امریکی صدر کا ایران مخالف بیانیہ

امریکی صدر کا ایران مخالف بیانیہ

صدر ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب سے ایک بات ثابت ہے' ملکی ہو یا بین الاقوامی سیاست زمینی حقائق سے انکار ممکن نہیں ہے۔ امریکی صدر انتخابی مہم کے دوران اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا کچھ کہتے رہے ہیں لیکن اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب ہی ان کا انتخاب بنا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انہیں سعودی عرب کھینچ لائی؟ اس سوال کاجواب ہے ''ضرورت''۔ سب سے پہلے امریکا کا جو نعرہ صدر ٹرمپ لگاتے رہے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ اس کی صنعت کا پہیہ چلے اور امریکیوں کو روزگار ملے۔ ان کی یہ ضرورت مشرق وسطیٰ کے ممالک پوری کر سکتے تھے۔ چنانچہ وہ پہلی فرصت میں سعودی عرب تشریف لائے اور وہاں 350ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ ان معاہدوں میں 100ارب ڈالر کا دفاعی سامان بھی شامل ہے۔ قبل ازیں صدر اوبامہ نے سعودی عرب کے ساتھ 72ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھاجسے تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی سامان مہیا کرنے کا معاہدہ قرار دیا گیا تھا۔ اس آرمز ڈیل کے طفیل امریکی انتظامیہ نے 75ہزار نئی ملازمتوں کی راہ ہموار کی تھی۔ یقینی طور پر 110ارب ڈالر کا حالیہ معاہدہ کم ازکم ایک لاکھ سے زائد نئی ملازمتوں کامؤجب بنے گا۔ امریکی صدر جانتے ہیں کہ جس امریکی سرمایہ دار نے سستی لیبر کی خاطر چین میں سرمایہ کاری کررکھی ہے اُس انوسٹمنٹ کو امریکہ واپس لانا یقینی طور پرایک مشکل بالکل ناممکن ٹاسک ہے۔ لہٰذا مشرق وسطیٰ کے ممالک کی انوسٹمنٹ ان کی ترجیح بنی۔ اور ان کی وہاں تشریف آوری ہوئی۔ آج ان کا بیانیہ بدل گیا ہے۔ صدر اوبامہ کی پالیسی کے برعکس وہ ری پبلکن کے پرانے بیانئے کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے 55اسلامی ممالک کے سربراہاںکے سامنے کھڑے ہو کر ایران کی خوب کلاس لی ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایران کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے اس سے کہیں زیادہ سخت الفاظ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سننے میں آئے۔ واضح رہے کہ ایران اور شام دو مسلمان ممالک ہیں جنہیںکانفرنس میںمدعو نہیں کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک ایران مخالفت میں یکسو ہو رہے ہیں۔ صدر اوبامہ نے جن دنوں ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کیا اور ایران پر سے عالمی پابندیاںاُٹھانے کی راہ ہموار کی اُس وقت خلیجی ممالک کی رائے تھی کہ ایسا کرنا ایران کو پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے وسائل مہیا کرنے کے مترادف ہے۔ بدقسمتی سے ایران نے ان خدشات کے مطابق ہی عمل کیا اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل نہ کی۔ وہ شام' عراق ' یمن اور لبنان میں کھلی مداخلت کا مرتکب رہا۔ میں ان کالموں میںلکھتا آیا ہوں کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی تشویش دور کرنے کے لیے ایران کو ان اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو دوسرے ممالک کی سلامتی کے منافی ہوں لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہاہے کہ ایران ایک مخصوص ذہنیت کو ترک نہیں کر پایا۔ اس ذہنیت کانتیجہ ہے کہ آج ایران پاکستان کی سرحدوں پر بھی گولہ باری میں مصروف ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جو ایران کی عالمی تنہائی کو دور کرنے کے لیے ہمیشہ سے کردار ادا کرتا آیا ہے مگر ایران نے پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے پاکستان دشمن قوتوںسے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار ہندوستان کے حوالے کرنے کا کیا مطلب ہے؟ پاکستان نے جب مسلمان ممالک کی متحدہ فوج کی سربراہی قبول کی تو ہمارے ہاں اس ضمن میں جو دوسری رائے موجود تھی وہ برادر اسلامی ممالک کے مفادات کے تناظر میں تھی۔ چنانچہ اچھی خاصی بحث و تمحیص ہوئی۔ ایران نے ان جذبات کی بھی پرواہ نہیں کی ہے۔ دریں حالات کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ جنرل راحیل شریف ایران سعودی عرب تعلقات میں ثالثی کی راہ ہموار کر پائیں گے۔ 

امریکی صدر اور اُن کی ٹیم داعش کے خلاف مسلمان ممالک سے تعاون کی طلب گار ہے۔ تاہم وہ یہ بات جانتے ہیں کہ خلیجی ممالک ایران کو اپنے لیے داعش سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ خطرہ مفروضے پر مبنی نہیں ہے۔ شام اور عراق میںکھلی مداخلت کے علاوہ لبنان میں حزب اللہ ' فلسطین میں حماس اور یمن میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی سے یہ بات عیاںہوتی ہے کہ ایران ، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں عدم استحکام پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔ اس خطرے کے پیشِ نظر امریکی صدر ٹرمپ کا ایران مخالف بیانیہ نہ صرف خلیجی ممالک اور امریکہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنے گا بلکہ خطے میں موجود ان قوتوں کی حوصلہ شکنی ہو گی جو اوبامہ انتظامیہ کی پالیسی سے تقویت حاصل کر رہی تھیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عرب بہار کے نام پراوبامہ انتظامیہ نے مسلمان ممالک کو کمزور کرنے کا کھیل کھیلا، تیونس سے لے کر شام تک آج عرب دنیا غیر محفوظ ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف سابق امریکی انتظامیہ ہے۔ دنیا میں برسوں سے برسراقتدار مسلمان سربراہان کے خلاف جب عوام اُٹھ کھڑے ہوئے تو ابتداء میں اس کی پذیرائی ہوئی مگر جلد ہی یہ حقیقت بے نقاب ہوئی کہ سارے کھیل کے پیچھے امریکی USAIDاور دیگر خفیہ تنظیمیں موجود ہیں۔
اگر مسلمان ممالک کے سربراہان اتحاد اُمت کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے تو مسلمان عوام خود اُٹھ کھڑے ہوں گے اور یوں اتحاد اُمت کی وہ منزل پا لیں گے جس کا ایک مدت سے خواب دیکھا جا رہا ہے۔ اتحاد اُمت کی جانب ٹھوس پیش رفت جب بھی ہو گی تو یہ سربراہاں کی سطح پرہی ہو گی اس کے علاوہ سب انارکی ہے۔ یورپی یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاںسربراہاں مملکت و حکومت کی سطح پر ہونے والا تعاون بڑھتا ہوا بالآخر منزل تک پہنچ گیا۔

متعلقہ خبریں