بردہ فروش خاتون کی گرفتاری کافی نہیں

بردہ فروش خاتون کی گرفتاری کافی نہیں

فقیر آباد سرکل پولیس کا کمسن بچوں کے اغواء اور فروخت میں ملوث خاتون کی گرفتاری اگر اتفاقی واقعہ نہیں تو یہ پولیس کی بڑی کامیابی ہے۔ جن حالات میں ملزمہ کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اس میں پولیس کی منصوبہ بندی کم اور ملزمہ سے بچی کی منتقلی میں غلطی سرزد ہوئی ہے جس کے باعث وہ اچانک مشکوک ٹھہری۔ بہر حال ملزمہ اگر راہ چلتے بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئی ہے تو اس کا کریڈٹ پولیس کو ضرور جاتا ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمہ ایک منظم گروہ کی رکن ہے ایسے میں گروہ کے دیگر ارکان کا کھوج لگائے بغیر اور ان کی گرفتاری کے بغیر ملزمہ کی گرفتاری ظاہر کیوں کی گئی۔ اگر گروہ کے دیگر ارکان کو گرفتار کرلیاگیا ہے تو ان کی گرفتاری ظاہر کرلینی چاہئے تھی۔ پولیس کو میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی جلدی کی بجائے اپنی کارکردگی کو حقیقی بنانے اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں راز داری اور غیر محسوس طریقے سے ملزموں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا وتیرہ اختیار کرلینا چاہئے۔ پولیس جس طرح سے کسی ملزم کے ہاتھ لگتے ہی میڈیا پر اس کی تشہیر کرکے کارکردگی دکھانے کے چکر میں ہوتی ہے یہ پیشہ ورانہ تقاضوں کی سراسر خلاف ورزی ہے جس کا آئی جی اور سینئر افسران کو نوٹس لینا چاہئے۔ صوبے میں بردہ فروش گروہ اور بچوں کے اغواء کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ اگر تمام واقعات کی بھنک میڈیا کو پڑنے لگے تو تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اغواء کی خبریں خبروں کا موضوع بن جائے اور پولیس پر دبائو بڑھے ۔ اس وجہ سے پولیس اغواء کے واقعات کی تو رپورٹ ہونے میں مزاحم ہے مگر کہیں کامیابی ملے تو پولیس میڈیا کو متوجہ کرتی ہے۔ پولیس کو ملزمہ کی گرفتاری کے بعد گروہ کے ارکان کی گرفتاری میں سرگرمی اور دلچسپی کا مظاہرہ کرلینا چاہئے تاکہ اس طرح کے واقعات میں کمی آئے۔
رپورٹ نہیں فوری علاج
خیبر پختونخوا میں 20مہلک بیماریوں کی درجہ بندی اور سات دنوں کے اندر رپورٹ کرنے کا اقدام انتظامی ضرورت اور محض اعداد و شمار اکٹھی کرنے کا مقصد کا حصول ضرور ہوگا مگر اس سے مریضوں کو علاج کی بہتر سہولت ملنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وبائی بیماریوں کے پھوٹنے کی طرف عموماً ذرائع ابلاغ ہی متوجہ کرتی ہیں مگر اس کے باوجود بروقت ادویات اور طبی عملے کی فراہمی اور وباء پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات میں تاخیر ہی انتظامیہ کا وتیرہ رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت بھی اس کا نوٹس نہیں لیتی بلکہ حکومت اس صورتحال کو اپنی بد نامی سے تعبیر کرکے اعتراف حقیقت کرنے اور اصلاح احوال کے اقدامات کی بجائے صورتحال پر پردہ ڈالنے کی سعی میں رہتی ہے ۔ حالانکہ اگر حکومت اس طرح کے اقدامات کا نوٹس لے اور متعلقہ افسران کے خلاف غفلت برتنے اور تساہل کا مظاہرہ کرنے پر کارروائی ہو تو عوام میں نہ صرف اس کا مثبت تاثر ہوگا بلکہ متعلقہ عملے میں بھی خوف پیدا ہو اور وہ آئندہ محتاط ہو جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کو ان امراض کی درجہ بندی اور رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ ان امراض کا بروقت علاج ممکن بنانے کے لئے ویکسین اور ادویات کی باقاعدہ فراہمی' متعلقہ ہسپتالوں اور مراکز صحت میں موجودگی اور وبائی صورت اختیار کرنے پر ہنگامی طور پر ادویات اور طبی ٹیموں کی بہم رسائی کو ممکن بنانے کی ترکیب کرنی چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ دوسرے اقدام کے طور پر حکومت موخر الذکر انتظامات پر توجہ دے گی اور وصول شدہ اعداد و شمار کی روشنی میں علاج کے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں