ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات

ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات

وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں امریکہ سے پاکستان کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کی طرف سے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں اگر ان کا ذکر وزیر اعظم نے کیا ہے تو جس اخبار نے اس مفہوم کی شہ سرخی جمائی ہے اس کی خبر میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ ان سے پہلے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز بھی یہی کہہ چکے ہیں۔ لیکن میڈیا سے ان کی گفتگو میں بھی یہ واضح نہیں ہوا کہ پاکستان کی طرف سے امریکہ کی نئی انتظامیہ سے بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے کیا کیا جارہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ خارجہ امور سے متعلق کم ازکم دو باتیں ضرور کہہ چکے ہیں ۔ ایک انہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ان کے عہدہ سنبھالنے کے دو روز بعد ہی یہودیوں کی نئی بستیوں کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کی مخالفت اقوام متحدہ کا ادارہ کر چکا ہے۔ انہی دودنوں کے اندر انہوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس گفتگو کو خوش گوار بھی قرار دیا۔ انتخابی مہم کے دوران خارجہ تعلقات سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو بھارتی انہیں وائٹ ہاؤس میں اپنا دوست پائیں گے ۔ اور صدر کے طور پرحلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ ''بین الاقوامی اسلامی انتہا پسند دہشت گردی'' کو زمین کے نقشہ سے نابود کر دیں گے۔ جہاں تک تجارتی روابط کی بات ہے ڈونلڈ ٹرمپ کا نعرہ امریکہ امریکیوں کے لیے ہے۔ انہوں نے امریکی عوام سے کہا ہے کہ وہ امریکی مصنوعات خریدیں اور امریکیوں کو ملازمتیں دیں اس سے وزیر اعظم نواز شریف کے ''امداد نہیں تجارت'' کے نعرے کو امریکہ میں پذیرائی ملنے کی توقع کم ہو جاتی ہے۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی روابط مزید مستحکم کرنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کے ذمہ دار اس بارے میں خاموش ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہے ساراملک اس وقت پاناما کیس کے بخار میںمبتلا ہے۔ لیکن حکومت کے پالیسی سازوں کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کے اہم ملک امریکہ میں آنے والی تبدیلی کے پیشِ نظر اپنی پالیسی اور ترجیحات پرنظر ثانی کریں اور جن تاجروں اور صنعتکاروں کے تجارتی روابط امریکی کمپنیوں سے ہیں بدلے ہوئے حالات میں انہیں رہنمائی مہیا کریں ۔ پاناما کیس کا فیصلہ اب چند دنوں کی بات دکھائی دیتی ہے۔ اپوزیشن والے بار بار کہہ رہے ہیں کہ جو بھی فیصلہ ہوگا ان کے لیے قابل قبول ہوگا ۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیںکہ وہ وزیر اعظم کی حکمرانی پر سوالیہ نشان ثبت کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ باقی کام وہ رواں سال کے اندر جسے عام انتخابات کی تیاریوں کی سال قرار دیا جارہا ہے مکمل کر لیں گے۔ فاضل جج صاحبان بار بار کہہ رہے ہیں کہ ''فیصلہ کے لیے درکار ثبوت نہ وزیراعظم اور حکومت کی طرف سے دیے گئے اور نہ ہی دوسرے فریق ، اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے آئے ہیں۔'' اس لیے دونوں فریقوں کو کوئی بڑی آس نہیں لگانی چاہیے۔ 

غالباً اسی یقین کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف ایسے بیانات دے رہے ہیں جن کا تعلق 2018ء کے عام انتخابات سے ہے مثال کے طور پر لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کا بحران 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح وہ دوسرے کئی منصوبے بھی 2018ء کے انتخابات کے ساتھ منسلک کرتے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی یہ ترجیح ان کی صوابدید ہے لیکن بعض معاملات مثال کے طور پر دہشت گردی ایسے موضوع ہیں جن کی نوعیت کسی مختصر عرصے کے ساتھ وابستہ نہیں ہے۔دہشت گردی ایسا رویہ ہے جو دنیا بھر میں نظر آ رہاہے۔ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے برعکس انتہا پسندانہ دہشت گردی کو اسلام یا مسلمانوں کے ساتھ منسلک کرنا مناسب نہیں یہ ٹھیک ہے کہ آج دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں خبریں اکثر مسلمان اکثریت کے ملکوں سے آ رہی ہیں جب کہ اسلام رواداری ' اخوت اور مساوات کا علمبردار ہے۔ لیکن دہشت گردی صرف اسلامی ملکوں تک محدود نہیں ۔ اگر اس صورت حال کو اسلامی انتہا پسنددہشت گردی قراردیا جائے تو بھارت میں ہندو دہشت گردی ' فلسطین میں یہودی دہشت گردی اور میانمار میں بودھ دہشت گردی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی ایک رویہ ہے جس کے لیے مختلف مذاہب کا نام استعمال کیا جاتا ہے اس لیے دہشت گردی کو کسی مذہب سے وابستہ کرنا گمراہ کن ہوگا۔ پاکستان نے دو سال کے ضرب عضب آپریشن کے دوران دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کو شکست دی اور امن وامان کو تقویت دی ۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیںکرنا چاہیے کہ پاک فوج اور پاکستانی قوم بھی مسلمان اکثریت کی قوم کی تھی اور انتہا پسندبھی کوئی غیر مسلم نہیں تھے وہ بھی اسلام کا نام لیتے تھے۔ تاہم دونوں کا سیاسی ایجنڈا مختلف تھا۔ اور پاک فوج کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
ٹرمپ جب کہتے ہیںکہ وہ دہشت گردی کے خلاف مہذب ملکوں کا اتحاد قائم کریں گے تو اس عالمی اتحاد میں پاکستان کا مقام کلیدی ہونا چاہیے کہ پاکستان نے ایک دہشت گرد تنظیم کو شکست دی ہے جو مذہب کانام استعمال کررہی تھی۔ اور اس اتحاد کا ہدف محض جسے ٹرمپ اسلامی دہشت گردی کہتے ہیں اس کی بجائے دنیا بھر میں جہاں بھی دہشت گردی دکھائی دے ہوناچاہیے۔ یعنی دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے۔ نہ کہ'' اسلامی انتہا پسندانہ دہشت گردی'' کو منفرد کرکے۔ دنیا میں اور مذاہب کے نام پرجاری دہشت گردی کو کھلی چھٹی دے دی جائے۔ یہ پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے لیکن اس چیلنج کو قبول کیے سوا کوئی چارہ نہیں۔

متعلقہ خبریں