پاکستان کی مدد کے امریکی دعوے ؟

پاکستان کی مدد کے امریکی دعوے ؟


پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیو ڈ ہیل نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس ختم کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے ، انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز اسلام آبادمیں سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری سے ملاقات میں کیا ، اس موقع پر سیکرٹری خارجہ نے امریکی سفیر کو پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات پر تفصیلی بریفینگ دی ، امریکی سفیر نے دہشتگردوں کے خلا ف پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مو جو دا مریکی فورسز اپنے افغان ہم منصبوںکے ساتھ مل کر ہر اس تنظیم کے خلاف کارروائی کیلئے کام کر رہی ہیں جو پاکستان میں حملوں کی ذمہ داریاں قبول کرتی ہیں ، امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگرد کا رروائیوں میں جو عناصر ملوث ہیں ان کی اصل پشت پناہی سے امریکہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو کسی بھی طور رد نہیں کر سکتا ، کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس جنگ کو جو امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے شروع کر کے اسے جہاد کا نام دیا تھا ، اب وہ امریکی ایماء پر ہی دہشت گردی میں تبدیل ہو چکی ہے کیونکہ سوویت افواج کے افغانستان انخلاء کے بعد ان ''جہادیوں '' کوتنہا چھوڑ کر امریکہ واپس گیا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں اگر ایک جانب طالبان کا ظہور ہوا تو دوسری جانب عرب ممالک سے جہاد کے نام پر در آمد کئے جانے والے جنگجوئو ں کونائن الیون کے بعد یکدم دہشت گرد قرار دے کر ان پر افغانستان کی زمین تنگ کر دی گئی اور تو را بورا جیسے واقعات نے امریکی چہرے سے نقاب نوچ لیا تھا ، اس کے بعد کے حالات بھی پوری دنیا جانتی ہے ، اس دوران وہاں سے بھاگنے والوں نے بھارتی سازشوں کا حصہ بن کر پاکستان میں امریکی ، بھارتی اور افغان پراکسی وار شروع کردی اس ضمن میں پاکستان نے متعدد بار افغان انتظامیہ سے پاکستان سے بھاگ کر کونٹر اور دوسرے علاقوں میں پناہ لینے اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردانہ واقعات میں ملوث طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا مگر کسی کے کان پر جوں تک رینگنے کی نوبت نہ آسکی ،امریکہ اگر اپنے دعوئو ں میں مخلص ہے تو وہ افغان سرزمین پر دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کو ختم کرنے پر افغان انتظامیہ کو مجبور کر کے پاکستان سے بھاگ کر وہاں پناہ لینے والے شدت پسندوں کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کر دے ،بصورت دیگر یہ محض زبانی اور کھو کھلے دعوے ہی کہلا ئیں گے ۔

متعلقہ خبریں