احمقوں کی جنت

احمقوں کی جنت

ہم بھی احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ہمارا خیال ہوتا ہے کہ آج ہم نے مسئلے کی نشاندہی کی اور کل مسئلہ حل ہوا لیکن ایسا کبھی ہوا نہیں بہت کم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ارباب اقتدار کی نظر پڑ جاتی ہے تو اس مسئلے کو وقتی طور پر حل کردیا جاتا ہے اور پھر وہی ڈھاک کے تین پات! دلیل کے طور پر مثالیں بھی دیکھ لیں۔ ایک مرتبہ ہم نے قصہ خوانی کے فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے نام نہاد حکیموں کے حوالے سے لکھا کہ یہ دیہات سے آئے ہوئے سادہ لوح لوگوں کو اشارے کرکے اپنی طرف بلا تے ہیں اور پھر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں کہ آپ فلاں فلاں بیماری میں مبتلا ہیںاور یہ ان بیماریوں کو گنواتے ہیں جو اتنی عمومی ہوتی ہیں کہ جن میں ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی حد تک مبتلا ہوتا ہے ۔ ان کی بات سنتے ہی سادہ لوح شخص ان کے کہے ہوئے پر ایمان لے آتا ہے یہ اس کو پوری طرح شیشے میں اتارنے کے بعد اپنے پاس پڑی ہوئی کچھ دوائیاں بھی دے دیتے ہیں اور اپنے سامنے کی نامی گرامی پنساری کی دکان سے بھی کچھ مربے اور کشتہ جات خریدنے کا کہا جاتا ہے ۔ وہ بیچارہ گائوں سے شہر اس لیے آیا ہوتا ہے کہ گھریلو ضروریات کے لیے ضروری خریداری کرے لیکن ان حرامخوروں کے ہتھے چڑھ کر اپنی اچھی خاصی رقم گنوا بیٹھتا ہے۔

ہم نے اپنے کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ کابلی پولیس سٹیشن شہر کا بہت بڑا مرکزی پولیس سٹیشن ہے اور یہ سب کچھ پولیس کی ناک تلے ہو رہا ہے اور پھر فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے جعلی حکیم کو پکڑنے کے لیے کسی بکتر بند گاڑی کی ضرورت بھی نہیں پڑتی بس گردن سے پکڑ کے تھانے پہنچانا ہے اس پر مناسب دفعہ لگا کر عدالت میں پیش کرنا ہے دو چار ٹھگوں کو سزا ہو جائے تو مخلوق خدا ان کے ظلم سے نجات حاصل کرلے گی۔ کالم چھپنے کے بعد پولیس نے ان جعلی حکیموں کو وہاں سے بھگا دیا ۔ ہم چونکہ اسی شہر میں روڈ ماسٹری کا اہم فریضہ سنبھالے ہوئے ہیں دو چار دنوں بعد کیا دیکھتے ہیں کہ حکیم صاحبان اپنی جگہوں پر برا جمان مخلوق خدا کے ساتھ اپنا حساب بیبا ق کر رہے ہیں ہم نے ایک حکیم کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا کہ جناب ہمیں آپ سے دوائی لینی تھی لیکن آپ دو تین دنوں سے نظر نہیں آرہے تھے۔ پہلے تو اس نے کالم نگار کی شان میں دانت پیستے ہوئے قصیدہ خوانی کی پھر کہنے لگا پولیس نے ہمیں کہا ہے کہ اخبار والوں کی نظر آپ پر پڑ گئی ہے دو چار دن چھٹی کریں اور پھر اپنا کام شروع کردیں۔مک مکا کو تو جانے دیجیے ہو سکتا ہے کہ پولیس فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے نوسر باز سے کچھ بھی نہ لیتی ہو لیکن اسے یہ احساس ہی نہیں کہ مخلوق خدا کو لوٹا جارہا ہے اسے اس قسم کی دوائیاں دی جارہی ہیں جن سے گردے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور جسم میں دوسرے بہت سے عوارض جنم لیتے ہیں۔پشاور شہر میں جوے کی وبا بھی پھیلی ہوئی ہے مختلف ناموں اور حیلے بہانوں سے ہزاروں لاکھوں روپے کا جوا کھیلا جارہا ہے لیکن جو صاحب اختیار ہیں جو انہیں روک سکتے ہیں وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں اس لیے وہ یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن ان کی پیشانی پر بل بھی نہیں پڑتا۔
تجاوزات تو پشاور شہر کے ہر بازار میں موجود ہیں اور لوگوں خاص کر خواتین اور بچوں کا گزرنا محال ہے لیکن اگر تجاوزات کا عالمی مقابلہ ہوتو پشاور کے مشہور و معروف مینا بازار کو سب سے پہلے انعام کا حق دار ٹھہرایا جائے گا اگرچہ موجودہ حکومت نے تجاوزات کے خلاف پشاور کی تاریخ کا بہترین آپریشن کیا ہے لیکن پھر جہاں دکانداروں کو مخلوق خدا کی راہ میں روڑے اٹکانے کا موقع ملتا ہے وہ یہ کار گناہ ضرور کرتے ہیں۔ مینابازارمیںخواتین کی ایک بہت بڑی تعداد ہر روز خریداری کرنے آتی ہے مرد حضرات کا بھی ہجوم ہوتا ہے پہلے تو یہاں یہ صورتحال تھی کہ ہر دکاندار ایک یا دو فٹ نہیں یقین کیجیے تین تین گز اپنی دکانوں سے آگے نکلا ہوا تھا اور بازار کسی کنجوس کے دل کی طرح اتنا تنگ ہو چکا تھاکہ وہاںسے گزرتے ہوئے خواتین و حضرات کا ایک دوسرے سے ٹکرانا ناگزیر تھالیکن کسی دکاندار یا بازار کے صدر صاحب کو یہ توفیق نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس انتہائی سنجیدہ مسئلے کوحل کرے۔
بات قصہ خوانی بازار کے فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہو ئے جعلی حکیموں کی ہو، جوئے کی یا دکانداروں کی حد سے بڑھی ہوئی تجاوزات کی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا احساس مر چکا ہے ہم مخلوق خدا کی تکالیف سے بیگانے ہو چکے ہیں ہمیں اپنی ذات کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں ہم دنیا بھر کے عیب نکالتے رہتے ہیں لیکن جب کوئی انگلی ہماری طرف اٹھتی ہے تو ہم چیخنا چلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہم نے ہر اچھی بات کوبھلادیاہے اگر ہمیں یاد ہے تو صرف یہ بات کہ ہم کس طرح اپنے بینک بیلینس بڑھا سکتے ہیں کس طرح دوسروں کا مال ہڑپ کرسکتے ہیں کس طرح اپنے مسلمان بھائی کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ آج ہم اپنے آس پاس سے اس قدر بیگانے ہوچکے ہیں کہ ہمیں اپنے پڑوس میں ہونے والی چوری کی اطلاع بھی اخبار سے ملتی ہے مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی ہم یہ سوچتے ہیں کہ سب کچھ حکومت ہی نے ٹھیک کرنا ہے درحقیقت ہم احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں