دم توڑ معاشرتی اقدار اور علماء کی ذمہ داری

دم توڑ معاشرتی اقدار اور علماء کی ذمہ داری

اسلام میں عبادات و اخلاقیات کا بہت جامع اور خوبصورت نظا م ہے ۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو عبادات کے ذریعہ ایسی تربیت فراہم کرتا ہے جس سے اُن کے اخلاق حسنہ ترتیب پاتے ہیں ۔نبی کریم ۖکی آمد و تشریف آوری سے قبل معاشروں میںاخلاقیات نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی ۔ جنگ (فساد) چوری غصب ،خیانت ، جھوٹ ، غیبت ، سب وشتم ، حسد ، قما ربازی ، بد کاری و شراب نوشی ، ظلم و بر بر یت ناپ تول میں کمی ، تکبر و زبردستی ، بد عہدی و فحاشی الغرض منکرات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جو سطح زمین کے مختلف حصوں میں آباد انسانوں کے مختلف معاشروں میں رائج تھا ۔ آپ ۖ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے جو تعلیمات وصول کیں ، اُن میں ایک طرف عقائد و عبادات اوردوسری طرف ان کا آئوٹ پٹ (ما حصل اور ثمرہ ) اخلاقیات ومعاملات کی صورت میں نظر آنے لگا ۔ عقیدہ تو حید نے مکہ مکرمہ کے باشندوں کی کایاپلٹ دی ۔ خدا کے حاضر و ناظر اور علیم بذات العدور اور دیگر صفات کے حامل ہونے کے عقیدے نے ایک ایسی جماعت تشکیل دی جو اُس وقت سے لیکر قیامت تک بے مثال رہے گی ۔ جس طرح سرکار دو عالم ۖ نے فرمایا ہے کہ ''سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے '' پھر اس کے بعد کا اور پھر اس کے بعد کا ''۔سرکار دوعالمۖ کے بہترین زمانے کی پہچان کی جو امتیازی خصوصیات تھیں اُن میں سے ہر صفت اپنی جگہ شاندار اور انسانیت کی سلامتی اور تحفظ کے لئے بے مثال تھی کسی انسان کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف و ضرر پہنچنے کا احتمال بہت کم ہوتا ، لیکن ، کہیں بندہ بشر ہونے کے سبب کسی کو دوسرے سے کوئی ضرر یا نقصان پہنچ جاتا تو اُس کی تلافی کے لئے ایسی قانون سازی ہوئی تھی اگر کسی کا بال بھی بیکاہو جاتا تو اُس کا بدل یا اجر ومعاوضہ دینا پڑتا ۔ یہاں تک کہ اگر کہیں خطا سے بھی کسی کا نقصان ہو جاتا تواس کو پورا کیا جانا ضروری تھا ۔ آج بھی وہ قانون سازی اُس حالت میں موجود ہے اور قیامت تک اُ س میں یہ صلاحیت کہ انسانی معاشروں کو وہی نتائج فراہم کرے جو آج سے چودہ سو برس قبل فراہم کئے تھے ۔ قرآن کریم میں جن جرائم کی سزا بیان ہوئی ہے وہ حدود کہلاتی ہیں اور جن جرائم کی سزا احادیث میں بیان ہوئی ہے یا اُس زمانے کے فقہا ء نے قرآن وسنت کی روشنی میں حدود کے علاوہ جرائم کی سزا کے لئے قانون سازی کی ہے اور اس قسم کی قانون سازی مسلمانوں کے فقہا ء و مجد دین پر اپنے زمانوں کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق چھوڑی ہے وہ تعزیرات کہلاتی ہے ۔ کسی زمانے میں اسلامی معاشروں کی امانت و دیانت کا یہ حال تھا کہ راہوں میں گری پڑی چیزکو بھی کوئی نہ اُٹھا تا ، کیوں کہ یہ بات ہر مسلمان پر واضح تھی کہ اس قسم کی چیز حرام ہے اور اس کو استعمال کرنا یا اس سے فائدہ اٹھا نا ناجائز ہے ،لہٰذا و ہ چیز اپنی جگہ پڑی رہتی یہاں تک کہ اُس کا مالک واپس ہوتا تو اُسے اپنی چیز اُسی جگہ مل جاتی ۔ لیکن پھر زمانہ ایسا بدلا اوربگڑاکہ مملکت خداداد میں جو اسلام کے نام پر قائم ہوا بد اخلا قی کی ایسی وبا پھیلی کہ ہیروئن نام کا نشہ لوگوں میں اتنا عام ہوا کہ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں نوجوانوں اور نو خیز بچوں کے غول کے غول کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں اور پلوں کے نیچے چادروں کے تمبو بنائے ہوئے اس خبیث نشہ میں دھت رہتے ہیں اور نشہ کے حصول کے لئے قتل و غارت اور سنگین جرائم کے ارتکاب سے نہیں چو کتے ، چوری تو اُن کے لئے عام سی بات ہے اور اس سلسلے میں حجرہ و مسجد اور مزارو خانقاہ کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ ہمارے بڑے شہروں میں گڑوں کے ڈھکن سے لیکر دو رویہ سڑکوں کے درمیان لوہے کے جنگلوں اور پلوں پر ریلنگ اور کیمروں وغیرہ کو اڑانا معمول کی بات بن گئی ہے ۔ ان چوروں کے ہاتھوں نہ صرف بعض اوقات امن ِ عامہ اور انسانی جانوں کے حوالے سے بڑے نقصانات کے واقعات جنم لیتے ہیں بلکہ ہمارے قومی و ملی وقار کو بھی بہت دھچکا لگتا ہے ۔ پچھلے دنوں سائبیریا کا ایک سیاح پشاور وارد ہوا اور تاریخی مسجدمہابت خان کی تصاویر بنانے پہنچا ۔ اُس بیچارے مسافر کو معلوم نہ تھا کہ اپنے قیمتی بوٹ اپنے ساتھ مسجد کے اندر لے جائے بلکہ اس کو معلوم تھا کہ مسلمان مسجد کے تقدس کی وجہ سے جوتے باہر اُتار کر اندر جاتے ہیں ۔ لیکن جب وہ باہر آیا تو اُس کے بوٹ غائب تھے۔تاریخی مسجد کے میزبانوں نے شرمندہ و شرمسار ہو کر ، ہیروئنچیوں کو بد نام کرتے ہوئے عام لوگوں کی پردہ پوشی کرنا چاہی لیکن وہ بار بار سوال کرتا رہا کہ مسلمان مسجدوں سے چوری کیسے کرتے ہیں ۔ اُس بے چارے کو کیا معلوم تھا کہ مسجد سے جوتوں کی چوری (اور وہ بھی غیر ملکی جوتے ) تو عام سی بات ہے ، ہمارا بس چلے تو ہم پوری مسجد چوری کرنے سے بھی نہ چو کیں کیونکہ ، جھوٹ ، چوری خیانت ،ہماری خصلت بن چکی ہے۔ اہل منبر و محراب اور تبلیغی جماعت والوں کو ان معاملات کا نوٹس لینا چاہیے اور جمعہ کے خطبات میں غیر ضروری ، مسلکی اور بلند آہنگ علمیت کے مسائل پر چیخ چنگا ڑ کی جگہ عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات میں اخلاقیات و معاملات کو سنوارنے پر جوتاکید آئی ہے اُس سے باخبر کرنے کی کوشش کریںاور حکومت کو چاہیے کہ رات کو پولیس گشت کو لازم بنائیں ، علماء لوگوں میں حلال و حرام کی تمیز اور چوری اور حرام کے مال سے متعلق تعلیمات عام کریں ۔

متعلقہ خبریں