تیسری امریکہ افغان جنگ

تیسری امریکہ افغان جنگ

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میںامریکی فوج میں اضافے کا فیصلہ افغانستان میں امریکی موجودگی کی مدت اور تیسری افغان جنگ کے بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس وقت افغانستان میں تقریباً 8800 امریکی فوجی موجود ہیں جبکہ حالیہ فیصلے کے مطابق اس تعداد میں 3000 سے 5000 فوجیوں کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔ امریکی فوجیوں کو افغان جنگ لڑتے ہوئے 16 سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن آج بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امریکہ یہ جنگ جیت چکا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے افغانستان میں فوج کی تعدا د میں اضافے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو افغانستان میں فوج میں اضافے کے لئے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ فوج میں اضافے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ افغانستان کے مسئلے کا عسکری حل چاہتا ہے۔ 

وائٹ ہائو س کی جانب سے ایگزٹ پلان کے بغیر فوج کی تعداد میں اضافہ امریکہ کو افغانستان کی دلدل میں مزیددھکیلنے کا باعث بنے گا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ نہ صرف سابق صدر اوبامہ کی پالیسی سے انحراف ہے بلکہ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم میں کئے جانے والے وعدوں سے بھی انحراف ہے جس میں انہوں نے امریکی فوج کو غیر ملکی تنازعات میں الجھنے سے باز رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔امریکی فوج میں اضافہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کا ردِ عمل ہے۔ دسمبر 2014ء میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے بعد افغانستان میں ہزاروں افغان فوجی طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں تعینات امریکی فوج میں سے سینکڑوں امریکی فوجی تو صرف افغان نیشنل آرمی کی ٹریننگ اور معاونت تک محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے 2014ء کے بعد اپنے زیرِ اثر علاقوں کے رقبے میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن کیا مزید500امریکی فوجی افغانستان بھیجنے سے موجود صورتحال میں بہتری کے علاوہ وہ اہداف حاصل کئے جاسکیں گے جو160000 امریکی اور اتحادی فوجی مل کر حاصل نہیں کرسکے تھے ؟ اس سے زیادہ پریشان کُن بات یہ ہے کہ اگر یہ5000 فوجی بھی صورتحال میں تبدیلی نہ لاسکے تو افغانستان میں تعینات ملٹری کمانڈر مزید فوج بھیجنے کا مطالبہ کریں گے جس سے ایک نئی جنگ کا آغاز ہو جائے گا جسے کچھ عسکری ماہرین 'تیسری امریکن۔افغان جنگ' کا نام دے رہے ہیں۔ سی آئی اے کے ایک سابق آفسر ، رابرٹ گرینر ، کے مطابق امریکہ افغانستان میں پہلے ہی دو جنگیں لڑ چکا ہے جس میں سے پہلی اکتوبر 2001ء میں شروع ہوئی تھی اور اس کا اختتام امریکی افواج کی فتح اور طالبان کی شکست پر ہو اتھا۔ لیکن یہ فتح قلیل المیعاد ثابت ہوئی تھی کیونکہ چار سال بعد 2005ء میں ایک مرتبہ پھر امریکی اور اتحادی افواج طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوںکے ساتھ برسرِ پیکار تھیں ۔ دوسری جنگ ابھی تک جاری ہے جس کے درمیان میں ہی امریکہ اور دیگر اتحادیوں نے اپنی فوجیں نکالنا شروع کر دی تھیں جس کی وجہ سے افغانستان میں حالات آج اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ اس وقت جبکہ ٹرمپ انتظامیہ افغان پالیسی کا جائزہ لینے اور اس میں متوقع تبدیلیوں میں مصروف ہے، ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کے پاس افغانستان کے سیاسی حل کے لئے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں ہے۔ اور اگر اس کا کوئی سیاسی حل نہ نکالا گیا تو یہ جنگ افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سیاسی اور سفارتی کوششوں میں بھی اضافہ کئے جانے کی ضرورت ہے ۔
اس حوالے سے افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین چار فریقی فورم کی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ایک قابلِ تحسین اقدام ہے لیکن اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی سخت ضرورت ہے۔امریکی پالیسی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کی وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے آج دونوں ممالک کے درمیان صورتحال کشیدگی کاشکا رہے۔ 2001ء سے لے کر آج تک دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات معمول کے مطابق نہیں رہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو پناہ دینے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی پاکستان کی تشویش کا باعث ہے۔موجودہ صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے تحفظات دور کئے بغیر افغانستا ن میں امن قائم نہیں کرسکتا ۔ پاکستان کے تحفظات کا تعلق موجودہ افغان حکومت کے علاوہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی اثرورسوخ سے بھی ہے جس کی وجہ سے پاکستان حقانی نیٹ ورک کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کو پاکستان کے تحفظات دور کرنے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے اور افغان حکومت کے آپس کے تنازعات حل کرنے کے لئے ایک جامع حکمتِ عمل وضع کرنی ہوگی۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں