پہلے بنیادی غلطی درست کرلیں

پہلے بنیادی غلطی درست کرلیں

دہشت گردی کی جس نئی لہر کا ہمیں سامنا ہے ہم سب اس کے جواز تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی کسی جانب اشارہ کرتے ہیں کبھی کسی طرف دیکھتے ہیں۔ دشمنوں میں گھرا ہوا ایک ملک اپنی بد قسمتی کا الزام دھرنے کو مجرم تلاش کر رہاہے۔ بہت سی باتیں ہیں جنہیں سمجھنے اورآج ان کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ یہ مسائل کبھی ختم نہ ہوں گے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کونسی غلطیاں ہیں جن کا نتیجہ یوں نکل رہاہے۔ کئی خاموش نگاہیں وہ باتیں کہہ رہی ہیں جنہیں ہم با آواز بلند نہیں کہنا چاہتے۔ کسی جانب سے کوئی سرگوشی یہ بھی کہتی ہے کہ آخر ایسی کون سی تبدیلی ہے کہ ہمارے دشمن ایسے منہ زور ہو رہے ہیں۔ یہ ہمسائے تو پہلے بھی تھے اور ہمارے حکمرانوں کی خاموشی میں کوئی تبدیلی نہیں۔ پھر جو بدلاہے کیا اس ایک شخص میں کوئی ایسی بات تھی کہ دشمن اس کی موجودگی میں ایسی کوئی جرأت نہ کرسکتا تھا اور اس کے نہ ہونے سے بے باک ہو رہا ہے۔ کسی دوسری جانب سے آواز آتی ہے کہ دشمن کو وار کرنے کا موقع ہی اب ملا ہے۔ تفتیش ہو رہی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ویب سائٹ جہاں سے لاہور پر حملے کا اقرار کیاگیا اس کا آئی پی ایڈریس ہی بھارت کے شہر چنائی کاہے۔ تجزئیے کرنے والے کہتے ہیں کہ بھارت ہمارا دشمن تو ہے لیکن بھارت کی موجودہ حکومت انتہا پسند ہے۔ اس کی انتہا پسندی کی ایک طویل تاریخ ہے اور اس تاریخ کے ہرایک صفحے پر ان لوگوں کی سفاکی کی داستانیں تحریر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود اپنے ملک کے لئے خطرہیں۔ بھارت کے مایہ ناز صحافی خشونت سنگھ نے اپنی کتاب میں اس بات کا تجزیہ بہت تفصیل سے کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں کئی قومیں بڑی اقلیت کی صورت میں موجود ہیں ایسی حکومت در اصل ملک کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ یہ جس تعصب کی داعی ہیں وہ بھارت کی ایک بہت بڑی آبادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہیں نشانہ بناتا ہے جو خود بھارت کے بنیادی نظریات کے منافی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ساری صورتحال میں صرف بھارت حصے دار نہ ہو بلکہ پاکستان میں سی پیک کے نام سے ترقی کا جو نیا راستہ کھلنے جا رہا ہے اس کا بھی عمل د خل ہے اس میں پاکستان سے خطرہ محسوس کرنے والے کئی عناصر ہیں۔ یہ سارے عناصر مل کر بھی اور اپنی اپنی جگہ بھی پاکستان کو یا اس اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔ بات صرف اتنی ہی نہیں چین کے بھی کئی دشمن ہوں گے جو چاہتے ہوں گے کہ چین کا یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو وہ بھی کوشش کرتے ہوں گے کہ بات بس اسی حد تک محدود ہو کر رہ جائے۔ یہ ممکن ہے کہ پاکستان اس وقت چین کے ان دشمنوں کا بھی مقابلہ کر رہاہو۔ ایک دو نہیں ہیں ان گنت سمتیں ہیں ' ان گنت جہتیں ہیں۔ ہمیں جواب تلاش کرنے میں جواز تلاش کرنے ہیں لیکن منزل کیا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ ان جوابوں کی تلاش سے کونسے راستے نکلتے ہیں اور کہاں تک جاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم محض ان تجزیوں تک ان جوابوں تک محدود ہو جانا چاہتے ہیں' دشمن تلاش کرلینا چاہتے ہیں' دشمنی کی وجہ سمجھ لینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سب کا سد باب نہیں کرنا چاہتے۔ شاید اس لئے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم یہ سد باب کر ہی نہیں سکتے یا شاید اس لئے کہ ہمارا خیال ہے کہ جواز تلاش کرلینا بہت ہے ہمیں اس سے زیادہ کی ضرورت ہی نہیں۔ یا پھر و ہ جو اس وقت فیصلے کرنے پر قادر ہیں یہ فیصلہ ان کے بس میں نہیں۔ ان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ وہ مجبوریاں جو کبھی ان کے کاندھوں پر ڈالے دبائو کی مٹی سے جنم لیتی ہیں یا ان کے اپنے مفادات جو کبھی شوگر ملوں کی صورت میں اور کبھی کسی اور کاروبار کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ کون جانے کہ حقیقت کس بات سے جنم لے رہی ہے یا ان سب باتوں کا ' آج کے مکمل منظر میں کتنا کتنا حصہ ہے۔
بات صرف اتنی سی ہے کہ وجوہات کچھ بھی ہوں' کسی کا کتنا بھی حصہ ہو، اس سب کا شکار عام آدمی ہے۔ لاہور میں دھماکہ ہوجائے' عام آدمیوں کے ساتھ پولیس والے بھی مارے جائیں' تنگی میں دہشت گرد کچہری میں اور کمرہ عدالت میں داخل ہونے کی کوشش میں مارے جائیں' سیہون میں دھماکہ ہو جائے' ہر جگہ سے عام آدمی کے جسم کے ٹکڑے اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ یہ پولیس والے ' یہ فوجی جو ہماری حفاظت کے لئے سینے تان کر سامنے آگئے ہیں یہ سب عام لوگ ہیں۔ عام آدمی مکھیوں کی طرح مرتے ہیں۔ حکمرانوں کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا وگرنہ ایک عوامی مینڈیٹ سے منتخب ہونے والا وزیر اعظم اپنے لوگوں کو' اپنے ملک کو اس حالت کرب میں چھوڑ کر ترکی کے دورے پر کیوں چلا جائے۔ یہ صرف تاجر ہیں' صرف بزنس مین ہیں۔ یہ ہم سے چھیننا تو چاہتے ہیں ہماری طرف کچھ لوٹانا نہیں چاہتے۔ انہیں اس سے کوئی علاقہ نہیں کہ یہ ملک دہشت گردی کاشکار ہے۔ ایک عام آدمی ' ایک عام پولیس والا' ایک رینجرز کا سپاہی کس طرح اپنے ملک کی حفاظت کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ افسوس تو اسی عام آدمی پر ہے جو انہیں ووٹ دیتا ہے اور پھر خود ان کی بے حسی کا نشانہ بنتا ہے۔ ہم یہ جواز کیوں تلاش کر رہے ہیں سب سے پہلے تو اپنی اس بے حسی کے جواب تلاش کرلیں ' اپنی بے وقوفی کے جواز تلاش کریں۔ اپنی نظر میں اپنی ہی بے وقعتی کے جواز تلاش کرلیں تاکہ بنیادی غلطی درست کی جاسکے۔

متعلقہ خبریں