آپریشن ردالفساد کا آغاز

آپریشن ردالفساد کا آغاز


پاک فوج نے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے' اسے اسلحہ و گولہ بارود سے پاک کرنے اور دہشت گردی کے بلا امتیاز خاتمے کے لئے ملک بھر میں آپریشن رد الفساد شروع کرنے کا اعلان کرنے کے بعد جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں ' راولپنڈی میں اس آپریشن کا باقاعدہ آغاز بھی کردیا ہے اور متعدد افراد کو گرفتار کرنے کے بعد بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کرلیا ہے۔ بدھ کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ پاک فوج نے ملک بھر میں آپریشن رد الفساد شروع کردیا ہے۔ رد الفساد نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے۔ آپریشن کا مقصد ملک بھر میں دہشت گردی کا بلا امتیاز خاتمہ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ائیر فورس' پاکستان نیوی' سول آرمڈ فورسز اور دیگر سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے اپنی کوششیں بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے تمام کور کمانڈرز نے شرکت کی۔ ادھر حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیش نظر وزارت داخلہ نے پنجاب میں رینجرز اختیارات کی سمری منظور کرتے ہوئے دو ماہ کے لئے اختیارات دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ دوسری جانب آپریشن رد الفساد کی حمایت میں جید علمائے کرام بھی سامنے آگئے ہیں اور پچاس مفتیان کرام نے ایک متفقہ فتویٰ میں آپریشن رد الفساد کی بھرپور حمایت کردی ہے جو یقینا اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردانہ واقعات میں سو کے لگ بھگ بے گناہ افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ دہشت گردوں نے خود کش حملہ آوروں کی ایک پوری کھیپ میدان میں اتار کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ان کو تتر بتر کرنے کے جو حکومتی دعوے کئے جاتے تھے ان کے برعکس وہ ایک بار پھر منظم ہو چکے ہیں اور ملک بھر میں کسی بھی جگہ کا انتخاب کرکے حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یا پھر شاید ان کی یہ حکمت عملی ہو کہ اپنی بچی کھچی قوت کو مجتمع کرکے اب یا کبھی نہیں کی حکمت عملی کے تحت دہشت پھیلا کر خوف و ہراس میں اضافہ کردیا جائے۔ تاہم گزشتہ چند روز کے دوران جس طرح پاک فضائیہ اور بری افواج نے افغانستان کی سرزمین پر جمع ہونے والے دہشت گردوں پر تابڑ توڑ حملے کرکے ان کے تربیتی کیمپوں کو تہس نہس کرکے لا تعداد دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا ہے اور اندرون ملک خود کش بمباروں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے اس کے بعد آپریشن رد الفساد کا آغاز نا گزیر ہو چکا تھا کیونکہ ایک امریکی تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر جنوبی ایشیاء پروگرام مائیکل کوگل مین نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیاں شدت پسند تنظیموں کا فعال ہونا ثابت کرتی ہیں۔ مائیکل کوگل مین کے اس تجزئیے کے بعد اگر اب بھی افغان انتظامیہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں سے انکار کرتی ہے تو اس پر حیرت کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ ادھر پاک افغان سرحد چھٹے روز بھی بند رہی جس کی وجہ سے تجارتی سر گرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور گزشتہ روز طور خم بارڈر پر 13افغان باشندوں کو ڈی پورٹ کردیاگیا ہے جو چار باغ' لنڈی کوتل اور ملحقہ پہاڑی راستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے تھے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے حالیہ دہشت گردی کی لہر کے بعد ایک بار پھر افغان مہاجرین کو اپنے وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیونکہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں خود کش بمباروں کے سہولت کاروں کے طور پر تلویث کے ڈانڈے زیادہ تر افغان مہاجرین سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے جب تک ان افغان مہاجرین کو وطن واپسی کی راہ نہیں دکھائی جائے گی تب تک ملک کے اندر دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی کے امکانات کم کم ہی رہیں گے۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چارسدہ خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات ٹھیک ٹھاک بہتری کی طرف جا رہے تھے۔ صوبے میں امن تھا' اچانک حالات کی خرابی کے پیچھے قوم دشمن محرکات ہیں۔ پوری قوم نے افواج کے ساتھ مل کر مشترکہ سوچ کے تحت مقابلہ کرنا ہے۔ دشمن کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم تکالیف اور مصائب سے گزر کر کندن بن چکے ہیں۔ درایں حالات ضروری ہے کہ ملک کی جملہ سیاسی قیادت اور دینی حلقے آپریشن رد الفساد کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آگے آئیں اور مشترکہ دشمن کو یہ پیغام دیں کہ ان کی سازشیں کسی طور کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی اور ملک سے دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑ کر ہی ہم ملک دشمن قوتوں کے مذموم مقاصد ناکام بنائیں گے۔ انشاء اللہ!۔

متعلقہ خبریں