ملکی صورتحال اور نیرو کی بانسری

ملکی صورتحال اور نیرو کی بانسری

مجھے اس بات کی خبر نہیں کہ ہم عوام (جن کو ڈھنگ کی دو وقت روٹی میسر نہیں )اخباروں اور میڈیا کے ذریعے بعض خبروں پر کیوں بے چین ہوجاتے ہیں اور کیا ہماری طرح ہماری حکومت اور اس کے اراکین اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے لوگ بھی بے چینی محسوس کرتے ہیں ؟ اگر وہ ہماری طرح یعنی عوام کی طرح پاکستان کے حوالے سے خطرناک منصوبوں کی خبر پر بے چین نہیںہوتے تو کیوںنہیں ہوتے ۔ کیااخبارات میں چھپنے والی خبریں جھوٹی ہوتی ہیں ۔اور اگر اتنی ہی جھوٹی ہوتی ہیں کہ اس پر بے چین ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی تو اخبارات میں عوام الناس کا سکون برباد کرنے کی ایسی خبریں شائع کیوں ہوتی ہیں ۔ حکومت ایسی بے بنیادخبروں کو روکتی کیوں نہیں ۔ میرے خیال میں اخبارات میں شائع ہونے والی بعض خبروں میںاگر چہ مرچ مسالحہ ذرا تیز ہوتا ہے لیکن اُس کے پیچھے کوئی بات ضرور ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے جب صورتحال سامنے آئی تو اس پر بڑی بحثیں ہوئیں ۔ اور ہم عوام واقعی پریشان ہوئے کہ خدانخواستہ وطن عزیز کو کوئی بڑا نقصان نہ پہنچے ۔ وزیر داخلہ اور وزارت خزانہ نے اپنی اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے عوام کو تسلی دی لیکن تشویش قائم رہی کیونکہ اُن کی باتوں میں کوئی منطقی وزن زیادہ محسوس نہیں ہوا ۔ چند دنوں بعد پتہ چلا کہ واقعی معاشی معاملات ٹھیک نہیں ہیں کیو نکہ ایک دو مہینے بعد عالمی مالیاتی اداروں کو پاکستان نے تقریباًاکیس ارب ڈالر ادا کرنے ہیں ( چلو اس میں اخباری مبالغہ ہی ہو ) لیکن اس عدد کو آدھا بھی لے لیں تو پندرہ ارب ڈالر کی ادائیگی ہماری کمر توڑ سکتی ہے ۔ (اللہ نہ کرے ) ۔ تیل سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے اربوں روپے (سنا ہے چارسو ارب ) حکومت پر واجب الادا ہیں اوروہ اس کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اگر حکومت یہ ادائیگیاں کرنے میں ناکام ہوئی تو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اپنی سپلائی معطل کردیں گی ۔ اور لوڈ شیڈنگ شروع ہو جائیگی ۔اُس کے تو اب ہم عادی ہو چکے ہیں ، لیکن عوام کو پریشانی اس بات کی ہے کہ اگر آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرض ادا نہہوسکے تو وہ تو معاف نہیں کریں گے۔ یہودی ساہو کار تو شیکسپیئر کے بقول چمڑی ادھیڑتے ہیں۔ پاکستان کی چمڑی ادھیڑنے کے لئے (خدانہ کرے) تو یہودی اور ہندو ساہوکاراور بنئیے جنم جنم کے پیاسے بیٹھے ہیں۔ وہ تو ہمارا ہاتھ بھی مروڑیں گے اور گردن بھی۔ لہٰذا خطرہ اس بات کا ہے کہ اگر ہم نے اپنی شاہ خرچیاں ‘ عیاشیاں‘ فضول خرچیاں اورشو آف کے لئے بے جا اسراف کو نہیں روکا اور عالمی اداروں سے جان نہیں چھڑائی تو وہ ایک نہ ایک دن ہماری شہ رگ پر بھی ہاتھ رکھ سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات اور خبر سے لگایا جاسکتا ہے کہ نیویارک سے خبر آئی ہے کہ ’’امریکہ انڈیا کو پاکستان پر نظر رکھنے کے لئے نگران مقرر کرسکتا ہے‘‘ کیا یہ خبر حساس با ضمیر اور محب وطن پاکستانیوں کی نیند اڑانے کے لئے کافی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ تو امریکہ نے خواہ مخواہ تکلفانہ بات کی ہے ورنہ بھارت کو سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کی تجارت دے کر اور افغانستان میں فری ہینڈ کے ذریعے اپنا اتحادی بنا کر کب کا نگران مقرر کیا ہے۔ امریکہ ایک طرف پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’ڈومور‘‘ کا دبائو جاری رکھتا ہے دوسری طرف پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قربانیوں کا کما حقہ اعتراف نہیں کرتا۔ پاکستانی سر زمین ڈرون حملوں میں تیزی کے ذریعے پاکستان کی خود مختاری اور سرحدی سا لمیت کی خلاف ورزی کا ارتکاب بھی کر رہا ہے۔ کیا یہ سارے معاملات ہمارے سیاستدانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اپنی اپنی بانسری بجانے کو ترک کرکے ایک ہی آواز اور لے اٹھانے پرمائل کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے درمیان اور حکمران سیاسی جماعت اور ملکی اداروں کے درمیان جو صورتحال برپا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا ایک عام آدمی وطن عزیز کی سلامتی کے حوالے سے مطمئن ہو کر آرام کی نیند سو سکتا ہے۔کیا وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کے لئے ہمارے یہ بڑے سارے تعصبات پس پشت ڈالتے ہوئے کھلے اور صاف دل کے ساتھ بیٹھ کر باہر کے ملکوں میں پڑے ملکی اثاثہ جات کو جو (200 ارب ڈالر ہیں) کو ملک میں واپس نہیں لاسکتے تاکہ آئی ایم ایف کے سارے قرضے اتارنے اور باقی اربو ں ڈالر وطن عزیز میں سرمایہ کاری او ر صحت و تعلیم کے شعبوں میں لگوا کر ایک نئے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط و مستحکم بنا کر دشمنان وطن کے سارے مکروہ عزائم اور منصوبوں کو خاک میں ملا دیں۔آج نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہمارے سامنے آرہا ہے کہ کفار سارے ایک ملت ( قوم) ہیں‘ بالخصوص پاکستان جیسے نظریاتی (لا الہ الااللہ )کی اساس پر قائم ملک کے خلاف تو بقول اقبالؔ

یہ اتحاد مبارک ہو مؤمنوں کیلئے
کہ متفق ہیں فقہان اسلام میرے خلاف
بھارت ایل او سی (لائن آف کنٹرول) کی پچھلے سال کے مقابلے میں تین گنا زیادہ خلاف ورزی کرچکا ہے۔ آبی دہشت گردی( پاکستان کے حصے کے پانی پر ڈیم بنوا کر پانی روکنا) الگ سے کر رہا ہے‘ لیکن امریکہ اور اسرائیل کا لاڈلا ہے۔ دندنا رہا ہے اور اب بابری مسجد کی طرح تاریخی ممتاز محل( تاج محل) کو شیو سینا کے ذریعے متنازع بنوا رہا ہے۔ اس لئے پاکستان کے سارے نیرو بانسری بجانا چھوڑ کر ملک کی سرحدوں پر لگی آگ کو بجھانے اور پھیلنے سے روکنے کے لئے ایک ہو جائیں اور خلیجی ممالک اور ایران کی مدد کریں۔ جس طرح چین اور ترکی کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں