کالج اساتذہ کے مسائل

کالج اساتذہ کے مسائل

گزشتہ دنوں خیبر پختون خوا کالجوں کے اساتذہ کرام اور طالب علموں نے صوبے بھر میں ہڑتال کیے ۔جہاں تک طالب علموں کے ہڑتا ل کا تعلق ہے تو انکا کہنا تھا کہ اساتذہ کرام کے ہڑتال کی وجہ سے انکی پڑھائی متاثر ہورہی ہے ۔ انکا مطالبہ ہے کہ اساتذہ کرام ہڑتال ختم کرے یا حکو مت انکے مطالبات مان لے ۔ تاکہ ڈیڈ لاک جیسی کیفیت ختم ہوجائے۔کالج اساتذہ کرام کے تین مطالبات ہیں۔ ان میں سب سے پہلے مطالبہ یہ ہے کہ یونیور سٹی اساتذہ کرام کی طر ح کالج کے اساتذہ کرام کو اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے۔ یعنی 17 گریڈ کے اساتذہ کرام کو گریڈ 18 اور گریڈ 18 گریڈ کے اساتذہ کرام کو گریڈ 19 دیا جائے۔ دوسرا مطالبہ پروفیشنل الائونس سے متعلق ہے ۔ کالج کے اساتذہ کرام کا مطا لبہ ہے کہ ڈاکٹروں ، پیرامیڈیکل سٹاف کی طرح اساتذہ کرام کو بھی پرو فیشنل الائونس دیا جائے کیونکہ کا لج کے اساتذہ کرام سے تنخواہوں میں پروفیشنل الائونس کاٹا جاتا ہے۔تیسرا مطالبہ بو رڈ آف گو رنر سے متعلق ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے کالجوں کی نج کاری نہ کی جائے اور نہ انکی سول سر ونٹ والی حیثیت کو تبدیل کیا جائے اور نہ بو رڈ آف گو رنرز بنا یا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کالجز اپنے اخراجات اپنے وسائل سے پو رے کریں گے اور حکومتی خزانے پر اسکا کسی قسم کا بو جھ نہیں ہونا چاہئے۔ جبکہ اسکے بر عکس ماہر اقتصا دیات اور سما جیات کا کہنا ہے کہ ریاست کی مثا ل دکان جیسی نہیں ہے۔ جس میں جو ادارہ فا ئدے میں جا رہا ہوتا ہے اسکو چلایا جائے اور اگر نُقصان میں جا رہا ہے تو اُس ادارے کی نجکاری کی جائے یا بورڈآف گورنرز بنا کر کمزور کیا جائے۔ کیونکہ ایک جمہوری اور فلا حی ریاست کے طور پر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس قسم کے تعلیمی اداروں سے عوام کو کتنا فا ئدہ ہوتا ہے۔اگر عوام کو فائدہ پہنچتا ہے تو ادارے بیشک خسارے میں جائیں۔ انسان جب بیمار ہوتا ہے تواس کو گولی نہیں ماری جاتی بلکہ علاج کیا جاتا ہے ۔اگر خیبر پختون خوا کے کالجوں کو خود مُختار بنا دیا گیا تو پھر کا لجوں کے لئے یہ بات ضروری ہو گی کہ وہ اپنے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کریں ۔ جس سے بچے اور والدین متا ثر ہونگے۔کسی بھی ریاست کی یہ ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ اپنی رعایا کو روز گار، سر چُھپانے کی جگہ، تعلیم او ر صحت کی سہولیات فراہم کرے ۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان کے ہر دور کے حکمران ایک فلاحی ریاست کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ اگر ایک طرف دیکھیں تو ملک میں بے روزگاری کی وجہ سے غُربت ، افلاس اور بھوک میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف مملکت خداداد پا کستان میں صحت تعلیم اور دوسری بُنیادی سہولیات اور ضروریات نہ ہونے کے برابر ہیں۔پاکستان ۱۹۴۷ کو معر ض وجود میں آیا مگر ۷۰ سال گزرنے کے باوجود حکمران اور اشرا فیہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ پاکستان کے وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ ملکی قومی ادارے بیچ بیچ کر کھائے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک کے 168مختلف قومی ادارے کو ڑیوں کے دام بیچے گئے ہیں۔ جس سے غریبوں کی زندگی مزید اجیرن ہو تی جا رہی ہے۔ہمارے ہر دور کے حکمرانوں کا کہنا ہو تا ہے کہ قومی ادارے نُقصان میں جا رہے ہیںلہٰذا ان اداروں کی پرائیویٹا ئزیشن نا گزیر ہو جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ حکمران طبقے کے لوگ کسی نہ کسی صورت میں تجارت، صنعت ، کا روبار سے وابستہ ہوتے ہیںمگر حیرت کی بات یہ ہے کہ انکا کوئی ادارہ نُقصان میں نہیں جا رہا ہوتا ہے۔ نواز شریف کی سٹیل ملز تو فا ئدے میں جا رہی ہو تی ہے جبکہ پاکستانیوں کی خون پسینے کی کمائی سے بنی ہوئی پاکستان سٹیل مل خسارے میں جا رہی ہے۔ مو جودہ وزیر اعظم کی ائیر لائن تو دن دگنی اور رات چُگنی ترقی کر رہی ہے جبکہ اسکے بر عکس پی آئی اے اربوں روپے کے خسارے میں جا رہی ہے۔ایک با قاعدہ منصوبہ سازی کے ساتھ یہی اشرافیہ قومی اداروں کو قصداً عمداً خراب کر تے ہیں حالانکہ یہ ادارے ملکی ترقی اور کامرانی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مگر Bad Governance کی وجہ سے قومی ادارے نُقصان میں جا رہے ہو تے ہیں۔ موجودہ حکومت تو پہلے ہی عوام کو روز گار اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے اور اگر موجودہ حکومت نے خیبر پختون خوا میں کالجوں کی نجکاری کی تو اس سے غریب عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکو مت کاکام عوامی مسائل سے جا ن چھڑانا نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کے و سائل کوان کی د ہلیز پر حل کرنا ہو تا ہے مگرحکمرانوں کی یہ کو شش ہے کہ مسائل پر چشم پو شی کی جائے ،یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ حکومتی اداروں کی نجکاری یا بو رڈ آف گو رنرز کے بجائے اسکو مستحکم کرنا چاہیئے۔ اگر کسی کالج یا تعلیمی ادارے کا امتحانی نتیجہ ٹھیک نہیں تو ان اداروں کے سربراہان سے سختی سے پو چھا جائے۔ جہاں تک اساتذہ کرام کا استعداد کار ہے تو اسکی مانیٹرنگ سخت ہونی چاہئے ۔ اساتذہ کرام کی صحیح طریقے سے کیپسٹی بلڈنگ ہونی چاہئے ۔تاکہ اچھے طالب علم پیدا ہوں۔ 

متعلقہ خبریں