آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟

آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟

آج تک ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ رمضان المبارک میں کھانے پینے کے تذکرے کیوں اچھے لگتے ہیں؟شاید ہم کھانے پینے کے عاشق ہیںیقینا عشاق کی بہت سی قسمیں ہیں ان کی ایک قسم تو وہ ہے جن سے ہماری پوری اردو شاعری بھری ہوئی ہے پہلے آپ ایک سچ مچ کے عاشق کی بات سن لیجیے پھر کھانے پینے کے حوالے سے بات کرتے ہیں ہمیں ایک عاشق روسیاہ سے ملنے کا اتفاق ہوا ہم اس کی ڈھلتی عمر دیکھ کر سوچنے لگے کہ اس عمر میں بھی عشق کیا جا سکتا ہے ؟کہتے ہیں بڑھاپے کا عشق ہمیشہ رسوائیوں اور جگ ہنسائیوںکا سبب بنتا ہے بہر حال ہم بڑے اشتیاق کے ساتھ اس سے ملے تو وہ بے اختیار رونے لگا اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ کر یقین کیجیے ہم بے چین ہو گئے ہم نے وجہ آہ وفغاں پوچھی تو کہنے لگا ایک صورت دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے یہ کہتے ہی پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا!ہمیں اس کی حالت زار پر رحم تو بہت آیا لیکن ہم کیا کرسکتے تھے اسے مرزا غالب کا یہ شعر سنا دیا۔ دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے۔آخر اس درد کی دوا کیا ہے ؟شعر کا دوسرا مصرعہ سن کر وہ حالت وجد میں آگیا اور اس مصرعے کی لگاتار تکرار کرنے لگا ہم نے اس کی حالت جذب کو اپنے لیے موقع غنیمت سمجھا اور وہاں سے کھسک آئے دراصل اس نے آخر اس درد کی دوا کیا ہے کی تکرار اتنے تواتر سے کی کہ ہمارے ذہن میں لوڈ شیڈنگ کا عفریت پھنکارنے لگا اس سے پہلے کہ ہمارا ذہن لوڈ شیڈنگ کے دیئے ہوئے دکھوں کی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہم اس کی حالت تباہ کا تجزیہ کرنے لگے کہ مریض عشق دنیا کے ہر دکھ سے بے نیاز ہوتا ہے وہ گرمی ، مہنگائی، اور لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل سے بے نیاز ہوتا ہے کالم کے آغاز میں ہم نے کھانے پینے کے حوالے سے بات اس لیے کی تھی کہ ہمارے ذہن میں کھانے پینے کے عاشق تھے جنہیں آپ ذرا مہذب انداز میں خوش خوراک حضرات بھی کہہ سکتے ہیں کھانے پینے کے معاملے میں ان کی چھٹی حس بڑی تیز ہوتی ہے آپ یقین کیجیے ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست جو ہمارے پروگرام کا حصہ کبھی بھی نہیں ہوتے وہ عین اس وقت ہمارے سر پر آدھمکتے ہیں جب ہم پہلا نوالہ توڑکر منہ میں رکھ رہے ہوتے ہیں۔ بس آتے ہی نعمت خداوندی پر ٹوٹ پڑتے ہیںان کے اندر ایک کمال کی صفت یہ ہے کہ وہ دوران طعام گفتگو کا جھنجھٹ کبھی بھی نہیں پالتے بس سر جھکائے موٹے موٹے نوالے پیٹ کی دوزخ میں اتارتے رہتے ہیںہم نے لا تعداد بسیار خوروں کو یہ کہتے ہوئے سناکہ خوراک تو بس ہماری واجبی سی ہے لیکن جسم ہے کہ روز بروز پھیل رہا ہے سمجھ نہیں آتی کہ اس موٹاپے کا کیا علاج کریں! ہمارے ایک بہت ہی پیارے مہربان جو اچھے خاصے خوش خوراک ہیں اکثر کہتے ہیں کہ ہمارا تو فلاں فلاں کھانوں سے پرہیز ہے بندہ کھائے تو کیا کھائے ایک مرتبہ ان کے ساتھ ہمیں ایک روایتی قسم کے پشاوری ولیمے پر جانے کا اتفاق ہوا۔چکن ، نرگسی کوفتے، ساگ، قورمہ اور چھوٹا گوشت خوانچے کی رونق بڑھا رہے تھے ہم نے کہا حضرت بسم اللہ کیجیے انہوں نے چھوٹتے ہی چکن پر ہاتھ ڈالا پھر اپنی پلیٹ میں چکن پیس کے پہلو میں ایک جہازی سائز کا نرگسی کوفتہ سجاتے ہوئے ہماری طرف دیکھا اور نظریں چار ہوتے ہی کہنے لگے کہ ہمارا تو چاولوں سے پرہیز ہے کمبخت اختلاج قلب نے کہیں کا نہیں رکھا آپ کھانا شروع کیجیے۔ ہم نے اپنے حصے کاکھانا ڈالا اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ساگ اور چھوٹے گوشت کی بہت بڑی مقدار ان کی پلیٹ میںایک تواتر کے ساتھ منتقل ہوتی رہی۔ ہم چاولوں سے فارغ ہوئے تو ہمیں خوانچہ اس میدان کی طرح لگا جہاں ایک گھمسان کی جنگ حال ہی میں ختم ہوئی ہو۔ چند مضروب ہڈیوں اور چاولوں کے سوا اب وہاں کچھ بھی نہیں بچا تھا ابھی ہم میدان جنگ کی باقیات کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ ہمارے خوانچہ فنا مہربان ہم سے کہنے لگے یار یہ ذرا سے چاول تو ڈال لوں کوئی کتنا پرہیز کرے پرہیز کرتے کرتے کھانے پینے سے جی اچاٹ ہو گیا ہے۔ ہم نے چپکے سے ان کی طرف چاول بڑھا دیئے اور وہ اپنی محبتیں چاولوں پر نچھاور کرنے لگے! اس میدان کے پرانے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ بسیارخوری اور چسکا خوری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ویسے ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ بسیار خور اورچسکا خور میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے شمار تو دونوں کا عشاق میں ہی ہوتا ہے لیکن دونوں کے طریقہ واردات میںفرق ہوتا ہے۔ بسیار خور کے سامنے جو ڈش آتی ہے اس کو فنا کرنا اس کی زندگی کا نصب العین ہوتاہے جبکہ چسکا خور چیزوں کا انتخاب کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار تا ہے۔ ایک چسکہ خور کا طریقہ واردات بھی دیکھ لیجیے گھر آیا اماں جان سے پوچھا کہ کیا پکا ہے؟ انہوں نے کہا بیٹا کدو شریف پکے ہوئے ہیں۔ واہ ہمارے گھر تو روز ہی کدو پکتے ہیں یہ کہا اور بڑ بڑاتے ہوئے باہر نکل گئے۔ واپس آئے تو ایک درجن سیخ کباب اٹھائے ہوئے تھے۔ اسی مزے کو ہوشیار لوگوں نے کیسے کیش کروایا اور لاکھوں روپے بنا ڈالے جگہ جگہ چسکا اور چٹخارا ریسٹورنٹ کھل گئے کھانے والا یہ سمجھتا ہے کہ میں تو ریسٹورنٹ لوٹ آیا اور ہوٹل والا یہ راز جانتا ہے کہ یہ کتنا کھائے گا۔نظر اگر نہیں بھرتی پیٹ تو بھر جاتا ہے!۔

متعلقہ خبریں