منصوبے 'وسائل صوبائی 'ترقی علاقائی!

منصوبے 'وسائل صوبائی 'ترقی علاقائی!

خیبر پختونخوا اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ گیارہ ارب ڈالر کے چار معاہدوں پر دستخط موجودہ حکومت کے مدت اقتدار کے آخری سال کی بڑی کامیابی ہے جن پر عملدرآمد کی ذمہ داری آئندہ حکومت ہی نبھائے گی۔ ان منصوبوں سمیت دیگر اہم منصوبوں کاجائزہ لینے سے جو بات قدر مشترک سامنے آتی ہے وہ یہ کہ کم و بیش سارے بڑے بڑے منصوبے یا تو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے آبائی علاقے میں آتے ہیں یا پھر سپیکر اسد قیصر کے آبائی علاقے کے ارد گرد ہیں ۔ اگر بالغور دیکھا جائے تو صوبے کے اہم ترین ترقیاتی صنعتی و رہائشی منصوبے اس مہارت سے ایک ہی جانب لے جائے گئے ہیں جس سے نوشہرہ و صوابی سب سے زیادہ مستفید علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ پشاور ماڈل ٹائون موجودہ حکومت کا منصوبہ نہیں بلکہ گزشتہ حکومت میں اسے اسفندیار سٹی کے نام سے بنانے کی تجویز تھی لیکن بہر حال منصوبے کو عملی شکل دینے کا اعزاز موجودہ حکومت کو حاصل ہو رہا ہے اور اس کا نام بھی تبدیل کرکے سب کے لئے قابل قبول اور موزوں رکھا گیا ہے جو احسن اقدام ہے۔ جدید طرز رہائش اور سہولیات سے مزین یہ رہائشی منصوبہ صوبائی دارالحکومت پشاور اور نوشہرہ کے تقریباً مقام اتصال پر واقع ہونے جلوزئی ہائوسنگ سکیم فیز ون کے بعد فیز ٹو کا اجرائ' انجینئرنگ یونیورسٹی' مجوزہ ائیر یونیورسٹی' صنعتی بستی کا قیام اور صنعتی بستی کی تعمیر اسی ہزار کنال اراضی پر سی پیک سٹی کا قیام و توسیع کے اونر جیسے اہم منصوبوں کے باعث اب نوشہرہ صوبائی دارالحکومت پر اگر سبقت نہیں لے گیاہے تو اس کے ہم پلہ ضرور ہوگیاہے اس سے آگے مختلف منصوبوں شہر علم بسانے کا منصوبہ اور اب موٹر وے پر کرنل شیر خان انٹر چینج پر اسی ہزار کنال پر سی پیک کے نام سے جدید شہر بسانا گدون کی صنعتی بستی کی توسیع و بحالی اور سی پیک کے منصوبوں سے استفادہ اور 35ارب روپے کی لاگت سے سوات ایکسپریس وے کاصوابی سے گزرنا جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔ اتفاق سے صوابی اور نوشہرہ بھی قریب قریب واقع ہیں جس کی بناء پر نوشہرہ کے اہم منصوبوں سے صوابی اور صوابی کے اہم منصوبوں کے ثمرات سے نوشہرہ کو فوائد اور مواقع حاصل ہوں گے جبکہ سوات ایکسپریس وے لواری ٹنل کی تکمیل اور اس کو سی پیک کا متبادل اور محفوظ ترین قدرتی گزر گاہ کے باعث شریک اقتدار جماعت کی دلچسپی کے حامل علاقوں کی ترقی فطری امر ہوگا۔ ممکن ہے یہ وزیر اعلیٰ' سپیکر' وزیر خزانہ' وزیر بلدیات کی شعوری مساعی نہ ہوں مگر اس طرح کاحسن اتفاق بھی قابل یقین نہیں ان ہم منصوبوں سے صوبائی دارالحکومت' نوشہرہ' صوابی اور کسی حد تک ملاکنڈ ڈویژن براہ راست اور بالواسطہ طور پر وفاقی دارالحکومت سے مواصلاتی طور پر مزید قریب تر ہوں گے اور ایک ترقی یافتہ علاقوں کی صف میں کھڑے ہوں گے۔ صوبے کے کسی حصے کی ترقی پر کوئی کوتاہ بین ہی معترض ہوگا مگر صوبے کے وسائل کو کسی علاقے میں یکجا کئے جانے پر برابری اور مساویانہ نظر کے حاملین کے لئے دیگر علاقوں کے عوام کی محرومیوں سے صرف نظر بھی ممکن نہیں۔ ان منصوبوں سے صوبے کے ایک بہت بڑے علاقے میں تبدیلی و ترقی ضرور ہوگی ساتھ ہی ساتھ دوسرے علاقوں کے عوام کی محرومیوں کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہزارہ ڈویژن سی پیک سے مستفید ہوگا اور وہاں موٹر وے کی تعمیر سے مواصلاتی و صنعتی انقلاب کا خواب حقیقت بنتے دیکھ کر ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے۔ چترال جو اب تک ایک محروم اور پسماندہ علاقہ تھا لواری ٹنل کی تکمیل' چکدرہ تک ایکسپریس وے اور چترال تیمر گرہ سڑک کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ اور بروغل سک کی سڑک کی تعمیر و توسیع کو این ایچ اے کے حوالے کرنے اور چترال میں 506 میگا واٹ کے تین بجلی گھروں کے منصوبوں کے ساتھ کئی ایک چھوٹے بڑے منصوبوں چترال یونیورسٹی کا باقاعدہ طور پر کام شروع کرنا جیسے معاملات سے اب وہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ممکن دکھائی دینے لگا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کرک میں آئل ریفائنری کے قیام کے علاوہ جنوبی اضلاع کو یکسر نظر انداز کیاگیا ہے جبکہ وسطی اضلاع کے لئے بھی قابل ذکر منصوبے شامل نہیں۔ یہاں تک کہ یہاں حکومت نے خود اپنے ایک اتحادی جماعت کے مفادات کا بھی خیال نہیں رکھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صوبے کے وسائل پر پورے صوبے کے عوام کا یکساں حق ہے۔ ہم جس طرح مر کز سے محرومیوں کی شکایت کرتے ہیں اگر چارسدہ' مردان' کوہاٹ' ہنگو' کرک ' لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام محرومیوں کی شکایت کریں تو کیا ان کی نہ سنی جائے۔ یہ درست ہے کہ سی پیک روٹ کی صورت میں ڈیرہ اسماعیل خان کے چارہ دستوں نے وفاق پر دبائو ڈال کر علاقے کے مفاد کا پوری طرح خیال رکھنے کو یقینی بنا دیا ہے لیکن صوبائی حکومت کی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اگر محولہ منظر نامے کے مطابق جائزہ لیا جائے تو پشاور میں ریپڈ بس منصوبہ اور پشاور ماڈل ٹائون کا قیام کافی نہیں۔ صوبائی حکومت دعوے کے باوجود ریگی ماڈل ٹائون کی متنازعہ اراضی کا تنازعہ طے نہ کرسکی اور نہ ہی ریگی ماڈل ٹائون کے بڑے رہائشی منصوبے کو ترقی دینے کی ذمہ داری پوری کی۔ حکومت اگر چاہتی تو ایک کھنڈر نما ہائوسنگ سکیم جس میں لاکھوں خاندانوں کا سرمایہ پھنس چکاہے اور حاملین پلاٹ گھر بنانے کی آس لئے شیخ خانی بن چکے ہیں یا پھر دنیا ہی سے کوچ کر گئے ہیں۔ کیا صوبائی حکومت اس اہم منصوبے کو مکمل کرکے صوبائی دارالحکومت کا حق ادا نہیں کرسکتی تھی۔ صوبائی دارالحکومت اب جملہ اضلاع اور قبائلی ایجنسیوں کے لاکھوں کروڑوں افراد کا شہر ہے افغان مہاجرین کا بوجھ الگ ہے لیکن اس پر کسی دور حکومت میں سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دی جاتی۔ ہزارہ کاوزیر اعلیٰ آتا ہے تو بس ان کو ہزارہ ہی خیبر پختونخوا نظر آتا ہے' بنوں اور مردان کی تعمیر و ترقی کا راز اقتدار کے ہما کا سر بیٹھنا ہے۔ اب نوشہرہ کی باری ہے پشاور کی باری آخر کب آئے گی اور اسے ترجیح کب ملے گی۔ کب اضلاع اور قبائلی علاقوں سے آکر پشاور میں بسنے والوں کے حصے کے فنڈز پشاور میں استعمال ہوں گے آخر کب؟

متعلقہ خبریں