عالم اسلام' قیادت کا بحران

عالم اسلام' قیادت کا بحران

اگرچہ مغربی فلاسفہ کا اسلامی فلاسفہ سے اس بات میں بڑا اختلاف ہے کہ اس دنیا میں انسان کی تخلیق و آمد کا بنیادی مقصد کیاہے اور انسانی معاشروں کی ارتقا و تشکیل اور ان پر حکمرانی کے مختلف انداز اور شکلیں کن مراحل و مدارج سے گزر کر موجودہ ترقی یافتہ صورت کا نام پاکر صورت پذیر ہوئیں لیکن اس وقت بہر حال مغربی دنیا نظم و ضبط' سائنس و ٹیکنالوجی اور زندگی کے دیگر اہم شعبوں میں اپنی مثال آپ ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری مسابقت میں رشک و مقابلہ کی شاہراہ پر گامزن ہیں جبکہ عالم اسلام میں خلفائے راشدین کے بعد ایک مسلسل تنزل اور بحران جاری ہے۔اگرچہ خلفائے راشدین کی مثالی قیادت و سیادت اور حکومتوں کے بعد بنی امیہ اور بنی عباسیہ میں وقتاً فوقتاً اسی نظام میں سے بعض ایسے حکمران بھی سامنے آتے رہے جو خلافت راشدہ کی یاد ضرور دلاتے رہے۔ مثلاً بنی امیہ کے عمر بن عبدالعزیز کی مختصر مدت حکمرانی اس کی بہترین مثال تھی اور مورخ انہیں پانچواں خلیفہ راشد لکھنے پر مجبور ہوئے۔ اس طرح بنی امیہ کے اندلسی دور میں عبدالرحمن اول اور اسی خاندان کے بعض دیگر حکمرانوں نے سپین کو علوم و فنون اور سائنس و ترقی کا مرکز بنوا کر یورپ کی علمی بیداری میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بنی عباس میں ہارون الرشید اور مامون الرشید کے ادوار اگرچہ بعض معاملات کے حوالے سے پر آشوب بھی رہے لیکن مجموعی طور پر یہ علمی اور فنی ترقی کادور رہا۔

بنی عباس کے زوال کے بعد امت مسلمہ کے خاکستر سے سلطان صلاح الدین ایوبی' ظہیر الدین ببرس وغیرہ جیسے حکمران بھی پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اپنی فتوحات اور لا زوال کردار اور صداقت و دیانت کے سبب اسلامی تاریخ میں ایک استعارے کی حیثیت اختیار کرلی۔ اسی طرح افغانستان سے محمود غزنوی' شہاب الدین غوری' شیر شاہ سوری اور احمد شاہ ابدالی کی صورت میں جو حکمران اٹھے انہوں نے بر صغیر پاک و ہند پر ان مٹ نقوش چھوڑے اور میں تو یہ بھی سمجھتا ہوں کہ آج کے پاکستان کی تشکیل میں ان کا اس لحاظ سے بڑا حصہ ہے کہ ان کی وجہ سے ہندوستان میں مسلم تشخص کو بقا ملی ورنہ مغل شہنشاہ اکبر نے جو بیج بوئے تھے وہ تو شہزادہ سلیم (مہابلی) اور انار کلی کی صورت میں مغل سلطنت کے در و بام پر قابض ہوچکے تھے۔ پوری مغل سلطنت میں دیانت و امانت اور قیادت کے حوالے سے اورنگزیب عالمگیر کا کوئی ثانی نہیں۔ عثمانی خلافت نے دو صدیوں تک اسلام کے تین بر اعظموں پر بہترین نمائندگی کی لیکن وہاں جب اقتدار کو دوام دینے کے لئے اپنے ہی چھوٹے بھائی کو قتل کرنا ضروری سمجھا گیا تب صداقت و امانت اور قابلیت و صلاحیت کا جنازہ نکل کر عثمانی خلافت اتا ترک کی گمراہ کن روشن خیالی میں ڈھل گئی اور یہی وہ دور تھا جب عالم اسلام میں قیادت کا شدید بحران پیدا ہوا اور نتیجتاً پورا عالم اسلام مغربی استعمار کی غلامی میں جکڑ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کی نصف تک پچاس کے قریب مسلمان ممالک نے ظاہراً تو آزادی حاصل کرلی لیکن صحیح معنوں میں وہ آزادی جس سے مسلمان امت کو خودی اور خود اختیاری حاصل ہو نہ مل سکی۔ اس کی بنیادی وجہ قیادت کا فقدان ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ سپر پاور کی حیثیت سے ابھرا تو اس نے مغرب کو جنگ کے اثرات سے نکالنے کے لئے خصوصی پیکج دئیے جو بیل آئوٹ کہلائے اور یوں امریکہ اور مغرب نے مل کر سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی حاصل کی ۔ ایک صدی تک عالم اسلام کی قیادت یہ فیصلہ نہ کرسکی کہ جدید حالات میں جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے ایک ایسا معاشرتی' سیاسی اور معاشی نظام کیسے تشکیل دیا جائے جو ایک طرف مسلم امت کے افراد کو اسلام کی مبادیات (عقائد و عبادات) پر واضح فکر و عمل کے ساتھ آگے بڑھائے اور دوسری طرف مغرب کے علوم مادی و سماجی ترقی کے لئے ضروری علوم کے اخذ و استفادہ کے لئے منصوبہ بندی کرے۔ یہی وہ مخمصہ ہے جو آج تک جاری ہے۔ اس وقت کم و بیش پچپن اسلامی ملکوں کی جو قیادت ہے وہ مغرب کے کسی چھوٹے سے ملک کے حکمران کا کسی بھی لحاظ سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اسلامی قیادت کی بنیادی پہچان صداقت و امانت ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختصر الفاظ میں قیادت کے فرائض بیان فرمائے ہیں کہ' 'قوم کا سردار (حکمران) قوم کا خادم ہوتا ہے''۔ ہمارے ہاں خادم اعلیٰ اور خادم حرمین الشرفین تو موجود ہیں لیکن خادم انسانیت اور خادم ملک و قوم اور بالخصوص خادمین امت کہاں ہیں؟ سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے کئی حوالوں سے ایسی لا زوال نعمتیں عطا کی ہیں کہ وہ پوری امت کا رہنما و قائد بن سکتا تھا۔ شاہ فیصل شہید نے ایسا کرکے بھی دکھایا تھا لیکن اب اندازہ کیجئے ایک اللہ' ایک نبی' ایک کتاب' ایک حرم' ایک زبان' ایک تہذیب و ثقافت تقریباً تیس پینتیس کروڑ عرب آپس میں ایک نہیں ہیں۔ تو عجم کیا ایک ہوں گے۔ لے دے کر ایک طیب اردوان ہے وہ بے چارہ لگا ہے۔ پاکستان امت کی سطح پر ایک بے مثال کردار کی ادائیگی کے لئے معجزہ خداوندی کے نتیجے میں قائم ہوا ہے لیکن اس کے حکمرانوں کی تاریخ تو ذرا پڑھئیے اور اب پاناما نے پوری قوم اور ملک کو ایسا گھیرا ہے کہ کہیں اور دیکھنے کی فرصت ہی نہیں۔ اس وقت پوری امت اپنے اپنے ملکوں میں اور امت کی سطح پر ایک مرکزی قیادت کی تلاش میں ہے تاکہ کہیں تو بحرانوں کا حل بھی نظر آئے!۔

متعلقہ خبریں