آپریشن ردالفساد

آپریشن ردالفساد

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر صدارت اعلیٰ فوجی قیادت کے اجلاس کے بعد پاک فوج نے ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد ملک بھر میں دہشت گردی اور اس کے محرکات کا خاتمہ ہے۔ آپریشن میں بحریہ اور فضائیہ بھی شریک ہوں گی۔ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق یہ آپریشن نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے اور اب تک دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں اس آپریشن کا مقصدانہیں محفوظ بنانا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس آپریشن کے لیے پنجاب میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے جنہیںدہشت گردی کے انسداد کے قوانین کے تحت وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے جو پولیس کو حاصل ہیں یعنی مشتبہ افراد کی نگرانی ، ان کی گرفتاری ، مزاحمت پران کے ساتھ مقابلہ اور ان کے چالان عدالتوںمیں پیش کرنا۔ الغرض یہ ملک گیر آپریشن سارے ملک کو دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں سے پاک کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے ۔ پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ ساٹھ دن کے لیے کیا گیا ہے۔ پنجاب میں جو ملک کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا اور رقبہ کے اعتبار سے دوسرا بڑا صوبہ ہے اگرچہ کچھ عرصہ سے سرچ آپریشن جاری ہیں اور کئی مشتبہ افراد حراست میںبھی لیے گئے تاہم اب تک وسیع پیمانے پر آپریشن شروع نہیںکیا گیا ۔ پنجاب حکومت کا موقف رہا ہے کہ پنجاب پولیس دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کر رہی ہے۔ تاہم لاہور میں بم دھماکے کے بعد پنجاب اپیکس کمیٹی نے صوبہ میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ صوبہ میںرینجرز کے پانچ ونگ یعنی تقریباً چار ہزار افسر اور جوان انسداد دہشت گردی پر مامور کیے جائیں گے اور پنجاب پولیس اور سول آرمڈ فورسز ان کی معاون ہوں گی۔ پنجاب خاص طور پر جنوبی پنجاب کے بارے میںکھلے عام یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہاں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے مراکز ہیں۔ چند ماہ پہلے جب تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بات ہو رہی تھی تو جماعت الاحرار نے جو اب کالعدم قرار دی جا چکی ہے اعلان کیا تھا کہ وہ مذاکرات پریقین نہیں رکھتے اور اپنے طور پرکارروائیاں جاری رکھیں گے۔ میڈیا کو جاری کیے گئے ایک کھلے خط میںاس نے اعلان کیا تھا کہ اس کے ارکان کی بڑی تعداد پنجاب میں ہے۔ اب کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہے اور اس نے لاہور کے حالیہ بم دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ لہٰذا یہ اندازہ کرنا بعید از قیاس نہیں کہ پنجاب میں جماعت الاحرار کے سلیپرسیل ہیں۔ سیہون شریف کے حالیہ بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے ۔ وفاقی حکومت اگرچہ تسلیم نہیں کرتی رہی کہ داعش کا کوئی تنظیمی وجود پاکستان میں ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ چند گرفتار ہونے والوں سے داعش کا لٹریچر اور سی ڈیز برآمد ہوئیں۔ سانحہ صفورا گیٹ کے جو ملزم گرفتار ہوئے ان کا تعلق بھی داعش سے تھا اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپریشن رد الفساد کی توجہ کا مرکز پنجاب خاص طور پر جنوبی پنجاب اور سندھ کے کچے کا علاقہ ہوگا۔ اس خیال کی اہمیت کو بھی کم نہیں کیا جا سکتا کہ کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد کچھ لوگ کچے کے علاقے میں روپوش ہوئے اور کچھ پنجاب چلے گئے۔ اس طرح کم ازکم ساٹھ دن کے لیے اس آپریشن کا فوکس پنجاب اور بالائی سندھ کا علاقہ ہو گا جو بہت وسیع علاقہ ہے۔ وسطی پنجاب میں شہروں اور قصبات میں اگرچہ ناپسندیدہ افراد کے بارے میں خفیہ معلومات مقامی پولیس کے علاوہ عام شہریوں سے بھی حاصل ہو سکتی ہیں لیکن عام شہری اپنے تحفظ کے تقاضوں کی بنا پرسامنے آنے سے گریز کریں گے۔ اور پھر فاصلوں پر بکھرے ہوئے دیہات میں کھیتوں میں قائم ڈیرے بھی مشکوک ہو سکتے ہیں۔ دریائے سندھ کے وسیع پاٹ کے علاقے جہاں ناپسندیدہ افراد کی پناہ گاہیں بیان کی جاتی ہیں اسی لیے ایسے افراد کی آماجگاہوں کے لیے موزوں ہے کہ یہاں سے وہ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے علاقوں میں غیر معروف راستوں سے منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جن علاقوں میں آپریشن کیا جائے گا انہیں آپریشن کے بعد محفوظ بنانے کے لیے چوکیاں قائم کرنا ضروری ہوگا۔ اتنے وسیع علاقے کو ناجائز اسلحہ سے اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے پاک کرنے کے لیے عین ممکن ہے کہ دو ماہ کا عرصہ کافی نہ ہو۔ آپریشن انٹیلی جنس پرمبنی ہوں گے۔ مقامی پولیس سے یہ معلومات اس یقین کی بنیاد پر حاصل ہوں گی کہ مقامی اہل کاروں کو آپریشن کی کامیابی کا یقین ہو۔ شہروں کی نسبت دیہات کے عام شہریوں کو ناپسندیدہ لوگوں کی نقل و حرکت کا زیادہ علم ہوتا ہے لیکن وہ اسی صورت میں خطرہ مول لیںگے جب انہیںاپنے تحفظ کا سو فیصد یقین ہو۔ اس لیے آپریشن اسی صورت میں اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا جب اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور عدلیہ کا نظام صحیح خطوط پر کام کرتا ہوا عوام کو نظر آئے گا اور آپریشن کی زد میں بے گناہ شہری نہیں آئیں گے۔ آپریشن کی کامیابی کے لیے بنیادی تقاضے صحیح سراغ ، گرفتاری کے لیے صحیح تیاری، مقدمات کا صحیح اندراج اور پیروی، گواہوں اور منصفوں کا تحفظ ہیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اس ملک گیر آپریشن میں بحریہ اور فضائیہ بھی حصہ لیں گی۔ بحریہ سمندری ساحل کی کڑی نگرانی کے ذریعے اسلحہ کی اندرون ملک سمگلنگ کا سدباب کرے گی۔ فضائیہ دشوار گزار مقامات پر آپریشن کرے گی اور سرحدی انتظام کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس طرح اندرون ملک آپریشن کو بیرونی امداد رک جائے گی۔ توقع کی جانی چاہیے کہ آپریشن جلد اہداف حاصل کر لے گا۔ اس کا دوسرا اہم پہلو ناپسندیدہ عناصر کو سرمائے کی فراہمی روکنا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس طرف بھی موثر کارروائی کا بندوبست کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں