کتاب سے دوری اور وقت کی کمی

کتاب سے دوری اور وقت کی کمی

علم انسان کا دوسرا نام ہے اورعلم کتاب میں ہے، اورکتاب آج کل لائبریریوں اور بک شاپس ہی میں مل سکتی ہیں۔ماضی میں کتاب پڑھنے لکھنے والوں کے سرہانے دھری رہتی تھیں۔کتاب ماضی میں پڑھے لکھے لوگوں کا رومینس تھا،شغل تھا،مزہ تھااور وقت گزاری کا اچھا ذریعہ تھا۔آج تو طلبہ بھی کتاب خریدنے یا لائبریری سے حاصل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔یہاں تک کہ ٹیکسٹ کی کتابوں کی بجائے نوٹس پر ہی اکتفا کرلیا جاتا ہے۔ایم اے کے ایک زبانی امتحان (VIVA) میں، میں نے دو سو سے زیادہ پرائیویٹ طلبہ سے یہ سوال کیا کہ کبھی کوئی کتاب خریدی ہے تو چند ہی طلبہ نے ہاں میں جواب دیاباقی سب نے میرا منہ ہی چڑایا۔سوچئے کہ ایم اے جو کہ ہائر سٹڈیز میں آتا ۔ایم اے تک پہنچنے والے لوگوں نے زندگی میں کبھی کوئی کتاب نہیں خریدی ۔ یہاں تک کہ ایک ایم اے کا ٹیکسٹ بھی براہ راست نہیں پڑھا گیا بلکہ یونیورسٹی میں کافی شاپ سے تیار نوٹس لے کر امتحان پاس کیا گیا ہے۔جب ہایئرسٹڈیز کی یہ حالت ہو توباقی کا کیا حال ہوگا۔ پھر کہا جاتا ہے کہ جہالت پھیل رہی ہے۔کیسے نہ پھیلے علم کی روشنی کو جب تک سماج میں پھیلا یا ہی نہیں جائے گا جہالت کے اندھیرے کب ختم ہوں گے۔کتاب کو انسان کا سب سے اچھا دوست قرار دیا جاتا ہے۔مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ خود اس دوست سے دشمنی کی جارہی ہے۔کسی پڑھے لکھے شخص سے پوچھیں کہ اس نے آخری کتاب کب خریدی تھی۔ یا اس نے آخری کتاب کب پڑھی تھی۔پہلے سوال پر تو خود آپ ہی کو مشکوک انداز میں دیکھا جائے گاکہ بھلا یہ بھی کوئی سوال ہوا۔کتاب کون خریدتا ہے۔مہنگائی کا رونارویا جائے گاکہ بھائی آلو،ٹماٹر ،دال چاول کے بھاؤ معلوم ہیں ؟بجلی گیس کے بلوں سے واقف ہوَ؟کتاب کے پڑھنے کا پوچھو تو آگے سے معصومانہ سا جواب آئے گا کہ بھائی وقت کہاں ہوتاہے کہ لائبریری سے کتاب لائی جائے اور پھر پڑھی بھی جائے۔اتنے کام جو کرنے پڑتے ہیں ۔ دفتر وکاروبار کے مسائل،گھر کے دھندے،کہاں سے وقت نکالیں کہ اب کتاب بھی پڑھیں۔زندگی بہت فاسٹ ہوگئی ہے۔میں کہتاہوں کہ اگر ہم بحیثیت قوم کسی چیز میں خود کفیل ہیں تو وہ وقت ہی ہے۔ہم وقت کی دولت سے مالامال ہیں اور اتنے ہی سخی کہ اس قیمتی چیز کو لٹاتے پھرتے ہیں۔ہم گھنٹوں ایڈیٹ باکس(ٹی وی)کے آگے منہ کھولے بیٹھے رہتے ہیں۔الم غلم جو بھی آئے دیکھتے رہتے ہیں ۔پانامہ کیس کی کوریج ہم گھنٹوں دیکھ سکتے ہیں ۔انڈیا کے بے مقصد ڈراموں اور رئیلٹی شوز کو پورے شوق سے دیکھ کروقت ضائع کر سکتے ہیں۔ٹاک شوز کے مدبر اینکروں کے عالمانہ خطابات پر ہمارا کوئی وقت ضائع نہیں ہوتا۔گھنٹوںسیل فون پر میسج پڑھ سکتے ہیں اور بھیج بھی سکتے ہیں اور ان کے علاوہ اور بہت سے بے معنی کام کرسکتے ہیں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتے۔دنیا کی واقعی اور صحیح معنوں میں مصروف قوموں نے ابھی تک کتاب سے رشتہ نہیں توڑا۔ بس سٹاپ،ٹیوب ٹرین سٹیشن، ہوائی اڈوں پر بک سٹالز لگے ہوئے ہیں جہاں ڈسپوز یبل اور سستی کتابیں مل جاتی ہیں ۔سستے داموں کتاب خریدی ،دورانِ سفر پڑھی ،اورکسی کو دے دی۔جاپان دنیا کا زندگی کی رفتار کے حوالے سے تیز ترین ملک ہے۔مگر جاپان میں کتب بینی کی ریشو سب سے بہترہے۔ اس بات کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ بحث کریں کہ کتب بینی کیااتنی ضروری ہے جو میں یوں جذباتی تقریر کررہا ہوں۔کتاب تو سماج میں نئی سوچ کو لے کر آتی ہے۔ہم ہرفورم پر تبدیلی کی بات کرتے ہیں مگر تبدیلی کیسے آئے گی جب شعور سے عاری ہوں گے۔مصیبت یہ ہے کہ شعور تو علم کا محتاج ہوتا اور علم کتاب میں پڑا ہوتا ہے۔مگر شعور کی جستجو کسے ہے۔ہم تو بس مادہ پرستی کی بھیڑ میں ایک دوسرے کوپچھاڑ کر،کہنیاں مار مار کرآگے بڑھنا چاہتے ہیںسب سے آگے۔خدا کیا ہے ؟خدا ہم سے چاہتا کیا ہے؟موت کیا ہے؟دین کیاہے؟سکون کیاہے؟بے سکونی کیوں ہے؟محبت کیا ہے؟پاکیزگی کیاہے؟ہم کچھ نہیں جاننا چاہتے۔بس پیسہ ،بنک بیلنس اور تعیش ہی سب کچھ ہے ہمارے لیے اور اسی کے پیچھے اندھا دھند بھاگاجارہا ہے۔روحانیت ،دل کاسکون ، امن وآتشی ہمارے مسائل ہی نہیں۔ٹی وی،انٹرنیٹ ،سیل فون سب انسٹرومنٹ ہیں اور انسٹرومنٹ تو بقول اقبال

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
انسٹرومنٹ نے ایک شور برپا کررکھا ہے ۔اس شور نے سماعتوں کو تو مجروح کرہی دیا ہے ساتھ روح کو بھی زخمی کررکھا ہے۔خبریں بجائے خود ایک عذاب بن چکی ہیں ۔ہربات ہم تک اپنی پوری شدت کے ساتھ پہنچائی جاتی ہے،بلاضرورت ۔ہماری سوچ کا ہاضمہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔کتنی اور کیسی کیسی سوچیں ہمیں سوچنی پڑتی ہیں۔خوامخواہ۔بلڈ پریشرکو بڑھانے،جسم کوشوگر کی مٹھاس لگانے،انجائناکو دل میں بسانے کا سامان تو ہماری جیبوں میںموبائل فون اور ہمارے بیڈ رومز میںانٹر نیٹ اور ٹی وی کی صورت موجود ہے۔ ’’ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘‘میڈیکل سٹورز پر سب سے زیادہ دوائیاں ذہنی سکون کی بکتی ہیں۔ہمارے اندر َرفو کا بہت کام ہے لیکن ہم تسلیم نہیں کرتے نہ ہی ہمیں اپنی روح کے لباس کے چھید دکھائی دیتے ہیں۔زندگی کی طرف لوٹنا ہے تو اپنی ذات کو کچھ لمحے ودیعت کرنے پڑیں گے۔

متعلقہ خبریں