مشرقیات

مشرقیات

حضرت عبدالرحمن بن محمد محاربی کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابو الدردا نے اپنے ایک بھائی کو خط میں یہ لکھا اما بعد! تمہارے پاس جتنی دنیا ہے وہ تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھی اور تمہارے بعد پھر دوسروں کے پاس چلی جائے گی اس میں سے تمہاری صرف اتنی ہے جو تم نے اپنے لئے آگے بھیج دی یعنی اللہ کے نام پر دوسروں پر خرچ کر دی لہٰذا اپنے آپ کو اپنی نیک اولاد پر ترجیح دو یعنی دوسروں پر خرچ کر جائو تو تمہارے کام آئے گی ورنہ تمہارے بعد تمہاری اولاد کو مل جائے گی کیونکہ تم ایسی ذات کے پاس جائو گے جو تمہارا کوئی عذر قبول نہیں کرے گا اور تم ان لوگوں کے لئے جمع کر رہے ہو جو تمہاری کبھی تعریف نہیں کریں گے اور تم دو طرح کے آدمیوں کے لئے جمع کر رہے ہو یا تو وہ تمہارے مال میں اللہ کے حکم پر عمل کرے گا اور تم تو اس مال کو دوسروں پر خرچ کرنے کی سعادت حاصل نہ کر سکے لیکن یہ سعادت اسے مل جائے گی یا و ہ اس میں اللہ کی نافرمانی پر عمل کرے گا اور چونکہ یہ مال تم نے اس کو جمع کر کے دیا ہے اس لئے اس کے غلط خرچ کا ذریعہ بننے کی وجہ سے تم خود بخت بن جائو گے بہر حال اللہ کی قسم !ان دونوں میں سے کوئی بھی اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ تم اس کی وجہ سے اپنی کمر پر بوجھ لاد کرا س کی سزا کو کم کروائو۔ لہٰذا تم اسے اپنی ذات پر ترجیح مت دو اور جو جا چکے ہیں ان کے لئے اللہ کی رحمت کی امید رکھو اور جو باقی رہ گئے ہیں ان کے بارے میں اللہ کی عطا پر اعتماد کرو والسلام ۔
حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابو ذر غفاری نے کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگو! میں جندب غفاری ہوں اس بھائی کے پاس آجائو جو تمہارا خیر خواہ اور بڑا شفیق ہے اس پر لوگوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیرلیا تو فرمایا ذرا یہ بتائو کہ جب تم میں سے کسی کا سفر کا ارادہ ہوتا ہے تو کیا وہ اتنا مناسب زاد راہ نہیں لیتا جس سے وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے ؟ لوگوں نے کہا لیتا ہے ۔ فرمایا قیامت کے راستہ کا سفر تو سب سے لمبا سفر ہے لہٰذا اتنا زاد راہ لے لو جس سے یہ سفر ٹھیک طرح ہو جائے۔ لوگوں نے کہا وہ ذاد راہ کیا ہے جس سے ہمارا یہ سفر ٹھیک طرح ہو جائے ؟فرمایا حج کرو اس سے تمہارے بڑے بڑے کام ہو جائیں گے اور سخت گرم دن میں روزے رکھو کیونکہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے اور رات کے اندھیرے میں دو رکعت نماز پڑھو یہ دو رکعتیں قبر کی تنہائی میں کام آئیں گی ۔مال کے دوحصے کر و ایک حصہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دو اور دوسرا حصہ اپنی آخرت کے لئے آگے بھیج دو ان دو جگہوں کے علاوہ کہیں اورخرچ کرو گے تو اس سے تمہارا نقصان ہوگا فائدہ نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس کا ارادہ بھی نہ کرو پھر حضرت ابو ذر نے بلند آواز سے فرمایا اے لوگو!دنیا کے لالچ نے تمہیں مار ڈالا اور تم جتنا لالچ کرتے ہو اس کو تم کبھی حاصل نہیں کر سکتے ۔
(حیاة الصحابہ حصہ سوم)

متعلقہ خبریں