مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمربن عبدالعزیز ؒ جنہوں نے محض تین سال کے مختصر عرصے میں امت مسلمہ کو اس کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلائی ، جو اپنے دادا عمر بن خطاب ؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علم ، زہد ، عباد ت ، اخلاق اور انصاف کے لحاظ سے ایک امام کا درجہ رکھتے تھے ۔ حضر ت مغیرہ بن حکیم ؒ جو حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی عمر کے آخری حصے میں ان کے ہمراہ ہوتے تھے ، بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز ؒ اس عرصے میں ایک دعا بکثرت کیا کر تے تھے ۔ کہا کرتے تھے :’’ خدایا ! میری اصلیت ان لوگوں سے مخفی رکھنا ، خواہ ایک گھنٹے کے لیے ہی ۔ ‘‘ مراد یہ تھی کہ یہ لوگ جو میرے بارے میں اتنا حسن ظن رکھتے ہیں ، پروردگار ! مجھے ایک گھنٹے ان سے مخفی رکھنا ۔ المغیرہ کے کانوں میں یہ آواز پڑتی ، مگر اس دعا کا صحیح مفہوم انہیں تب سمجھ آیا ، جب عمر ؒ واقعی اپنے آخر وقت کوپہنچ گئے ۔ اپنی وفات کے روز حضرت عمر ؒ نے اپنی اہلیہ ، اپنے بچوں اور ان یتیموں اور مساکین کو بلایا جن کی وہ کفالت کیا کرتے تھے ۔ یہ بڑے اثر انگیز لمحات تھے ، جب حضرت عمرؒ اپنے اعزا واقارب اور ان مساکین کو الوداع کہہ رہے تھے ۔ خلیفئہ وقت نے اپنی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک ؒ کو آخری دفعہ گلے لگا یا اور ان کو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے ہوئے صبر کی تلقین کی : ترجمہ ’’ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا ۔ ‘‘
( سورۃ الزمر :10)
اور قرآن کی یہ آیت وہ آخری الفاظ تھے ، جو انہوں نے اپنی اہلیہ کو کہے ۔ اپنے بچوں کو الوداع کہنے کے بعد انہوں نے سب کو ہدایت کی کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا جائے اور یہی وہ دعا تھی جو اکثر کیا کرتے تھے کہ خد ا ان کی حقیقت کو لوگوں سے اس ایک گھنٹے کے لیے چھپا لے ۔ المغیرہ ؒ کہتے ہیں کہ ہم اب کمرے سے نکل آئے اور دروازے کی ذرا سی درز کھلی رہنے دی ۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت عمر ؒ کا چہرہ اچانک چمک اٹھا ہے اور ایک خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر کھلنے لگی ۔ تب ہم نے دروازہ بند کر دیا اور ہم تک آواز پہنچی : ’’ خوش آمدید ان خوبصورت چہروں کو جو نہ انسانوں کے ہیں اور نہ جنوں کے !‘‘ پھر وہ قرآن کی آیت تلاوت کرنے لگے : ترجمہ ’’یہ ہے آخرت کا گھر جو ہم نے ان لوگوں کے لیے بنایا ہے جو نہیں چاہتے دنیا میں شان وشوکت اور نہ ہی فساد اور کامیابی یقینا پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے ‘‘ (القصص:83)
اور وہ متواتر اسی آیت کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ان کی آواز باہر آنا بند ہوگئی ۔ تب ان کی اہلیہ نے اندر جانے کا فیصلہ کیاا ور جب وہ اندر داخل ہوئیں تو انہیں اس حال میں پایا کہ اپنا چہرہ اپنے دائیں گال پر ٹکائے ہوئے لیٹے تھے اور نگاہیں سامنے کی طرف اٹھی ہوئی تھیں ، جیسے اشتیاق سے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ رہے ہوں ۔ روح پرواز کرچکی تھی اور چہرے پر ایک میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ اپنے اس مقام کو تک رہے تھے جس کا رب العالمین نے ان سے وعدہ کر رکھا تھا ۔ ( بیان : شیخ عمر سلیمان )

متعلقہ خبریں