لیگی دوستوں کے تحفظات و شکایات

لیگی دوستوں کے تحفظات و شکایات

19جون کے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے چارسدہ کے قاری فضل معبود کہتے ہیں '' کیا مشرف دور میں نواز شریف کے خلاف ایک پیسے کی کرپشن ثابت ہوئی؟ بھٹو خاندان پر مظالم ہوئے تو شریف خاندان بھی مظلوم ہے۔ شریف برادران بھی اپنے والد کے جنازے میں شرکت سے محروم رہے۔ آپ کیوں اس ایک خاندان کے بیری ہیں؟ کالم نگار سے سوال کرنا قاری کا حق اور جواب دینا واجب ہے۔ لکھنے والوں کے ساتھ پڑھنے والوں کا محبت بھرا تعلق ہی اصل میں لکھنے والوں کو حوصلہ دیتا ہے۔ میرے ایک ماہر تعلیم دوست مشتاق احمد تو کہا کرتے ہیں '' شاہ جی تم اندر سے جیالے ہو اور بغض نواز شریف میں مبتلا بھی'' ہمیشہ مسکرا کر عرض کرتا ہوں استاد جی آپ بھی تو عمران خان کے بغض میں نواز شریف کے ساتھ ہیں ۔ وہ مسکراتے ہیں اور ایک پر جوش تقریر کے ذریعے نواز شریف کی ملک اور قوم کے لئے خدمات گنوانا شروع کردیتے ہیں۔ جب کبھی ایسا ہوتا ہے تو جہاں زیب خان مدد کو آتے ہیں اور ہم استاد جی کی تقریر کے باقی ماندہ حصے سے محروم۔ غیر جانبداری ہوتی ہی نہیں۔ دعویداری غلط ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا جو عرض کیا وہ تاریخی طور پر غلط تھا یا لکھنے والے کا بغض؟ 19جون کے کالم میں جو معروضات پیش کیں ان کی تکرار سے بچتے ہوئے فقط یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں شریف برادران کا احتساب ہوا ہی نہیں۔ قانونی طور پر تو جنرل مشرف کو کوئی حق نہیں تھا اقتدار پر قبضہ کرنے کا وہ اقتدار پرقبضہ کر چکے تو نظریہ ضرورت کے تحت انہیں دو سال عطا کردئیے گئے بلکہ آئینی ترمیم کے لئے تلوار بھی تھما دی۔ پیپلز پارٹی کے پچھلے دو ادوار 1988ء ' 1993ء والوں اور خود جنرل مشرف نے ان کے خلاف جو مقدمات قائم کئے وہ 10 سالہ معاہدہ جلا وطنی کے عوض لکھے گئے معافی نامے کے تحت معاف کردئیے گئے۔ اس لئے شریف برادران ملک سے باہر جاسکے۔ طالب علم کی ان سے ذاتی عداوت تھی نہ ہے۔ البتہ طبقاتی استحصالی نظام اور تاجرانہ سیاست ہر دو کو جمہوریت کے طور پر قبول کرنے میں امر مانع ہے۔ 1984ء میں جب نواز شریف پہلی بار فوجی حکومت میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے تب سے اب تک وہ مقامی اشرافیہ کے تعاون سے سیاست کرتے ہیں۔ 2013ء میں عالمی اشرافیہ کے چند مالدار بھی ان کی پشت پر آن کھڑے ہوئے۔ کیوں اس کا جواب سامنے دیوار پر لکھا ہے۔ جناب عمران خان فیورٹ تھے مقامی اور عالمی اشرافیہ کے مگر بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دئیے گئے انٹرویو میں انہوں نے ڈرون حملوں بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جو کچھ کہا اس نے اسلام آباد سے پینٹا گون تک خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ آناً فاناً نواز شریف سے معاملات طے ہوئے۔ انتخابی نتائج والی رات ان کی تقریر اصل میں پیغام تھا معاملہ کرنے والی قوتوں کو کہ دو تہائی اکثریت دو اگر دینا ہے۔ یہ اکثریت ووٹروں سے تو پولنگ سے قبل مانگی جانی چاہئے تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ انتخابی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ اس سیاہ باب پر ایک تبصرہ اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری کا تھا جنہوں نے 2013ء کے انتخابات کو آر اوز انتخابات قرار دیا۔ کچھ دیگر معاملات اور تگڑم۔ ان سطور میں ان کے بارے عرض کرتا رہا ہوں۔ اب بھی پانامہ سکینڈل کے انکشاف سے اب تک کے سارے مرحلوں پر ٹھنڈے دل سے نگاہ دوڑا لیجئے' شریف حکومت کیا چاہتی ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر کہئے کہ اگر یہ سارے معا ملات پیپلز پارٹی کے ہوتے تو اب تک کیا نہ ہو چکا ہوتا۔ کیا ہم میں سے کسی کو یاد ہے کہ سیدی گیلانی کے معاملہ میں چودھری افتخار نے پارلیمان اور سپیکر کے اختیارات کو بے رحمی سے روندا تھا۔ وزیر اعظم کی نا اہلی کا فیصلہ سپیکر اور الیکشن کمیشن کو کرنا تھا ۔ آج جن لوگوں کو نواز شریف کااحتساب جمہوریت دشمنی دکھائی دیتا ہے وہ سارے جمہوریت پسند اس وقت افتخار چودھری کے دائیں بائیں کھڑے تھے۔ میرے خیال میں مسئلہ یہ نہیں کہ مجھے شریف خاندان سے کوئی بیر ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کو ایک عقیدے اور رہنما کو پیشوا کے طور پر اپنا چکے ہیں۔ ان سطور میں اے این پی اور پیپلز پارٹی پر کڑی سے کڑی تنقید کرتا رہتا ہوں۔ گئے گزرے حالات میں بھی یہ اعتراض کرنا پڑے گا کہ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنمائوں کی اکثریت تنقید کو کھلے دل سے برداشت کرتی ہے۔ مقابلتاً نون لیگ اور تحریک انصاف کے ذمہ داروں کی اکثریت کا رویہ مذہبی جماعتوں جیسا ہے۔ سوال اٹھائو تو ایمان بھر شٹ۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جو لوگ اپنے دور اقتدار میں ایک سکینڈل کی سماعت اور تحقیقات کو ظلم عظیم' سازش ' انتقام اور ترقی کے راستے میں رکاوٹ کہتے ہوں وہ کسی اور کے دور میں احتساب کو کیا نام دیں گے۔ سو یہ بھی حقیقت ہے کہ شریف خاندان کا آج تک احتساب نہیں ہوا۔ 1988ء کے انتخابی نتائج کے حساب سے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی پنجاب اسمبلی میں بڑی پارٹیاں تھیں پوری ریاستی مشینری آزاد ارکان کا ہانکا کر کے مسلم لیگ میں لے گئی۔ 2013ء کے بعد ق لیگ کا 50رکنی فارورڈ بلاک کس نے بنوایا اور اب آئی بی کے سربراہ سپریم کورٹ میں اس سوال کاجواب نہیں دے پائے کہ آئی بی نے جے آئی ٹی کے ارکان بارے جو معلومات جمع کیں وہ حسین نواز شریف تک کیسے پہنچیں؟ ان چند مثالوں کو د ہرانے کا مقصد یہ ہے کہ جب خرید و کچلے اور وقت پڑے تو معافی مانگ کر جدہ نکل جائو کی سوچ راسخ ہو جائے تو پھر قانون کی عملداری نہیں رہتی۔ 17جون 2014ء کو ماڈل ٹائون لاہور میں 14انسان بے رحمی سے پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے اس مقدمہ کا کیا ہوا؟ شہباز شریف نے اپنی درخواست پر جو جوڈیشل کمیشن بنوایا تھا اس کی رپورٹ پر عملدرآمد کے خلاف حکم امتناعی لے لیا۔ عیش کیجئے اور حکومت ،مرنے والے چودہ افراد تو کیڑے مکوڑے تھے کسی کو کبھی ان کا خیال ہی نہیں آیا۔ جانبداری مرغوب نہیں سوال کرنا فرض ہے۔

متعلقہ خبریں