چینی معیشت کیلئے افریقی گدھوں کا قتلِ عام

چینی معیشت کیلئے افریقی گدھوں کا قتلِ عام

پچھلے سال جب مغربی افریقہ کے پسماندہ ترین ممالک میں سے ایک نائجر نے گدھے برآمد کرنے پر پابندی لگائی تھی تو سرحد کی دوسری طرف نائیجیریا میں رہنے والے تاجروں کو اس پابندی سے انتہائی صدمہ پہنچا تھا۔نائیجیریا کے ایک قصبے جبیا میں رہنے والے پینتالیس سالہ محمد ثانی بتاتے ہیں 'اس پابندی سے پہلے یہاں پر ہزاروں گدھے دیکھنے کو ملتے تھے لیکن اب یہاں پر پچاس سے زیادہ گدھے نہیں ہیں، ہمارا کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا ہے '۔چین میں گدھے کی کھال کی طلب میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے پوری دنیا میں گدھوں کو بے رحمی سے قتل کیا جارہا ہے۔ چین میں گدھوں کی کھال سے جیلاٹن بنائی جاتی ہے جو عمر رسیدگی کے اثرات ختم کرنے اور جنسی ادویات کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ چین میں استعمال ہونے والے جیلاٹن کو 'جیائو' کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ملک کی مڈل کلاس آبادی میں بہت مقبول ہے جس کی وجہ سے چینی تاجروں نے دوسرے ممالک سے گدھے درآمد کرنے کا کاروبار شروع کیا ہے تاکہ مذکورہ مصنوعات تیار کرنے والی فیکٹریوں کو خام مال کی فراہمی میں تعطل نہ آئے۔ 1990ء کی دہائی میں چین میں گدھوں کی مجموعی تعداد 11 ملین تھی جو اس وقت صرف 3 ملین پر پہنچ چکی ہے اور اس تعدا د میں بھی تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔چین کے ساتھ بہتر تعلقات اور گدھوں کی ایک کثیر تعداد کی باعث برِ اعظم افریقہ گدھوں کے خریداروں کے لئے بہت زیادہ کشش کا باعث ہے۔ایک برطانوی فلاحی ادارے 'دی ڈنکی سینکچری' کے مطابق سال 2014ء میں چین میں ایک کلو گرام جیلاٹن کی قیمت کی بنیاد پرتیار شدہ جیلاٹن کی سالانہ تجارت 2.6 بلین ڈالر ہوسکتی ہے۔دی ڈنکی سینکچری کے پروگرام مینیجر ایلکس میئرز کہتے ہیں 'گدھوں کی کھال کی تجارت اچانک ہی نمودار ہوئی ہے اور اس میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم نے ایسا تیزی سے بڑھتا ہوا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔ اگر غریب علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں سے کسی کا گدھا چوری ہوجاتا ہے یا اسے مار دیا جاتا ہے تو اس گدھے کا مالک نیا گدھا نہیں خرید سکتا کیونکہ گدھوں کی قیمت آسمان کو چھورہی ہے'۔ افریقہ میں گینڈوں اور ہاتھیوں کی چوری اور ٹمبر مافیا کے ہاتھوں جنگلات کے خاتمے کی طرح گدھوں کا قتلِ عام بھی چین میں مڈل کلاس کی آمدنی میں اضافے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ دی ڈنکی سینکچری کی اس سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں گدھوں کی مجموعی تعداد تقریباً 44 ملین ہے جبکہ گدھوں کی موجودہ سالانہ ڈیمانڈ 4 ملین ہے۔ افریقہ کے پسماندہ ترین اور خشک ترین علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے لئے گدھے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ آمد و رفت کا واحد ذریعہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کی دیہی معیشت کا مکمل انحصار گدھوں پر ہے۔گدھوں کی مانگ میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے ان علاقوں کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔سابق میئرز کہتے ہیں ''کینیا میں ایک کام کرنے والے صحت مند گدھے کی مجموعی سالانہ قیمت 2300 ڈالر ہے ۔ اگر آپ ایک گدھے کو قتل ہونے کے لئے فروخت کرتے ہو توآپ کو اس آمدنی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ وصول ہوگا جوبمشکل ایک مہینے کے اخراجات کے برابر ہوگا ۔ ایک مردہ گدھے کے مقابلے میں ایک زندہ گدھے کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے''۔ یہی وجہ ہے کہ نائجر نے گدھوں کی برآمدات کے علاوہ گدھے کاٹنے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نائجر میں 2016ء کے پہلے9 مہینوں میں ہونے والی گدھوں کی برآمدات سال2015ء میں ہونے والی گدھوں کی مجموعی برآمدات سے تین گنا زیادہ رہی تھی جس کے بعد اس پر پابندی عائد کردی گئی ۔ اسی طرح نائجر کے ہمسایہ ملک برکینا فاسو میںگدھوں کی قیمت میں دوگنا اضافے اور 1.5 ملین گدھوں میں سے 45000 گدھوں کو کاٹے جانے کے بعد حکومت نے پچھلے سال اگست میں گدھوں کی برآمد پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اسی طرح ، مالے، سینیگال اور گیمبیا نے بھی گدھوں کی برآمدات پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ گدھوں کی ایک قلیل آبادی کے حامل زمبابوے نے بھی اپنے ملک میں گدھوں کے مذبح کی تعمیر کے لئے دی جانے والی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جبکہ ایتھوپیا نے اپنے شہریوں کی شکایت پر ملک کے واحد گدھوں کے مذبح خانے کو بند کردیا ہے۔ لیکن دوسری جانب تنزانیہ، گھانا اور کینیا جیسے بہت سے افریقی ممالک میں آج بھی بڑے پیمانے پر گدھوں کو کاٹا جارہا ہے۔نائیجیریا میںگدھوں کی کھالوں کے آن لائن اشتہارات اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ گدھوں کی افزائشِ نسل ایک مشکل کام ہے اور تجارتی پیمانے پر گدھوں کی افزائش تو اور بھی دقت طلب معاملہ ہے۔ سابق میئرز کہتے ہیں 'گدھے کبھی بھی زیادہ بچے پیدا کرنے والے جانور نہیں رہے اور نہ ہی گدھوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی وجہ سے پالا جاتا ہے'۔ نائیجیریا کے کچھ تاجر اب نائجر سے گدھوں کی سمگلنگ میں ملوث ہو چکے ہیں جس سے گدھوں کی کھال کی مانگ میں بے تحاشہ اضافے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے ہی ایک سابق تاجر اور موجودہ سمگلر کا کہنا ہے کہ میں پانچ گدھے سمگل کرتے ہوئے نائیجیریا کی سرحد پر پکڑا گیا تھا۔ نائجر کے سرحدی حکام نے نہ صرف تمام گدھے ضبط کر لئے بلکہ 650 ڈالر کا جرمانہ بھی کیا۔ اس کے باوجودہ مذکورہ تاجر کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی یہ کام جاری رکھے گا ۔

متعلقہ خبریں