طبقاتی نظام کی باقیات

طبقاتی نظام کی باقیات

جاگیردارانہ ،وڈیرہ شاہی ،خان ازم، انگریز سامراج اور ذات پات کا نظام مٹ رہا ہے لیکن ابھی بھی زندگی کے کئی شعبوں میں اُس کی باقیات موجود ہیں۔اور گاہے بگاہے ہمارے رویوں میں اُس کی عکاسی نظر آتی ہے۔عوام اور خواص میں نمایاں فرق کئی مواقع پر دیکھنے میں آتا ہے۔دور جدید میں اگرچہ آقا اور غلام کے درمیان فرق کافی حد تک مٹ گیا ہے لیکن معاشرے میںا ب بھی کئی مواقع پر پرانے دور کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔شادی بیاہ ،فوتگی اور چہلم کے موقع پر ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جو لوگ اس خوشی یا غم میں شریک ہوتے ہیں۔قرب و جوار کے علاقوں سے مہمان تشریف لاتے ہیں۔ غم یا خوشی کے موقع پر اُسکی تواضع کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔یہ صدیوں پرانی رسم ہے۔ ماضی میںخاص طور پر دیہات میں سب کو ایک پلنگ یا فرش پر دریاں بچھا کر چاول کھلائے جاتے تھے۔ لیکن آج کل یہ دعوت دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلے حصے میں گاؤں کے عوام کو عام سادہ چاول کھلا کر ٹرخادیتے ہیںجبکہ دوسرے یا تیسرے دن خواص کی محفل سجتی ہے۔جس میں عام لوگوں کو مدعو نہیں کیاجاتا ۔بلکہ اُس میں علاقے کے اُمراء ، وزراء ،خان خوانین اور اشرافیہ کے افراد مرغن غذاؤں ،دنبے کی رانوں ،ہر قسم کی مچھلی اور پلاؤ کی دعوت اُڑاتے ہیں۔دعوتوں میں یہ فرق غلامی ،تفاوت ،احساس کمتری اور احساس برتری کی غمازی کرتا ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کی عزت اُس کے مال و دولت سے ہوتی ہے اور اُسی مناسبت سے اُن کو دعوت پر بلایا جاتا ہے۔حالانکہ یہ تو میزبان کا فرض بنتا ہے کہ وہ مہمان کی اپنی حیثیت کے مطابق خاطرکرے ۔نہ کہ مہمان کی حیثیت اگر وہ غریب ہے تو اُس سے وہی برتاؤ اور سلوک رکھا جائے کہ زمین پر دری بچھا کر اُس کے سامنے چاول رکھے جائیں۔ مشرق وسطیٰ میں اب بھی یہ رویت برقرار ہے کہ جمعہ کے دن شاہی محل سے منسلک مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد لوگوں کو بلاتفریق کھانے کی دعوت دی جاتی ہے۔کھانے کی میز پر طرح طرح کے کھانے لگے ہوتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اُس کھانے میں شاہی خاندان کا ایک نہ ایک فرد ضرور شامل ہوتا ہے۔دبئی میں ایک دفعہ جمعے کے دن شاہی محل کی مسجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد مسجد کے باہر ایک شخص کھڑا ہو کر لوگوں کو دعوت طعام دیتا رہا۔جب اُس شخص نے ہمارے وفد کو مہمان سمجھ کر دیکھا تو پوچھا کہ آپ کدھر سے آئے ہیں۔ہم نے جواب دیا کہ پاکستان سے ایک سرکاری وفد کے ہمراہ آئے ہیں۔اس نے بڑھ کر ہاتھ سے پکڑا اور کھانے کے ہال میں لے گیا ۔کم از کم 50 ،100 لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے اور درمیان میں وزیر تعلیم بھی تشریف فرما تھے۔ باتوں باتوں میں اُنہوں نے بتایا کہ رسول پا ک ۖ کی سنت ہے کہ جمعہ کے نماز کے بعد رسول پاکۖ صحابہ اور مہمانوں کے ساتھ اکٹھے کھانا کھاتے تھے اور اس روایت پر وہ ابھی تک عمل کررہے ہیں۔سعودی عرب کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ امریکی صدر سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے امریکی صدر کے اعزاز میں کھانے کا اہتمام کیا تھا۔جب امریکی صدر آکر بیٹھ گیا اور سعودی بادشاہ شاہ فیصل (مرحوم ) نے کھانا شروع کرنے سے پہلے درخواست کی کہ پانچ منٹ کا انتظار کرنا پڑیگا۔سب لوگ حیران و پریشان ہوئے کہ امریکی صدراورسعودی بادشاہ موجود ہے۔ پھر ان سب سے بڑا آدمی کون ہو سکتا ہے ۔پانچ منٹ کے بعد باورچی (کک )وہاں پر آگیا ۔اُس نے سلام کیا۔سعودی بادشاہ نے تعارف کرایا کہ دراصل انتظار اس لئے کیا کہ اس کو کپڑے تبدیل کرنے میں پانچ منٹ لگ گئے ۔اُس کے بعد کھانا شروع ہوایہ وہ مثالیں ہیں ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ امیر و غریب میں فرق کرنا اسلام کے اُصولوں کے خلاف ہے ۔لیکن ہمارے معاشرے میں امیر اور غریب میں سلوک اور رویے کے لحاظ سے فرق بڑھتا جا رہا ہے۔سیاسی اجلاسوں ،مذہبی جلسوں اور دیگر پروگراموں میں عوام اور خواص کو ایک میز پر نہیں بٹھایا جاتا ہے۔بلکہ خواص کیلئے الگ بندوبست کیا جاتا ہے اور غریب عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ایک الگ جگہ پر بیٹھنے کو کہا جاتا ہے۔

یہ درجہ بندی اسلامی اقدار کے خلاف ہے ۔اس سے دوریاں بڑھتی ہیں۔اگر مسلمان مسجد کے اندر بلا تفریق ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔کوئی امیر غریب کا فرق نہیں ہوتا تو عام زندگی میں یہ فرق کیوں روا رکھا جاتا ہے۔سرکاری دفاتر میں غریب آدمی کا برا حال ہوتا ہے۔جبکہ حاکموں ،صاحب حیثیت اور مالدار افراد کا کام منٹوں اور سیکنڈوں میں ہوجاتا ہے۔جس سے عوام میں بد دلی پھیلتی ہے۔ چونکہ سارا معاشرہ اس تفریق کا شکا ر ہے اس لئے جیسے عام زندگی میں شادی بیاہ کے موقع پر یا دیگر تقاریب میں غریب کو وہ عزت نہیں دی جاتی ہے جو اُس کا حق بنتا ہے۔اسی طرح سرکاری دفتروں میں بھی اُس کے ساتھ یہی رویہ رکھا جاتا ہے۔یہ رویہ اور سلوک انسانی قدروں کے خلاف ہے ۔غریب ہو یا امیر لیکن اُس کی عزت ،احترام اور سلوک یکساں طور پر ہونا چاہیے۔نظام میں وڈیرہ، چودہدری اور خان تو رہیگا۔ لیکن تعلیم کی شرح زیادہ ہونے سے اس قسم کی درجہ بندی ختم ہوگی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ علم کی روشنی پھیلائی جائے ۔ تعلیم یافتہ معاشرے میں اس قسم کے رویوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔لہٰذا علم کو پھیلانا سارے مسئلوں کا حل ہے۔

متعلقہ خبریں