محکمہ شماریات کی غفلت

محکمہ شماریات کی غفلت

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ فائنل ڈیٹا کی فراہمی تک حلقہ بندیوں کاکام شروع نہیں کیا جا سکتا۔ قانون کسی بھی عبوری ڈیٹا اور عبوری انتظامات کی اجازت نہیں دیتا ، اس لئے موجودہ حلقہ بندیوں کے مطابق ہی عام انتخابات 2018ء کروانے ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن سیکر ٹر یٹ اسلام آباد میں منعقد ہ ایک اجلا س میں کیا گیا ۔ اجلاس میں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے چیف کمشنر شماریات آصف باجوہ نے الیکشن کمیشن کو مردم شماری کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ مردم شماری کا کام مکمل ہو گیا ہے اور اضلاع سے وصول شدہ اعداد و شمار کی ڈیٹا انٹری کا کام جاری ہے ،جبکہ اپریل 2018ء تک قومی ، صوبائی اور ضلع کی سطح پر مردم شماری کی حتمی رپورٹ شائع کردی جائے گی اور یوں پھر الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جا سکے گا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک میں مردم شماری کاکام ایک عرصہ سے التواء کا شکار رہا ہے ، مردم شماری کسی بھی ملک وقوم کے مستقبل کے حوالے سے پالیسیاں اختیار کرنے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ، پاکستان میں ہر دس سال بعد مردم شماری کو آئینی حیثیت حاصل ہے لیکن سابقہ او رموجودہ حکومت نے اس اہم مسئلہ کو پرکاہ برابر اہمیت نہیں دی اور اس کی بنیادی وجہ بڑے صوبے کے مفادات کو ہر طرح سے تحفظ دے کر چھوٹے صوبوں کے حقوق کا استحصال کرنا تھا ، کیونکہ جہاں مردم شماری سے ملک میں آبادی کے تناسب میں ضروری ردو بدل کو ریکارڈ کرنا ہوتا ہے ، وہیں قومی اسمبلی میں صوبوں کی نشستوں کا نئے سرے سے تعین کرنا ، صوبوں کے قومی وسائل میں آبادی کے تناسب سے حصہ مقرر کرنا اور ضلعی بنیادوں پر آبادی کے تناسب میں ردوبدل سے نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ صوبائی اسمبلیوں میں بھی نشستوں کی تقسیم سے ہر ضلع تک انصاف و عدل کے تحت ردوبدل کرکے عوام کو اپنے نمائندوں کے چنائو کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے ، مگر بد قسمتی سے پہلے تو گزشتہ کئی سال سے مردم شماری کرانے سے سابقہ اور موجودہ حکومتوں نے جان بوجھ کر اغما ض برتا ، جس کی وجہ سے نہ صرف پارلیمنٹ میں مختلف علاقوں کی حقیقی نمائندگی کا انتظام و اہتمام نہیں ہو سکا ، بلکہ قومی وسائل کو بھی سابقہ شماریات کی بنیاد پر تقسیم کرنے سے عوام کو حقوق دینے کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے رہے ، صوبوں کو پہلے ہی قومی وسائل میں اپنا حصہ آئین اور قانون کے مطابق نہ ملنے کی شکایات ہیں کیونکہ گزشتہ مردم شماری سے اب تک آبادی میں بہت تبدیلی آچکی ہے ، اور ہر پاکستانی جانتا ہے کہ ہر چند مہینے بعد سیاسی رہنما عوام کے مسائل پر بات کرتے ہوئے آبادی کی تعداد مسلسل بڑھا تے ہوئے ان میں گزشتہ چند سال کے دوران 18کروڑ سے 22کروڑ تک کے ہند سے استعمال کرتے رہتے ہیں ، تاہم یہ کوئی بتانے کو تیار نہیں کہ چند سال پہلے کی 16کروڑ کی آبادی (وہ بھی مفروضوں پر مبنی تھی ) آبادی اگر 22کروڑ ہو چکی ہے تو یہ اضافہ کن صوبوں ، کن شہروں میں ہو چکا ہے اور کیا یہ اعداد و شمار درست بھی ہیں یا ویسے ہی آبادی میں عمومی اضافے کے حوالے سے مزید فرضی اعداد و شمار بتائے جاتے ہیں ، اب تازہ صورتحال سے یہ اندازہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ وفاقی حکومت جس طرح مردم شماری کے کام پر کسی بھی صورت تیا ر نہیں تھی اور صرف سپریم کورٹ آف پاکستان کے بار بار زور دینے پر ہی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے بہ دقت تمام اور انتہائی نیم دلی کے ساتھ اس کام پر مجبور ہو ئی تاہم چیف کمشنر شماریات نے ڈیٹا کی تکمیل کے حوالے سے جن مشکلات و مسائل کا تذکرہ کیا ہے اس سے ایک با رپھر یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ حکومت کم از کم 2018ء کے عام انتخابات نئے ڈیٹا کے مطابق کرانے پر تیار نہیں ہے کیونکہ انتخابات کیلئے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کا کام بقول چیف الیکشن کمشنر نئے ڈیٹا کی فراہمی کے بغیر مکمل کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے بالکل درست کہا کہ حکومت کسی بھی طور سنجیدہ نظر نہیں آتی کہ وہ نئے انتخابی قانون کو جلد نمٹائیں تاکہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات 2018ء کی تیاریوں کے حوالے سے پورا موقع اور وقت مل سکے ، اور اب ادارہ شماریات نے بھی مطلوبہ ڈیٹا اپریل 2018ء کو دینے کا اعلان کرکے حلقہ بندیوں کے کام کو بھی کٹھائی میں ڈال دیا ہے ، کیونکہ حلقہ بندیوں کیلئے سات ماہ درکار ہوتے ہیں ، پھر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کو نمٹانے کیلئے عدالتوں میں مزید وقت ضائع ہوتا ہے ، یوں جولائی اگست 2018ء میں نئی حلقہ بندیوں کے ساتھ عام انتخابات کا خواب حکومت کی سوچی سمجھی حکمت عملی کی وجہ سے چکنا چور ہوتا نظر آرہا ہے ، جو یقینا عوام اور خصوصاً چھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس لئے ہم سپریم کورٹ سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیکر شماریات کے حکام کو زیادہ عملہ لگا کر رات دن کام کرکے جلد از جلد مکمل کرے تاکہ نئی حلقہ بندیوں کا کام بھی وقت پر تکمیل تک پہنچا کر الیکشن کمیشن 2018ء کے انتخابات انئی حلقہ بندیوں کے مطابق منعقد کروانے میں کامیاب ہو سکے ۔

متعلقہ خبریں