فرضی انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کا احسن اقدام

فرضی انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کا احسن اقدام

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں انجینئرنگ یونیورسٹی اور میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لئے فرضی انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کرکے طلبہ کی رہنمائی ان کو ٹیسٹ کے طریقہ کار سے روشناس کرنا نہایت احسن سعی ہے جس سے طلبہ میں اعتماد اور تجربہ پیدا ہوگا اور طریقہ کار سے واقفیت کے باعث وہ انٹری ٹیسٹ کی بھرپور طریقے سے تیاری کرسکیں گے۔ انٹری ٹیسٹ میں اعلیٰ نمبروں کے حامل قابلیت و استعداد رکھنے والے طالب علموں کے فیل ہونے سے اس نظام پر سوالات اٹھ رہے تھے اور ایسا ہونا بھی فطری امر تھا کہ محض ایک انٹری ٹیسٹ کے ذریعے سائنس کے ایک طالب علم کے پانچ سال کی شب و روز محنت اور ان کی قابلیت کادرست اندازہ لگانا شاید ممکن نہیں۔ انٹری ٹیسٹ میں کسی بھی وجہ سے کسی ذہین طالب علم کے کم نمبر آنے کی صورت میں اس کی داخلے سے محرومی اس کے لئے تو سال کے ضیاع کا سبب بننا ہی بڑی قیمت ہے کجا کہ وہ دل برداشتہ ہو کر کوئی اور فیلڈ اپنا کر اپنے اور والدین کے ارمانوں کا خون کرے۔ فرضی انٹری ٹیسٹ کا مناسب رہنمائی کے ساتھ اعادہ اگر ممکن ہو تو نہایت احسن امر ہوگا۔ یہ خاص طور پر ان طالب علموں کے لئے خصوصی طور پر سود مند ہے جو معاشی مشکلات اور سہولیات نہ ہونے کے باعث انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنے والے مہنگے مراکز میں داخلے نہیں لے سکتے۔ طالب علموں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لئے مختلف تنظیموں اور اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی اس نوعیت کے فرضی ٹیسٹوں اور طالب علموں کو اس کے طریقہ کار' پیچیدگیوں اور باریکیوں بارے آگاہ کریں اور ان کو اتنا تجربہ اور اعتماد کا حامل بنائیں کہ وہ انٹری ٹیسٹ میں اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ طلبہ اس طرح کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری کالجوں میں ماہر ارو تجربہ کار اساتذہ کرام کی طرف سے طلبہ کو انٹری ٹیسٹ کی تیاری کا جو احسن قدم اٹھایا گیا تھا اسے موقوف نہ کیا جائے بلکہ اس کااعادہ کیا جائے تاکہ طالب علموں کو مناسب رہنمائی ملے اور مہنگے مراکز کی ضرورت باقی نہ رہے۔
فاٹا میں نمائشی داخلہ مہم
فاٹا سٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے قبائلی علاقوں میں فاٹا سیکرٹریٹ کے زیر اہتمام سکول داخلہ رہنمائی مہم کو تصاویر تک محدود قرار دینے میں مبالغہ اس لئے نظر نہیں آتا کہ فاٹا سیکرٹریٹ کی کارکردگی اور خاص طور پر تعلیم و صحت کی سہولتوں جیسے بنیادی مسائل کے حل میں اس کی سراسر ناکامی کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو بندوبستی اضلاع میں بھی یہ مہم تکلفاً ہی چلائی جاتی ہے۔ یہاں بھی اس مہم کا حال فاٹا سے مختلف نہیں۔ بہر حال پولیٹیکل ایجنٹوں کے دفاتر کے اندر اس طرح کی مہم چلانے کو واقعی قبائلی عوام سے مذاق ہی قرار دیا جائے گا۔ فاٹا میں اولاً سارے سکول فعال ہی نہیں کچھ کاغذات میں موجود ہیں اور ان کا کوئی وجود نہیں اور جو سکول موجود ہیں وہاں سیشن شروع ہونے کے دو ماہ بعد بھی کتابوں کا نہ ملنا نہایت افسوسناک صورتحال ہے۔ اب جبکہ چند دنوں کے اندر سکولوں کی موسم گرما کی چھٹیاں ہونے والی ہیں رمضان المبارک کی بھی آمد آمد ہے ایسے میں اگر بقیہ دورانیے میں کتابیں مل بھی جائیں تو طالب علموں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا۔ کم از کم انہی دنوں تو کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ہمارے تئیں صرف بچوں کا سکول رجسٹر میں نام لکھوانا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کابھی اہتمام ہونا چاہئے۔ تصویری مہم چلانا ضرورت سہی لیکن اس ضرورت کو نتیجہ خیز بھی بنانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں