عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس اور پاکستان

عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس اور پاکستان

عرب امریکی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے مدینہ شریف میں اپنے ساتھ جانے والے پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ابھی انتہا پسندی کے خلاف اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ممکن ہے کانفرنس کے دوران ایسی کوئی بات گردش کرتی رہی ہو تاہم ایسی کوئی خبر نہیں آئی کہ عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس کے دوران کوئی ایسی تجویز باضابطہ طور پر پیش کی گئی ہو۔ اس کانفرنس کے حوالے سے سعودی عرب کی طرف سے سرکاری ویب سائٹ کے مطابق کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ برداشت اور اعتدال پسندی کو فروغ دیتے ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے بین الاقوامی شراکت داری قائم کی جائے گی۔ لیکن کانفرنس کے بارے میں جو خبریں آتی رہی ہیں ان میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان 350ڈالر کے دفاعی اور تجارتی معاہدوں کا ذکر تو ہے لیکن کانفرنس میں برداشت اور اعتدال پسندی کے فروغ کے لیے کیا کیا گیا اس کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔ یہ ضرور ہے کہ صدر ٹرمپ نے جو اس کانفرنس کی اہم ترین شخصیت تھے کہا کہ ایران کو تنہا کردیا جائے ۔ اور یہ کہ ایران گزشتہ عشرے سے فرقہ واریت کو فروغ دے رہا ہے۔ اور ان کے میزبان سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے جو کانفرنس کی اتنی ہی اہم شخصیت تھے کہا کہ ایران سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کانفرنس میں شریک 56ملکوںکے سربراہوں اور مندوبین کے خطابات کے لیے وقت ہی کافی نہیں تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی بتایا ہے کہ وہ تقریر کی تیاری کر کے گئے تھے لیکن کانفرنس میں وقت کی کمی کے باعث انہیں موقع نہ ملا۔یہ موقع صدر ٹرمپ اور شاہ سلمان کے سوا کسی اور مندوب کو بھی نہیںملا۔ اس لیے اس اکٹھ کوکانفرنس کہنا کچھ اتنا مناسب نہیں لگتا۔ 

شاہ سلمان نے اس کانفرنس کے لیے اسلامی ممالک کے سربراہوںکو مدعو کیا جن میں سے اکثر کے سربراہان مملکت و حکومت یا مندوب کانفرنس میں شریک ہوئے۔دیگر مسلمان ممالک نے اس بارے میں اظہارِ خیال نہیں کیا جیسے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اس کے لیے وقت نہیں تھا۔ وہ سب شاہ سلمان اور صدر ٹرمپ کے خطاب سنتے رہے ۔ کیا ان کی خاموشی کو جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے اظہارِ خیال کے لیے وقت ہی نہیں تھا کو اس مقصد پر باہم رضامندی کہا جاسکتا ہے جو سعودی ویب سائٹ میں اس کانفرنس کا بیان کیا گیا ہے کہ ''برداشت اور اعتدال پسندی کو فروغ دے کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بین الاقوامی شراکت داری قائم کرنا یا پھر صدر ٹرمپ کا بیان کردہ مقصد کہ ایران کو تنہا کیا جائے۔ جیسے کہ سطورِ بالا میں ذکر کیا جا چکا ہے ''برداشت اور اعتدال پسندی'' کا ذکر کانفرنس کے دوران نہیں آیا(کس حد تک برداشت اور اعتدال پسندی کے معنی کیا ہیں یہ اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہے) دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری قائم کرنے کی کوئی تجویز بھی کانفرنس کے بارے میں خبروں میں نہیں آئی۔ ممکن ہے ایسی کوئی تجویز فضا میں گردش کرتی رہی ہو ۔ امید کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم وطن واپسی پر اس کانفرنس کے مقاصد اور نتائج کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے اور ان کے ذہن میں اسلامی ملکوں کے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی کوئی تجویز ہے تو وہ بھی پیش کریں گے۔ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کاماحصل بادی النظر میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں مسلمان ملکوں کو ایران کو تنہا کرنے کی تجویز پیش کی گئی جو سعودی عرب کی بھی تجویز ہے اور اس کے ساتھ خلیجی ممالک بھی جن کے ساتھ ایران کے تنازعات ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو فرقہ واریت کے فروغ کا ذمہ دار قرار دے کر اور اسے تنہا کرنے کی کال دے کر اگرچہ خود فرقہ واریت کوہوا دی ہے۔ تاہم سعودی فرمانروا کی ایران کو تنہا کرنے کی کال اسلامی ملکوں کے لیے خارجہ تعلقات کا ایک بڑا چیلنج ہے۔ کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات کو اس کال کی روشنی میں از سرِ نو مرتب کریں یا اپنے اصولوں کی روشنی میں قائم کریں۔ خاص طور پرپاکستان کے لیے یہ بڑا چیلنج ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا اہم اتحادی ہے اور امریکہ بھی پاکستان کا اتحادی ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے اس کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحد ملتی ہے۔ ایران کے ساتھ صدیوں پرانے تہذیبی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ جو سیاسی ادوار کی اونچ نیچ سے متاثر نہیں ہوتے۔ ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی نے اس کانفرنس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ایک شو تھا ۔ اپنوں کا پیسہ سپر پاور کو دے کر دہشت گردی نہیںروکی جا سکتی۔ لیکن وزیر اعظم نواز شریف جب کہتے ہیں کہ مسلم امہ کا دہشت گردی کے خلاف اتحاد ہونا چاہیے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کانفرنس سے مستقبل کی سوچ لے کر آ رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی قیادت میں پاکستان نے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو عرب اسلامی فوج کی سربراہی کی اجازت دے کر اپنا وزن اس فوج کے پلڑے میں ڈال دیا ہے تاہم سرکاری طور پر اس فوج کا مقصد دہشت گردی کے انسداد اور سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع میں تعاون ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وزیر اعظم ریاض کانفرنس کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے ۔ دہشت گردی کے خلاف اسلامی ملکوں کے اس اتحاد کے خدوخال بھی اجاگر کریں گے جو ان کے ذہن میں ہے۔

متعلقہ خبریں