وزارت داخلہ کو میاں نواز شریف کی ہدایت

وزارت داخلہ کو میاں نواز شریف کی ہدایت

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی حمایت کرنے والوں کی گم شدگی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مخالف سیاسی نقطۂ نظر کو جبراً دبانا قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ن لیگ کے حامیوں کو ہراساں کرنا آزادیٔ اظہار پر حملہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکمران ن لیگ کی وفاقی وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ راولپنڈی سے گرفتار ہونے والے افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ ان کی اس ہدایت کے ساتھ ہی خبر شائع ہوئی ہے کہ راولپنڈی سے فوج اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم انور عادل اور واجد رسول کی ضمانت منظور کرلی گئی ہے جنہیں 19اکتوبر کو ایف آئی آے نے گرفتار کیا تھا۔ اس طرح عجیب صورت حال سامنے آئی ہے کہ ن لیگ ہی کی حکومت کے ادارے نے دو افراد کو فوج اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا اور ن لیگ ہی کی قیادت اپنی ہی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کر رہی ہے۔ حکومت کے ادارے کا موقف ہے کہ ملزم فوج اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی ملک کے قانون میں اجازت نہیں۔ اور حکومت کی سیاسی قیادت کا موقف ہے کہ ملزم سیاسی نقطۂ نظر بیان کر رہے تھے جسے جبراً روکا گیا۔ اگرچہ اس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے کہ ملزموں نے کوئی جرم کیا ہے یا محض آزادیٔ اظہار کا حق استعمال کیا ہے تاہم صدر ن لیگ نے اپنا وزن اس فیصلے سے پہلے ملزموں کے پلڑے میں ڈال دیا ہے جن کے بارے میں ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تھا۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ن لیگ کے حامیوں کو ہراساں کرنا آزادیٔ اظہار پر حملہ ہے۔ یعنی میاں صاحب کا موقف ہے کہ ملزم جو کچھ کر رہے تھے وہ ن لیگ کی حمایت تھی جب کہ ایف آئی اے کا موقف ہے کہ ملزموں کو فوج اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ن لیگ حکومت کے ارکان اس بیان کے باعث ایک مخمصے میں گرفتار نظر آتے ہیں ، ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ پارٹی کی اداروں کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں ہے دوسری طرف ان کی قیادت ایسے ملزموں کی حمایت کر رہی ہے جن پر فوج اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈے کا الزام ہے۔

متعلقہ خبریں