فاٹا اصلاحات : سود مند یا نقصان دہ ؟

فاٹا اصلاحات : سود مند یا نقصان دہ ؟

ہمارے نظام کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ یہ نظام عوام کی امنگوں پر پورا اترنے میں ہمیشہ سے ناکام رہا ہے۔ اس کی ایک مثال آج کل فاٹا کو خیبر پختونخوامیں شامل کرنے والی مہم ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات بھی فاٹا کے خیبر پختونخواکے ساتھ انضمام کے حق میں ہیں۔ اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو فاٹا کی خیبر پختونخوا میں شمولیت اتنی آسان نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا فاٹا میں رہنے والے قبائیلیوں نے اپنے علاقے کی الگ حیثیت اور اپنی شناخت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ؟ اگر ایسا مطالبہ نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت فاٹا کے مکینوں کی زندگی میں بہتری لانے اور علاقے کی ترقی کے لئے فاٹا کا خیبر پختونخوا سے انضمام چاہتی ہے۔اب یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے سے فاٹا کے باسیوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی میں بہتری آئے گی؟ سب سے پہلے تو ہمیں علاقے کی معاشی پسماندگی کی وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایک بات تو ہم سب پر واضح ہے کہ فاٹا کے موجودہ قوانین کمیونیکیشن، تعلیم، صحت، زراعت، توانائی اور پانی جیسے کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے لے کر آج تک فاٹا کی تمام سات ایجنسیوں اور متصل ایف۔آرز میں سڑکوں، سکولوں ، کالجوں، ہسپتالوں، واٹر سپلائی سکیموں، آب پاشی اور توانائی کے لئے بنائے جانے والے منصوبے کسی بھی مداخلت کے بغیر مکمل ہوتے رہے ہیں اور ان منصوبوں کے راہ میں 'نظام' نے کوئی روڑے نہیں اٹکائے۔ موجودہ نظام کی بجائے ترقیاتی منصوبوں کی مقدار اور معیار فاٹا میں پسماندگی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ فاٹا میں قائم حکومتی اداروںمیں کی جانے والی کرپشن کو علاقے کی پسماندگی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ کیا 'نظام' کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہوتا ہے یا یہ حکومتی پالیسیاں ہیںجو کہ کرپشن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں؟ جب حکومت کرپشن کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے فاٹا میں افسران تعینات کرتی ہے تو کیا فاٹا کے 'نظام' کو اس کا قصور وار قرار دیا جانا چاہیے نہ کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے پالیسی سازوں کو ؟ اگر ایک اچھا گورنر علاقے کے حالات کو سمجھتے ہوئے میرٹ پر محنتی اور دیانتدار افسران کو فاٹا میں تعینات کرے تو کیا علاقے کے حالات میں بہتری نہیں آ سکتی ؟2002-03 میں جنرل مشرف کی طرف سے فاٹا میں فوج بھیجنے کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ شدت پسندوں نے بہت سے علاقوں پر اپنا قبضہ مضبوط کیا جس کے جواب میں حکومت نے کسی بھی مخالفت یا اپوزیشن کے بغیر مختلف علاقوں میں بمباری کرنے، عمارتیں گرانے اور لوگوں جیلوں میں ڈالنے کے احکامات جاری کئے۔کیا ملک کے دیگر صوبوں میںایسے احکامات اتنی آسانی سے جاری کئے جاسکتے ہیں؟ یہ فاٹا کا موجودہ نظام ہی تھا جس کی بدولت حکومت کو شدت پسندوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے میں آسانی رہی۔اگر قبائلی علاقوں اور دیگر علاقوں کی نظام کی خوبیوں اور خامیوں کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ قبائلی علاقوں میں قائم نظام دوسرے نظام کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میںکام کرتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں قائم نظام فوری انتقام، جرگہ اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ نظام امن و امان کا ضامن ہے۔ قبائلی علاقوں میں جرائم کی شرح دیگر علاقوں کی نسبت تقریباً دس گنا کم ہے۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو سیٹلڈ ایریاز میں کسی بھی جرم کے سرزد ہونے کی صورت میں دونوں فریقین کو ایک طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ فاٹا کے معاشی طور پر پسماندہ مکین وکلاء کی فیسوں اور دیگر اخراجات کے لئے نئے معاشی وسائل تلاش کریں؟ایک ایسے وقت میں اصلاحات کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے جب فاٹا کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، انفراسٹرکچر ختم ہو چکا ہے، گاوں دیہات، قصبے ، مارکیٹس اور گھر تباہ ہو چکے ہیں، ہزاروں معذور اور سینکڑوں زخمی ہیںاور تقریباً 140000 قبائلی افغانستان کے صوبے خوست میں پناہ لینے پر مجبور ہیں ؟ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو کہ اپنے ہی ملک میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ اس جنگ میں لقمہ اجل بن جانے والوں کی تعداد کے درست اندازے بھی موجود نہیں ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں قبائلی علاقوں کے مکینوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور آئی ڈی پیز کو ان کے آبائی علاقوں میں واپس بسانے کی بجائے اپنی ساری توانائیاں 'اصلاحات' پر خرچ کر دینی چاہئیں ؟جبکہ ہمیں یہ بھی اندازہ نہیں کہ ان اصلاحات کی وجہ سے ایک عام قبائلی کی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات مثبت ہوں گے یا منفی ؟

فاٹا سے تعلق رکھنے والے والے چند سیاست دانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے ہمیں فاٹا کی عوام کی امنگوں کو سامنے رکھنا ہوگا ۔ یہ وہ سیاست دان ہیں جو مجموعی طور پر اپنے علاقوں سے چند ہزار ووٹ سے زیادہ حاصل نہیں کرپاتے اور نہ ہی یہ لوگ فاٹا میں رہتے ہیں۔ ایسے مٹھی بھر مفاد پرست عناصر کے ایجنڈے پر کام کرنے کی بجائے وفاقی حکومت کو فاٹا کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرا م الاحد)

متعلقہ خبریں