پاک بھارت مذاکرات کیلئے اقدامات

پاک بھارت مذاکرات کیلئے اقدامات

اقوام متحدہ کے سیکر یٹری جنرل انتو نیو گو یٹرس نے کہا ہے کہ کئی دہائیوں سے تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستا ن اور بھارت کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے سفارتی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ نیوریارک میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں سیکریٹر ی جنرل نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے تین مرتبہ اور بھارتی وزیرا عظم نریندری مودی سے دو مرتبہ ملاقات کی تاکہ ان کے درمیان مذاکرات شروع کرائے جا سکیں ، انہوں نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشید گی پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ پاک بھارت کشید گی کسی بھی صورت خطے کے مفاد میں نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل میں شرمندگی یا کوتاہی کے الزامات درست نہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان تو ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے نہ صرف مذاکرات پر تیا ر ہے اور اس پر زور بھی دیتا آرہا ہے تاہم یہ مذاکرات نتیجہ خیز اور بامعنی ہونے چاہئیں ، جبکہ بھارت پہلے تو مذاکرات سے انکار کر کے یہ رٹ لگا تا چلا آرہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اگر بات کرنی ہے تو آزاد کشمیر پر کی جائے جس پر بقول بھارت کے پاکستان نے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے حالانکہ بھارتی رہنمائوں کا یہ استدلال کسی بھی طور نہ تو معقولیت کے پیمانے پر پورا اترتا ہے نہ ہی یہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی روح کے مطابق ، جبکہ کشمیر کا تنازعہ خود بھارت کے پہلے وزیرا عظم پنڈ ت جواہر لعل نہرو ہی سلامتی کونسل میں لیکر گئے اور وہاں پر کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کے اصول کو تسلیم کر کے وقتی طور پر جان چھڑانے میں کامیاب ہوئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی رہنما ء اپنے ہی وعدوں سے پھر گئے اور انہوں نے ایک نقلی قرار داد کے ذریعے مقبوضہ وادی کی ریاستی اسمبلی سے کشمیر کا الحاق بھار ت کے ساتھ کروا کر اسے بھارت کا حصہ قرار دیا جبکہ کشمیر ی عوام نے اس بھارتی ڈرامے بازی کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وقتاً فوقتاًوہاں بھارت کیخلاف آزادی کی تحریکیںاٹھتی رہیں ، اور گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح ایک بار پھر کشمیر ی نوجوانوں نے جانوں کا نذرانہ دیکر آزادی کی جنگ چھیڑی ہوئی ہے اس سے زچ ہو کر مقبوضہ وادی میں تعینات سات لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجیوں نے کشمیر ی مسلمانوں پرعرضہ حیات تنگ کر رکھا ہے ، اس تحریک کے نتیجے میں مقبوضہ وادی کے قبرستانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں نئی قبروں کا اضافہ ہو چکا ہے ، سینکڑوں افراد کو پیلٹ گنز سے فائرنگ کر کے ان کی بینائی چھینی گئی ہے ، عفت مآب دختران کشمیر کی عزتوں کوتار تار کر دیا گیا ، کیا بچے بوڑھے اور خواتین ، سب کے خلاف بھارتی افواج بر بریت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنا رہی ہیں ، اس کے باوجود آزادی کی تحریک رکنے کی بجائے دن بدن تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے ، جس کا مقابلہ نہ کرنے کی تاب نہ رکھتے ہوئے ایک جانب بھارتی افواج بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہیں تو دوسری جانب ان حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن پر جارحیت کا مسلسل ارتکاب کر رہی ہیں جبکہ ان سر گرمیوں سے آگاہ کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنگی مبصرین کو ان علاقوں کے دورے کر وائے جارہے ہیںجو اپنی رپورٹیں اقوام متحدہ کو بھجوا کر بھارت کی جارحیت کی نشاندہی کر رہے ہیں ، تاہم کنٹرول لائن کے دوسری جانب بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کے مبصرین کو کنٹرول لائن کے قریب تک پھٹکنے نہیں دیا جارہا ہے جو چورکی داڑھی میں تنکا کی واضح مثال ہے ۔ اس صورتحال کا اہم پہلو اب بھارت کے اندر رائے عامہ میں کشمیر یوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے آنے والی بیداری ہے اور نہ صرف سیاسی رہنماء بلکہ سابقہ بھارتی فوجی بھی اب بھارت سرکار کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ وادی میں ایک ایسی خطرناک آگ سے کھیل رہے ہیں جس کے نتائج کسی بھی طور بھارت کے حق میں نہیں ہوں گے بلکہ وہاں بھڑکنے والی آگ ایک دن بھارت کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔ اس لئے بھارتی حکمرانوں کو کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈال کر اس مسئلے کے مستقل حل کی راہیں تلاش کرلینی چاہئیں ۔ ماضی کی طرح نہ تو کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ کا نعرہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں ممدو معاون ہو سکے گا ، نہ ہی کشمیر یوں کی منشاء و مرضی کے بغیر کوئی بھی مذاکرات کا میابی سے دوچار ہو سکیں گے ۔ مذاکرات دونوں ملکوں اور خطے میں مستقل امن کے قیام میں مدد گار ہو سکتے ہیں اور اس کے بعد خطے میں نہ صرف غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ ترقی کی شاہراہ پر دونوں قومیں آگے بڑھتے ہوئے اچھی ہمسائیگی کے تعلقات کے قیام میں ایک دوسرے سے تعاون بھی کرسکیں گی ۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے بھارتی رہنمائوں کو اپنی ہٹ دھرمی کے خول سے باہر آنے کیلئے اخلاقی جرأت کا مظاہر ہ کرنا پڑے گا ۔

متعلقہ خبریں