کوئی انہیں پالش نہ کرے

کوئی انہیں پالش نہ کرے

پاکستان کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیت کر قوم کو عید سے پہلے ایک بہت بڑی خوشی تحفے میں دی ہے ۔ یہ خوشی اس لیے بھی دو آتشہ ہے کیونکہ یہ فتح بھارت کے مد مقابل حاصل ہوئی ہے ۔ ایک عرصے سے ہم بھارت سے کرکٹ کے میدان میں ہارتے چلے آرہے تھے ، یہ فتح تو گزشتہ کئی سالوں سے ہم سے روٹھی ہوئی تھی ، چھوٹی عمر کے لڑکوں نے نہایت جذبے سے یہ میچ کھیلا اور یوں جیتا جیسے یہ انکے لیے کوئی مسئلہ ہی نہ تھا ۔ بھارت کی ٹیم اپنے بلند و بانگ دعوئوں کے ساتھ میدان میں ان ننھے لڑکوں کے سامنے ٹک ہی نہ پائی ۔ہر کسی نے جو بات پاکستان کے خلاف کی تھی اس کا جواب تو پاکستان کی جانب سے اس کرکٹ میچ کے نتیجے میں یوں ہی دے دیا گیا تھا لیکن پھر بھی لوگوں کی تسلی نہیں ہورہی تبھی تو سوشل میڈیا پر ، کبھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر طرح بدل بدل کر مختلف جوابات دیئے جارہے ہیں ۔ جس وقت اوول کرکٹ گرائونڈ میں میچ جیتنے کے بعد حسن علی اپنے ترجمان کی مدد سے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ، میرا سر فخرسے بلند ہو رہا تھا ۔ وہ ننھا لڑکا جسکی کارکردگی کا یہ کمال تھا کہ اسے سیمی فائنل میں مین آف دی میچ کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کے باعث ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی دیا گیا ، اس لڑکے کے لہجے میں کسی قسم کی بناوٹ یا جھجھک ہی نہ تھی ۔ وہ اپنے کام سے مطمئن تھا اور اسکے لہجے سے وہ خوشی جھلک رہی تھی جو اس کی کارکردگی کے باعث ہر پاکستانی کے لہجے میں تھی ۔ اسی ٹیم کا کپتان سرفراز جو میڈیا کے کہنے پر بلا جھجک انتہائی رسان سے خوش الحانی کے ساتھ نعت سنا تا ہے ۔ یہ لڑکے ہمار اثاثہ ہیں ، ان کے رویوں میں کوئی بناوٹ نہیں ، یہ کسی شیمپو کے اشتہا ر میں آنے کو بے چین نہیں ان کے الفاظ میں کوئی دوغلا پن محسوس نہیں ہوتا ۔ یہ پاکستان کا اصل ٹیلنٹ ہیں ۔ وہ ٹیلنٹ جسے شاید عمران خان کی کپتانی کے دور کے بعد اب تلاش کرنے کی کوششیں کی گئی ہے جو پاکستان سپر لیگ کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔ پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے کوئی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم نہیں آئی ۔ آخری بار 2009میں سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی تھی جس پر لاہور میں حملہ کر دیا گیا تھا ۔ اسکے بعد کئی سالوں تک پاکستان کرکٹ کے حوالے سے تنہائی کا شکار رہا ۔ یہ تنہائی 2015میں پہلی بار تب ٹوٹی جب زمبابوے کی ٹیم ٹی ٹو نٹی میچ کھیلنے پاکستان آئی ۔ شدید گرمی کے باوجود ، مئی میں اس میچ میں تیس ہزار سے زائد لوگ موجود تھے اور قذافی سٹیڈیم میں تل دھر نے کو جگہ نہ تھی ۔ اسکے بعد 2016میں پی ایس ایل کے قیام نے پاکستانی کرکٹ کو ایک نئے رنگ میں زندہ کیا ۔ نہ صرف نیا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آیا بلکہ ایک عرصے سے یہ میدان جو محض تنقید کا نشانہ تھا ، جہاں میرٹ کی پامالی کے علاوہ کسی اور بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ جہاں کھلاڑیوں کو انکی کار کردگی کی بنیاد پر مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ لیکن مختلف کیٹگریز کے یہ کھلاڑی ایک طویل عرصے سے کسی بھی قسم کی اچھی کار کردگی دکھانے سے محروم تھے ۔ اے (A)بی (B)سی (C)اور (D)کیٹگریز میں منقسم یہ کھلاڑی لاکھوں میں تنخواہیں پاتے اور تقریباً اسی مالیت کی مراعات لیتے ، انہیں انواع وقسام کے میچ کھیلنے کا معاوضہ الگ سے دیا جاتا لیکن اسکے باوجود وہ اپنی اہلیت کسی طور بھی ثابت نہ کر سکتے تھے ۔ پی ایس ایل نے پاکستان کرکٹ میں ایک نئی جان پھونک دی ہے ، اب پاکستان اپنی ہی گلیوں اور محلوں سے اپنے لیے فاتحین تلاش کر رہا ہے ۔ یہ لڑکے ابھی نئے ہیں ، انہیں بین الاقوامی کرکٹ کی ہوا ابھی نہیں لگی ۔ یہ ابھی تک اپنی معصومیت اور اس وطن کی وفاداری اپنے لہجوں اور اپنی حرکات و سکنات میں سموئے ہوئے ہیں ۔ انکی معصومیت کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنی جیت کی خوشی میں اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔ یہ نہ بہت زیادہ تصویر یں اتروانے کے خواہشمند دکھائی دیتے تھے ، نہ انکے لیے انگریز ی بولنا اہم تھا ، اور یہ گھروں کو لوٹے ہیں تو بھی انکے لہجوں کی حمک میں سکو ں کی کھنک سنائی نہیں دیتی ۔ میڈیا میں ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ ان کھلاڑیوں کو ابھی پالش کرنے کی ضرورت ہے اور میرے جیسے کئی لوگ دعائیں کر رہے ہونگے کہ یا اللہ ہمارے نئے لڑکوں کو کوئی پالش نہ کردے کیونکہ پالش ہو جانے کے بعد ان کی ترجیحات بد ل جاتی ہیں ۔ ان کی وفاداریاں بدل جاتی ہیں ۔ یہ ملک کے وقار سے زیادہ ، اپنے اشتہار میں دلچسپی لینے لگتے ہیں ، ان کی نظریں اپنے بینک بیلنس پر جم جاتی ہیں ۔ ان کے لیے انگریز ی بولنا اہم ہو جاتا ہے ، کرکٹ کی پچ پر کار کردگی دکھانے سے زیادہ ، یہ سٹائل دکھانے کی کو ششوں میں مصروف ہو جاتے ہیں ، اسی لئے تو دل سے دعائیں نکل رہی ہیں کہ کوئی انہیں پالش نہ کردے ۔ یہ ایسے ہی سادے رہیں ۔ سرفراز کویوں ہی نعت سنانے سے دل کی تقویت حاصل ہو ،حسن علی کو اردو بولنے اور ترجمان کی مدد حاصل کرنے میں جھجھک محسوس نہ ہو ۔ میں تو مسلسل ہی دعا کر رہی ہوں ۔ یہ لڑکے محض وظیفوں پر نہ لگ جائیں ۔ یہ ہماری کرکٹ کو اپنے ضمیر کے ساتھ زندہ رکھیں۔ ایک عرصے کے بعد ہم نے میرٹ اور ٹیلنٹ دیکھا ہے ۔ ابھی ہماری ہاکی کی حالت زار بھی ہمارے سامنے ہے ۔ کاش اس میں بھی کوئی لیگ بن جائے تاکہ وہاں بھی نیا ٹیلنٹ تلاش کیا جائے اور میرٹ کی کوئی شنوائی ہو ۔ اور ادھر کرکٹ میں ان نئے لڑکوں نے جس تبدیلی کی بنیاد ڈالی ہے اے کاش کہ وہ ایک نیا آغاز ثابت ہو تاکہ کہیں سے تو کوئی اچھی خبر بھی آئے ۔ 

متعلقہ خبریں