تحریک انصاف میں اندرونی بحران

تحریک انصاف میں اندرونی بحران


خیبر پختونخوا کے ایک صوبائی وزیر شاہ فرمان کے گزشتہ رات ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میںببانگ دہل اس دعوے کے تناظر میں کہ صوبے میں سفارشی بھرتیوں کی متعلقہ وزارت کے سیکر ٹریوں کی جانب سے بھر پور مخالفت سے صوبائی حکومت کی کار کردگی میں شفافیت واضح ہے ، خود صوبائی حکمران جماعت کے بعض ایم پی ایز کی جانب سے احتجاج پر غورکیا جائے تو صوبے میں '' سب اچھا ہے '' کے دعوے محض سراب ہیں ، ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم مبینہ طور پر مخصوص چہیتے وزیروں ،مشیروں اور اتحادیوں کو نواز نے ، صوبائی حکومت پشاور کو ترقیاتی منصوبوں اور پارٹی ورکروں کو نظر انداز کرنے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کا اندرونی بحران شدت اختیار کر گیا ہے ، صوبائی وزیر اعلیٰ کی کوششوں کے باوجود بعض اخباری اطلاعات کے مطابق ،نہ صر ف ناراض ایم پی اے محمود جان نے استعفیٰ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے بلکہ پارٹی کے پشاور سے تعلق رکھنے والے دوسرے ارکان صوبائی اسمبلی نے بھی پارٹی منشور پر عمل در آمد ، کار کنوں کی مایوسی کے خاتمہ اور ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم کیلئے میدان میں نکلنے کا اعلان کر دیا ہے ، یہ بھی امر واقع ہے کہ بھر تیوں کے حوالے سے حکمران جماعت کی اتحادی جماعت اسلامی کے وزیر وں پر من مرضی کرنے کے مبینہ طورپر الزامات سامنے آرہے ہیں جبکہ پارٹی کے سابق صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے رکن صوبائی اسمبلی محمود جان نے استعفیٰ دیکر پشاور کیلئے میرے کشکول اٹھانے کے فیصلے کو صحیح ثابت کر دیا ہے ، اور یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت پشاور کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے ، اس ساری صورتحال سے حکومت کی شفافیت کے دعوئو ں پر سوالیہ نشان اٹھنے کورد نہیں کیا جا سکتا اور وزیراعلیٰ اور ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے مشیروں کو اپنی جماعت کے اندر پیدا ہونے والی اس بحرانی کیفیت کو جلد از جلد دور کرنے کے اقدامات کر نے چاہئیں ، پشاور کو گزشتہ ستر سال سے ہر صوبائی حکومت نے جس طرح نظر انداز کرنے کی پالیسیاں اختیار کی ہیں یہ رویہ یقینا قابل تشویش ہے اور اس رویئے سے پشاور کے عوام میں محرومیاں بڑھنے کے امکانات خاصے تشویشناک ہیں ۔ جس پر مناسب توجہ ضروری ہے ۔

متعلقہ خبریں