ایسا ویسا کیوں ہو تا ہے

ایسا ویسا کیوں ہو تا ہے

افغانستا ن میں جمعہ کے دن کا بل میں واقع شیعہ مسلک کے لو گو ں کی مسجد میں کیے گئے خود کش حملہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے تاہم بعض میڈیا کے ذرائع کے مطابق اس دعویٰ کی تصدیق نہیںہو سکی ہے۔ یہ خود کش حملہ ایسے وقت کیا گیا جب کہ امریکی وزیر خارجہ ٹلر سن اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ افغانستان میں داعش نے کسی بڑے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش شاید کچھ طا قتو ں کوافغانستان میں اپنی موجودگی ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ ٹلر سن مشرق وسطیٰ کے دورے کے بعد پہلے بھارت جا ئیں گے اور بعد ازاں پاکستان کا دورہ بھی کر یں گے تاہم پاکستان اور بھارت کا دورہ کرنے سے پہلے امریکا میں ایک اہم تبدیلی یہ آئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی نمائند ہ خصوصی کی ٹیم کو تحلیل کر دیا ہے اور اس طرح دفتر خود بخود ختم ہو گیا ۔ دفتر ختم کرنے کی وجہ ملازمین کے کنٹر یکٹ کا خاتمہ بتایا گیاہے گویا دفتر کے خاتمے کا باقاعدہ اعلا ن نہیں کر نا پڑا ۔ افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی نما ئند ے کی تقرری سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا ء کے بعد کی گئی تھی اور سب سے پہلے مسڑ بینن کو اس کا سربراہ مقر ر کیا گیا تھا۔ اس دفتر کے خاتمے کے بعد اس خطے کے لیے امریکا کیا پا لیسی اختیا ر کرتا ہے ، بظا ہر تو یہ ہی لگتا ہے کہ کوئی نئی پا لیسی نہیں دی جا ئے گی بلکہ ٹرمپ کے جنوبی ایشیا کی پالیسی کو ہی عملی جا مہ پہنایا جا ئے گا ، جس میں بھارت کے کر دار کو آگے بڑھانا مقصود ہے ، افغانستان میں بھارت کو کردار تحویل کرنے کے بارے میں بار بار ذکر آتا رہا ہے چنا نچہ افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی دفتر کی مو جو د گی میں ایسا کرنا کسی حد تک دشوار تھا کیو ں کہ جب امریکا ان دوملکو ں کے لیے خصوصی نمائند ے کی تقرری کر رہا تھا تو اس وقت اس میں بھارت کا بھی نا م شامل تھا مگر بھارت نے تینوں کے لیے ایک نما ئند ے کی تقرری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔اب بھارت کو جنوبی ایشیاء میں اس کی خواہش کے مطابق کر دار تبھی تفویض کیا جا سکتا ہے کہ اسی دفتر کا دائر ہ کا ر بھارت تک پھیلا دیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ پاکستان اس کو قبول نہ کرتا کیو ں کہ وہ افغانستان میں بھارت کے کسی کر دار کو قبول کر نے کو تیار نہیں ہے چنانچہ خصوصی نما ئند ے کا دفتر تحلیل کر کے بھارت کے لیے سہو لت فراہم کی گئی ہے کیو ں کہ جنوبی ایشیا کے امور کے امریکی دفتر میں افغانستان اور پاکستان کی شمولیت سے بھارت کو بھی موقع فراہم ہو جائے گااور جنوبی ایشیا کے امور میںاس کے کر دار کا دائرہ بڑھ جائے گا ، جنوبی ایشیا کے امور کی ڈائریکٹر جنرل کولیز ا بھارت نو از ہیں اور ان کے بارے میں بتایا جا تا ہے کہ وہ بھارت نژاد بھی ہیں۔ پاکستان سے بغض اور بھارت سے ان کی چاہت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔پاکستان جس نے ہمیشہ امریکا کے مفادات کو پر وان چڑھا نے میںکردارادا کیا ہے مگر امریکا نے کبھی بھی اس کا اعتراف تو کجاپاکستان کے مفادا ت کو زد ہی پہنچائی ہے چنانچہ افغان اور پاکستان کے امور کے لیے نمائند ہ خصوصی کے دفترکا خاتمہ زد پہنچانے کی مساعی ہی تو ہے ، جب نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تو اس وقت کے پاکستانی فوجی ڈکٹیٹر پرویزمشرف نے امریکا کے لیے دل فراش کر دیا ایک نہیںبلکہ چھ ائیر پو رٹ امریکا کو سوغات کے طور پر پیش کر دئیے انہی ایئر پور ٹ سے پاکستان کے عوام پر حملو ں کے لیے ڈرون طیا رے اڑتے رہے اور بم برساتے رہے ہیں ۔ یہ تو ابھی کی بات ہے ایا م مرور میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ پنجا ب صوبہ کے ایک وزیر اعلیٰ سردار عبدالحمید دستی مر حوم اس امر کے عینی شاہد تھے کہ جب سابق صدر سکند ر مر زا نے عوامی رہنما حسین شہید سہر وردی سے جبر اً استعفیٰ لیا تو شہید سہر وردی استعفیٰ پر دستحط کر تے وقت رو پڑے تھے یہ بات وہا ں موجود سب کے لیے حیر ان کن تھی بعد میں سید مرید حسین شاہ نے انہیں روتا دیکھ کر ایک سابق وزیر خزانہ نو اب مظہر علی شاہ قزلبا ش نے حیر ت کا اظہا ر کیا جس پر حسین شہید نے خود کو سنبھالتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ اقتدار کے لیے نہیں رورہے ہیں اس لیے رونا آگیاہے کہ اب کشمیر ہمیشہ کے لیے ہا تھ سے نکل گیا ہے ، یہ جذبات تھے ایک بنگالی پاکستانی سیا ست دان کے ، حسین شہید کے اس انکشاف پر کئی افرا دنے اس گتھی کو سلجھا یا تو انکشاف ہو ا کہ امریکا کے سابق صدر آئزن ہا ور پشاور کے قریب بڈھ بیر کے مقام پر ایک مواصلا تی اڈا قائم کرنا چاہتے ہیں اور شہیدسہروردی نے شرط رکھی تھی کہ پاکستان امریکا کو بڈھ بیر میں ہو ائی اڈا کھولنے کی اجازت دید ے گا مگر اس کے عوض پاکستان کو کشمیر لے دیاجائے پھر تاریخ نے یہ جتا دیا کہ سہر وردی کا مطالبہ ان کی وزارت کی قربانی کی نذر ہو گیا اور آج پاکستان کس مقام پر ہے میجر جنرل سکندر مر زا ایک بیو رو کریٹ صدر تھا جس کااسٹیبلشمنٹ اور نوکر شاہی سے گٹھ جو ڑ تھا ۔پر ویز مشرف کی طرح اس نے امریکا سے سگائی نہیںکی ایک عوامی لیڈ ر شپ اور ایک آمر انہ قیا دت کا یہی فر ق ہے ۔پا کستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے باخبر ہیں کہ پاکستان میں جمہو ریت کوئی مسئلہ ہر گز نہیں رہا ہے نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے اصل مسئلہ پاکستان میں ایسا ویسا کر نے والو ں کا ہے ۔ اب نو از شریف فرما تے ہیںکہ ان کو کیو ں نکالا ، ان کو نکالنے سے پہلے ان کے صاحبزا دے حسین نو از نے کہہ تو دیا تھاکہ حسین شہید سہر وردی سے لے کر ان تک ایساہی ہوتا آرہاہے ۔ اب حسین نو از ہی بیا ن کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں یا چاہتے تھے ۔تاہم وفاقی وزیر ریا ض پیر زادہ جس طرح کھلے ہیں ، ان کے اس کھول سے بہت سے طبق روشن ہو تے نظر آ رہے ہیں کیو ں کہ ریا ض پیر زادہ کی سیا سی کیمسٹری ان کی ماضی کی طرح ہے کہ گرگٹ اتنے رنگ نہیں بدلتا جتنے سیاست کے رنگ وہ بدلتے رہتے ہیں ، پیر زادہ صاحب کو بے کل ہو نے کی ضرورت نہیں ہے۔احتساب عدالت کا فیصلہ تک انتظار کر لیں تو ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دی جا ئے گی ۔

متعلقہ خبریں