کہیں غلطی نہ ہو جا ئے

کہیں غلطی نہ ہو جا ئے

دہشت گردی کے خلا ف ایک نیا آپریشن ردالفساد کے نام سے شروع کردیا گیا ہے ، پاکستان عالمی حالا ت کی وجہ سے جن مشکلا ت کا شکا رہے وہ اپنی جگہ سنگین ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر جس دہشت گردی کاسامنا ہے ، اس نے حالات کو کہیں سنگین تر بنا رکھا ہے ۔ ایک معاصر میں ہو لناک خبر شائع ہو ئی کہ بدھ کے روز امریکا سے لا ہو ر آنے والا پی آئی اے کا طیا رہ مبینہ طور پر بڑے سانحہ سے دوچا ر ہو تے ہو ئے بچ گیا ، اس اجمال کی تفصیل کچھ اس طر ح بیان کی گئی ہے کہ جہا ز میں چارسو مسافر سوار تھے جب طیا رہ لا ہو ر ائیر پورٹ پر ایک ہزار سے زیا دہ فٹ کی بلندی پر تھا ، اس دوران فرنٹ پائلٹ کو تیز نیلی اور سرخ لیزر لا ئٹس جہا ز کی سکرین پر دکھا ئی دیں جس سے پا ئلٹ کو جہا ز اتارنے میں دشواری کا سامنا ہو ا، پا ئلٹ نے اطلا ع کنڑول روم کو دی ، اس اطلا ع پر خفیہ ادارے کے افسر ایلیٹ فورس اورکما نڈوز کے ہمر اہ ائیر پورٹ کے نزدیکی علا قو ں سے ملحقہ آبادیو ں میں لیزر لائٹس مارنے والو ں کی تلا ش میںنکل پڑے اس دوران چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ۔ یہ ابتدائی روداد ہے جس کے بارے میں نہ تو کوئی حتمی رائے قائم ہو سکتی ہے اور نہ کوئی گما ن کیا جا سکتا ہے ، تاہم لینڈنگ کے وقت جہا ز کی اگلی سکر ین پر لیزر ما رنا اس امر کی غما زی کر تا ہے کہ یہ ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ ہو سکتا ہے ۔ پا کستان میں دہشت گردی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کی ایک جھلک افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ کے دور میں نظر آتی ہے اور اس کو پختو نستان کی تاریخ سے جوڑا جا تا تھا ، جب سوویت یو نین نے افغانستان میں مداخلت کی تو پختونستان کا مسئلہ اپنی مو ت آپ مر گیا ، تاہم دہشت گردی کی ایک نئی لہر اٹھی جس کے بارے میں کہا جا تاہے کہ وہ سوویت یو نین کی پشت پنا ہی سے افغانستان کی خفیہ ایجنسی خاد کے ذریعے کی گئی ، اس وقت کی جو رپو رٹس ہیں اس دہشت گردی میں خالی خاد ہی ملوث نہیں تھی بلکہ کچھ دیگر بیر ونی طا قتیں بھی شامل تھیں مگر یہ دہشت گردی اس طرح کا میا ب یا سنگین صور ت حال سے دوچار نہیں تھی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جنرل ضیا ء الحق نے اس دہشت گردی کا منہ تو ڑ جو ا ب دیا تھا ، جس پر اس وقت کی افغان حکومت اور بھارتی ایجنسیا ں بھی بلبلا اٹھی تھیں ۔ حالات میں پا کستان اور افغانستان کے درمیا ن کشیدگی کے آثار پائے گئے ہیں ، جو کسی بھی طور دو نوں ملکو ں بلکہ خطے کے لیے بھی اچھا شگون نہیں رکھتے ،بلکہ انتہا ئی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں ، کچھ بیر ونی طا قتیں چاہتی رہی ہیں کہ پاکستان کی توجہ اس کی مشرقی سرحدوں سے ہٹا دی جائے چنا نچہ آج کچھ ایسی صورت حال نظر آرہی ہے ۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ نہ تو پا کستان کو اور نہ افغانستان کو بر اہ راست ایک دو سرے سے کوئی خطرہ ہے ، نہ ٹکر اؤ ہے بلکہ دونو ں کا دہشت گردی کا قلع قمع کر دینے پر اتفا ق رائے ہے ۔ پاکستان کے مشیر خا رجہ سر تا ج عزیز کی افغان سفیر سے ملا قا ت کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحدہ طورپر کا وشیں کی جائیں گی ،اس کے ساتھ ہی افغانستان کے منتظم اعلیٰ عبداللہ عبداللہ نے اس امر کا اعترا ف بھی کیا کہ پاکستان کو انتہا ئی مطلو ب شخص ملا فضل اللہ افغانستان میں اپنی محفو ظ پناہ گا ہ میں پنا ہ گیر ہے ۔ جب کہ افغانستان کا پا کستان سے حقانی گروپ کے خلا ف کارروائی کا مطالبہ ہے اور حقانی گروپ کے لیڈر وں کو افغانستا ن کے حوالے کرنے کا مطا لبہ ہے ۔جہا ں تک حقانی گروپ کا تعلق ہے اس کا پاکستان میںکوئی وجو د نہیں ہے کیو ں کہ افغانستا ن کی جو صورت حال ہے اس کے مشاہد ے ہی سے علم ہو جا تا ہے کہ اشرف غنی کا افغانستان میں کہا ں تک کنٹرول ہے۔ اگر یہ کہا جا ئے کہ ساٹھ فی صد افغان علا قے پر افغانستا ن کی حکو مت کاکنٹرول نہیںہے اور خا ص طورپر جنو بی افغانستان میں تو دس فی صد علا قے پر ہی کنٹرول ہے اورنو ے فیصد پر طالبان کا راج ہے تو یہ مبالغہ نہ ہو گا اس لیے طالبان یا کوئی اور گروپ ہو اس کو اپنی جد وجہد کے لیے افغانستان سے باہر اپنے ٹھکا نے بنا نے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ علا وہ ازیں پاکستان نے حالیہ آپر یشن ضرب عضب کے دوران ایسے تما م مشکو ک ٹھکانے نیست ونا بود کر دیے ہیں جس کا عالمی سطح پر اعتراف بھی کیا گیا ہے ۔سب سے اہم خبریہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیا ن دوبارہ دفاعی معاہدہ کر انے کی سعی ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی کوشش جاری تھی کہ قندھا ر میں بم دھماکا ہو ا جس کے بعد دونو ں ملکو ں کے درمیان اس مو ضو ع پر بات چیت التو اء کا شکار ہوگئی تھی،افغانستا ن کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی پا کستان سے حالا ت کو خوشگوار کر نے کے اقدام ہو تے ہیں تو کچھ بیر ونی طا قتیں ان کو سبو تا ژ کردیتی ہیں ۔اسی طر ح جب افغانستان کی خا د کے بعد بننے والی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور پاکستانی ایجنسی کے ما بین تعاون کا معاہد ہ ہو نے والا تھا ، اس کو سبو تا ژ کیا گیا ۔ تاہم بات کھل جا نے پر این ڈی ایس کے اس وقت کے سربراہ کو بر طر ف کر دیا تھا ۔ افغانستان اور امریکا کو یہ جا ن رکھنا ہو گا کہ پا کستان کے بغیر افغانستان کو روٹی بھی ہضم نہیں ہو سکتی ، امریکا کو گزشتہ دس سال میںاس کا اچھا خاصا تجر بہ ہو چکا ہے۔ تاریخ اس گواہی سے بھری پڑ ی ہے ۔ اس لیے لا کھ جتن کے با وجو د افغانستان میں کسی تیسری طا قت کے کر دار کو پنپنے کا مو قع مل سکا ہے اور نہ دیا جاسکتا ہے ۔یہ صرف مذ ہب ، دین یا نسل کی وجہ سے نہیں بلکہ جغرافیا ئی حقائق کی وجہ سے بھی ہے اور جغرافیہ نہیں بدلا جا سکتا ۔

متعلقہ خبریں