مشرقیات

مشرقیات

شیخ شہاب الدین احمد جام اپنے وقت کے علمائے کبار میں سے تھے اور سلطان قطب الدین اور سلطان تغلق ان کی زیارت کے لئے خودان کے مکان پر جایا کرتے تھے جو شیخ الاسلام احمد جام زندہ پیل کی اولاد سے تھے۔ ایک دن سلطان نے محض علماء کی تحقیر اور اپنی ضد کے لئے نجی خدمات کو بلوابھیجا ۔ شیخ نے انکار کیا اورکہا یہ علم اور اہل علم کی اعلانیہ اور بلاوجہ بے حرمتی ہے ۔ بادشاہ نے دوبارہ کہا۔ آپ نے پھر بھی انکار کیا ۔ ایک اور بزرگ تھے شیخ ضیاء الدین سمنائی ان کو حکم ہوا شیخ کی ڈاڑھی کھسوٹ ڈالو، سمنائی نے کہا مجھے سے ایسا نہ ہوسکے گا۔ بادشاہ نے برہم ہو کر دونوں بزرگان دین کی ریش مبارک نوچ ڈالی ۔سمنانی تو ورنگل (دکن) جا کر وفات پاگئے اور شیخ کو بادشاہ نے دولت آباد بھجوا دیا۔ سات سال کے بعد پھر خیال آیا شیخ کو بلایا معذرت کی اور بہت کچھ دیا دلایا۔ تھوڑے دنوں کے بعد بادشاہ کو پھر علما ء کی تحقیر کرنے کا خیال آیا ۔ چنانچہ شیخ بلوائے گئے۔ انہوںنے انکار کر دیا۔ مخلص الملک ندر باری امرائے عظام میں سے تھے۔ بادشاہ نے ان کو بھیجا کہ ہمارے قہروغضب سے ڈر ا کر جس طرح ہو ان کو دربار میں لائو۔ آپ نے کہا میں اس ظالم بادشاہ کی خدمت نہیں کرسکتا۔ جب تک وہ اپنے اعمال سے تائب نہ ہو۔ بادشاہ نے شیخ کو زبردستی گھسیٹ منگوایا اورکہا کیا تو نے مجھے ظالم کہا، کوئی ثبوت؟ شیخ نے کہا : ہاں! بے شک میں نے ظالم کہا ہے اور ثبوت ایک ہو تو بتائوں ، دلی کو اجاڑا کس قصور پر ، ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کو زبردستی اوراپنی بادشاہی کے تکبر پر بے خانماں کیا ، آخر کس جرم میں ؟بادشاہ جواب تو کیا دیتا، بلکہ شیخ کے پیروں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ، ڈلوادیں ، شیخ نے چودہ دن تک جیل خانہ میں فاقہ کیا۔ چودھویں دن بادشاہ نے خود کھانے کے لئے زور دیا۔ فرمایا کہ رزق ختم ہوگیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کے بعد جو حماقت او ر دیوانگی ظاہر کی ۔ اس کی مثال بہت کم ملے گی ۔ شیخ کے منہ میں گوبر پانی میں پتلا کر کے ڈالاگیا اور کہا اب اسے قاضی کے پاس لے جائو۔چنانچہ وہاں قاضی اور دیگر علمائے مشائخ نے سمجھایا کہ بادشاہ ضدپر اڑا ہوا ہے۔ اپنے قول کو واپس لے لو کیا فائدہ؟ آپ نے فرمایا :اب کس بات کاڈر بادشاہ اس سے زیادہ یہی کر لے گا کہ مجھے قتل کر دے۔ آخر دوسرے دن خودداری وحریت صادقہ کی یہ منہ بولتی تصویر تلوار کے ایک ہی وار سے ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔اس بادشاہ نے یعنی سلطان محمد تغلق جس کے کردار میں رحم دلی اور بے رحمی ، علم پروری اور دیوانگی ہر قسم کی صفات موجود تھیں ۔ صد ہاعلماء ومشائخ کو بے عزت کیا اور عذاب دے کر ان کی جان لی ہے ۔ جس سے مخلوق کادم ناک میں آگیاتھا۔ ہر چندوحشیانہ جبروسختی کازور تھا ،مگر دلوں میں چونکہ حکومت نہیں تھی ۔ اس لئے بغاوت وشورش کا عام چرچا تھا ۔ بادشاہ کی زندگی ہی میں دکن اور بنگال کے صوبے ہاتھ سے نکل گئے۔ سندھ کی مہم پر جارہا تھا کہ 21محرم الحرام 20مارچ1351ء کو انتقال کر گیا اور رعایا نے سکون کا سانس لیا۔

متعلقہ خبریں