی کے بارے میں بھی ایسی ہی اطلاعات تھیں جس کی اگرچہ ان کے نائبین نے تردید کی ہے تاہم اس کی جگہ نئے امیر کے تقرر کے اعلان سے یہ اندازہ کرنا درست ہو گا کہ خالدعمر خراسانی ڈرون حملے میں زخمی ہونے یا علالت کی وجہ سے اپنے گروپ کی قیادت کے لائق نہیں رہے ہیں۔ یہ حملے اس لیے اہمیت کے حامل ہیں کہ پاکستان کی طرف سے ان الزامات کے جواب میں کہ پاکستان سے جا کر دہشت گرد افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ امریکہ اور افغانستان افغان سرزمین میں موجود پاکستان مخالف شدت پسندوں کو روکیں جو پاکستان آ کر دہشت گردی کرتے ہیں۔ اس طرح امریکہ نے پاکستان کا ایک گلہ دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے سخت گیر رویے میں تبدیلی امریکی کینیڈین جوڑے کی طالبان کی قید سے بازیابی میں پاکستان کے اداروں کی کامیابی کے بعد منظرِ عام پر آئی۔ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ امریکہ کے دعوے کے برعکس پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ اور اب پاکستان کی بجائے دنیا کی ذمہ داری ’’ڈومور‘‘ کی ہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی کہ امریکہ نشاندہی کرے پاکستانی فورسز خود اگر دہشت گردوں کے کوئی محفوظ ٹھکانے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کریں گی۔ امریکہ نے امریکی کینیڈین جوڑے کی منتقلی کی نشاندہی کی اور پاکستانی فورسز نے اسے بحفاظت بازیاب کر الیا۔ اس سے امریکہ پر اخلاقاً یہ لازم ہو گیا ہے کہ وہ پاکستان کا دعویٰ تسلیم کرے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں یا ایسے اڈوں کی نشاندہی کرے۔ امریکی سی آئی کا یہ دعویٰ کہ امریکی کینیڈین جوڑے کو پانچ سال تک پاکستان ہی میں رکھا گیا تھا پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش تھی۔ لیکن امریکہ کی طرف سے یہ کہا جا چکا ہے کہ اس امریکی کینیڈین جوڑے کی افغانستان سے منتقلی کو امریکی ادارے فضا سے مانیٹر کر رہے تھے۔ اس لیے سی آئی اے کے دعوے کی بات آگے بڑھتی نہیں اور پھر خود ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سینئر امریکی حکام اس جوڑے کی بازیابی پر پاکستان کی فوج کی تعریف کر چکے تھے۔ تاہم ریکس ٹلرسن کا دورہ اگر بالکل ناکام ہو جاتا ہے جس کا امکان کم ہے تو سی آئی اے کی کہانی کو مزید مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا جا سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے چند روز پہلے کہا تھا کہ وہ جنوبی ایشیاء کے دورے کے دوران پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرانے کی بھی کوشش کر یں گے ۔ اس دورے سے پہلے بھارت نے پاکستان کے مریضوں کو بھارت میں علاج کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ نے پاکستان کے سفیر سے بھی ملاقات کی ہے۔ جس کے بارے میں پاکستان کے میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ بھارت کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر نظرِ ثانی کی بات ہوئی ہے۔ اور پاکستان کا دفتر خارجہ کہہ رہا ہے کہ محض تعارفی ملاقات ہوئی ہے اور بس۔ تاہم ایک نقطۂ نظر یہ ہے پاکستان کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم ہو جائے۔ یوں بھی جب تک کلبھوشن زندہ ہے تو وہ پاکستان کے پاس بھارت کے دشمنانہ رویے کا زندہ ثبوت ہے ، اگر زندہ نہیں رہتا تو چند دن میں قصہ پارینہ ہو جائے گا۔ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ٹلرسن پاکستان میں کشمیریوں کی حمایت کو ختم کرانے کی بات بھی کریں گے اور اس کے لیے بھی یہ ضروری ہو گا کہ بھارت کی سرحدی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں پر مظالم میں کمی آئے۔ ٹلرسن سے مذاکرات سے پہلے ممکن ہے بھارت کی کوشش ہو کہ پاکستان کے ساتھ پرامن رویہ کا تاثر قائم ہو سکے۔ ٹلرسن کے مقاصد میں ایک بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈوژن کے مقابلے میں امریکہ کا آسٹریلیا اور بھارت کو ملانے کا بحری راستہ بنانے کا جو منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے اس میں پاکستان اور بھارت کو یکجا کیا جائے۔ پاکستان میں امریکی وزیر خارجہ یہ چاہیں گے کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں طالبان کو راضی کرے۔ ایسے مذاکرات سے پہلے امریکہ فضائی حملوں کے ذریعے طالبان کو کمزور پوزیشن میں لانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ لیکن کسی بھی جنگ کا فیصلہ زمین پر ہوتا ہے ۔ اس کے لیے یہ بھی امکان ہے کہ امریکہ بھارت کو افغانستان میں عسکری کردار بھی دینے کی بات کرے۔ ٹلرسن کے دورے سے پہلے بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کی صدر اشرف غنی سے ملاقات معنی رکھتی ہے۔ جہاں تک افغان طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کی بات ہے یہ کسی نہ کسی سطح پر ہوتے ہی رہتے ہیں۔ نومبر میں متحدہ عرب امارات میں ایسے ہی مذاکرات ہونے والے ہیں۔ امریکہ کی مذاکرات سے پہلے افغان طالبان کو کمزور کرنے کی پالیسی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ اس سے افغانستان کے عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھے گی کیونکہ امریکہ ڈرون حملہ کرے خواہ طالبان خودکش حملے کریں افغان عوام ہی قتل ہوتے ہیں۔ سابق صدر حامد کرزئی کا یہ بیان قابلِ غور ہونا چاہیے کہ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی افغانستان میں خونریزی کا پیغام ہے۔ زمینی حملوں کے لیے اگر بھارتی فوج کو مامور کیا جاتا ہے تو یہ بھی بڑی غلطی ہو گی کیونکہ افغان غیر ملکیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ امریکی اور نیٹو کی افواج اسی لیے اپنے ٹھکانوں تک محدود ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے کہ اگر مشرقی محاذ سرد بھی کرا دیا جائے تو پاکستان افغانستان میں کسی قیمت پر فوج کشی کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ البتہ دہشت گردی کے خاتمے پر امریکہ سے تعاون ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھلے عام آمدورفت کو روکنا ضروری ہونا چاہیے۔ پاکستان کا پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی میں تعاون کا مطالبہ منطقی ہوگا۔ دوسرے پاکستان میں 30سے 35لاکھ افغان مہاجرین دہشت گردوں کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ ہیں خواہ وہ پاکستان میں کارروائیاں کریں خواہ افغانستان میں۔ امریکی کینیڈین جوڑے کے اغواء کار مہاجر کیمپ میں ہی غائب ہو گئے تھے جہاں ان کو تلاش کرنا جنگل میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ اس تلاش میں پاکستان کے چار فوجی پچھلے دنوں شہید بھی ہو گئے۔ اس لیے امریکی وزیر خارجہ کو افغان مہاجرین کی واپسی پر آمادہ کیا جانا چاہیے۔ اس دورے کے آخر میں وہ جنیوا بھی جائیں گے جہاں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین کے سینئر حکام سے ملاقات بھی کریں گے۔ وہاں وہ افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنانے کی شروعات کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں