امریکہ سے تعلقات مستحکم کرنے کے تقاضے

امریکہ سے تعلقات مستحکم کرنے کے تقاضے

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ پاکستان امریکہ سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اتحادی ہونے کے باوجود اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی گرم جوشی کا دور روس کی تحلیل سے قبل کا تھا لیکن اسی دوران بھی امریکہ نے عملی اتحادی ہونے کا ثبوت نہ دیا۔ پاک بھارت جنگ کے دوران ایک اتحادی ملک ہونے کے ناتے امریکہ کو پاکستان کی جس طرح مدد کرنی چاہئے تھی اس سے وابستہ توقعات پوری نہ ہوسکیں اور امریکی بحری بیڑے کی آمد کا انتظار ہماری تاریخ میں ضرب المثل بن چکا ہے۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ نے پاکستان کا اتحادی ہونے کے باوجود بھارت کے لئے موافق کردار ادا کیا جبکہ جس روس کے مقابلے میں ہم نے امریکہ کے ساتھ کھڑے ہو کر سوویت یونین کی ناراضگی مول لی تھی اس نے بھارت کا بھرپور ساتھ دیا۔صرف اس موقع پر ہی نہیں امریکہ کو جب بھی ہمارے کندھے کی ضرورت پڑی اس وقت ہی پاکستان سے تعلقات کو انہوں نے وقتی نسخہ کیمیا کے طور پر بروئے کار لایا۔ مطلب نکل جانے کے بعد امریکہ کا کردار بے وفا آشنا سے زیادہ کا نہ رہا۔ افغانستان میں روس کی آمد پر سفید ریچھ سے پنجہ آزمائی پاکستان اور امریکہ دونوں کی مجبوری تھی۔ سفید ریچھ کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب پورا نہ ہونے اور روس کی تحلیل کے بعد امریکہ ہرجائی پن کے روایتی کردارپر اترا اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے پیینگیں بڑھائیں تو پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کا قیام ایک ایسا موثر رد عمل تھا کہ پاکستان کے پاس اگر اس طرح کے رد عمل کا موقع نہ ہوتا تو نجانے ہم آج کہاں کھڑے ہوتے۔ علاوہ ازیں پاک چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے اس میں شمولیت میں دلچسپی جیسے عالمی حالات کے بعد اب پاکستان کے لئے امریکہ ناگزیر نہیں مگر امریکہ اس کے باوجود بھی کم از کم مسئلہ افغانستان کا حل سامنے آنے تک پاکستان سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہے۔ اس ساری صورتحال کے تناظر کے باوجود بہر حال امریکہ ایک بڑا اور طاقتور ملک ہے جس سے تعلقات ہر ملک کی ترجیحات میں شامل ہونا فطری امر ہے۔ اگرچہ اسلام اور عالم اسلام کے حوالے سے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی خطاب سے ہی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اس کا زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں۔ اسے معمول کے جذبات کی ترجمانی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخاب کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سے فون پر جو بات چیت کی تھی اگرچہ اس کے مندرجات اور زباں و بیاں کے حوالے سے میڈیا میں مختلف قسم کی آراء سامنے آئیں لیکن بہر حال اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ٹرمپ اور وزیر اعظم نواز شریف کا رابطہ ہوا تھا جو اس امر کا اظہار ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے جداگانہ خیالات کے باوجود پاکستان کی وقعت اور اہمیت کا اندازہ ہے مگر اس سے کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے ۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے امریکہ کی عالمی فوجوں کے ساتھ افغانستان آمد کے موقع پر جس نوعیت کے معاملات درون خانہ اور برملا طے پا گئے تھے ایسا لگتا ہے کہ حالات و واقعات میں تبدیلی کے باعث جہاں اس سے استفادہ کیا گیا وہاں دونوں ممالک کے درمیان بد اعتمادی اور ایک دوسرے سے چالبازی کے باعث دونوں کا محتاط رویہ اب ایک خلیج کا باعث بننے جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف مزید سے مزید کارروائی کی فرمائش جسے ڈو مور کی اصطلاح ملی ہے اس خلیج میں اضافے کا باعث بن رہا ہے اور جب تک یہ معاملہ کسی منطقی انجام سے دو چار نہیں ہوتا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہونا مشکل ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ کا بھارت کی جانب جھکائو نا قابل برداشت حدوں کو چھونے کی جانب گامزن دکھائی دیتا ہے خاص طور پر ایٹمی معاملات میں امریکہ اور بھارت کا تعاون پاکستان کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ ان حالات میں امریکہ سے تعلقات خوشگوار بنانا ایک خواہش تو ہوسکتی ہے مگر وزیر اعظم کی جانب سے اس کے اظہار کے باوجود عملی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا استحکام مستقبل قریب میں ممکن نظر نہیں آتا البتہ اگر نئی امریکی انتظامیہ افغانستان میں اپنے کردار پر نظر ثانی کرتی ہے اور بھارت اورپاکستان سے تعلقات میں توازن پیدا کرتی ہے تو بہتری ممکن ہے۔ مگر خطے میں تبدیل ہوتے حالات خاص طور پر سی پیک کے باعث نئے ممالک سے پاکستان کی قربت اور چین کی اعانت سے ملکی معیشت کو سہارا دینے جیسے حالات کے بعد پاکستان دشواریوں سے نکلنے کی پوزیشن میں آئے گا۔ امریکی امداد پر انحصار کم ہونے کے بعد پاکستان کو پہلے کی طرح امریکی شرائط پر معاملات طے کرنے کی مشکل کا سامنا نہ رہے گا جس کے بعد معاملات طے کرنے کا تبدیل شدہ انداز ہی تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ ان حالات میں امریکہ کو بھی پہلے کی طرح کے نہیں پاکستان سے اپنے تعلقات کو تبدیل شدہ حالات کے مطابق ڈھالنا پڑے گا۔ بہر حال پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں اور آئندہ بھی اس حوالے سے یقینی طور پر کچھ کہنا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ پاکستان کی اہمیت کا ایک مرتبہ پھر اندازہ لگائے جبکہ پاکستانی قیادت کی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں ایسی کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں کہ امریکہ سے تعلقات میں پاکستانی مفادات کی نگہبانی کا فرض بھی پورا ہو اور امریکہ و پاکستان کے درمیان اعتماد کے تعلقات قائم ہوں۔ حکومت کی تبدیلی ممالک کے درمیان تعلقات پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے استحکام کے لئے اعتماد کی فضا قائم کرنے پر توجہ ضرور دینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں