ذاتی اثاثے بڑھانے کا جنون

ذاتی اثاثے بڑھانے کا جنون

آپ اسے ہماری بدقستی کہیے کہ قوم کو قائداعظم محمد علی جناح کے بعد کوئی رہنما نہیں ملا ایسا رہنما جس کا مرنا اور جینا اپنے وطن اپنے عوام کے لیے ہوتا جو ہمارے لیے مہا تیر محمد ثابت ہوتا جو نیلسن منڈیلا کی طرح اپنی قوم کی حالت زار بدل دیتا !عوام کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیںآج ہر شعبے میں خودغرضی بددیانتی اور حر ص و ہوس کا دور دورہ ہے چپراسی سے لے کر صد ر اور وزیر اعظم تک سب کا یہی خیال ہے کہ راہ نجات پیسہ بنانے میں ہے دوسروں کو لوٹنے میں ہے تربوز کو انجکشن لگا کر میٹھا کیا جارہا ہے آم کو کاربیٹ کی مدد سے پکایا جارہا ہے جعلی پیپسی کولا اور دوسرے جعلی مشروبات کی بھر مار ہے روح افزا کی بوتل دو سو پچاس سے بڑھ کر تین سو پندرہ کی ہوچکی ہے ابھی بجٹ نہیں آیا اور یہ حال ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا !یہ سب کچھ ہماری خواہشات نفسانی کا کیا دھرا ہے ہماری پریشانیوں تکالیف اور مصیبتوں کا سبب ہماری خواہشات نفسانی ہی ہیں۔ہم چند روزہ فانی زندگی میں سکون ڈھونڈتے ہیں۔آسانیاں تلاش کرتے ہیں۔لیکن یہ بھول جاتے ہیںزندگی نام ہی خوشی و غم کی کہکشاں کا ہے ۔ یہاں دائمی خوشیاں کسی کو بھی نہیں ملتیں۔حالات کے اتار چڑھائو حضرت انسان کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ہمیں بار بار کہا جا چکا ہے کہ تمھارا یہاں قیام ایک وقت مقرر تک ہے۔تم اس دنیا کے لیے نہیں پیدا کیے گئے۔یہ تو ایک امتحان گاہ ہے۔تمھارا اصل ٹھکانہ کہیں اور ہے۔جہاں تم نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہے بات اسی وقت بگڑتی ہے جب ہم اس دنیا کو اپنا دائمی ٹھکانہ سمجھ لیتے ہیں۔ہم میں ایک کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو عمر عزیز کا بہت سا حصہ گزار چکے ہیں۔ ان کی عمریں سّتر یا اسّی کے ہندسوں کو چھو رہی ہیںلیکن ان کی زندگی گزارنے کا انداز ایسا ہے جیسا کہ انہوں نے ابھی سو سال اور زندہ رہنا ہے ہم دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ رشوت لیتے ہیں۔مختلف حیلے بہانوں سے دوسروں کی جائیداد ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں۔ناجائز ذرائع سے بڑے بڑے عہدے حاصل کرتے ہیںحکومت سے پلاٹ حاصل کرتے ہیںدولت رکھنے کے لیے جب اپنے ملک کے بینک غیر محفوظ لگتے ہیں تو اپنی دولت کے ڈھیر غیرملکی بینکوں میں رکھ کر اس خیال غلط میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ہماری دولت ہمارے اثاثے محفوظ ہو گئے۔یہی ہماری بھول ہوتی ہے۔ہمیں سب کچھ یہیں چھوڑ کر جانا ہوتا ہے۔ جہاں ہم سے ذرّے ذرّے کا حساب لیا جائے گا۔آج ہم مال کے فتنے میں بری طرح سے مبتلا ہو چکے ہیں۔ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔پاکستان کے قرضوں کا رونا رویا جاتا ہے یقین کیجیے ہمارے وہ مہربان جن کے اثاثے غیرملکی بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں بڑی آسانی سے وطن عزیز کے قرضوں کی ادائیگی کر سکتے ہیںلیکن ہماری آنکھوں پر چڑھی ہوئی لالچ خودغرضی اور ذاتی مفادات کی چربی ہمیں کچھ بھی تو دیکھنے نہیں دیتی !ہم دوران گفتگو کثرت سے آیات اور احادیث مبارکہ کے حوالے تو بہت دیتے ہیںلیکن ان پر ہمارا ایمان نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ ذرا سوچیئے! جس شخص کا اس بات پر پختہ ایمان ہو کہ اس نے ایک دن اللہ کریم کے سامنے کھڑا ہونا ہے اورجہاں اس سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ کیسے رشوت لے سکتا ہے؟ دوسروں کا حق کیسے مار سکتا ہے ؟کسی کی دل آزاری کیسے کر سکتا ہے ؟ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ آپ مرنے سے پہلے مرنے کی جو بات کرتے ہیں اس میں کیا راز ہے۔کیا حکمت ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ جو مرنے سے پہلے مر جاتا ہے وہ پھر مرتے وقت نہیں مرتا۔اسے پھر موت نہیں آتی وہ پھر امر ہو جاتا ہے !بات ہو رہی تھی اثاثوں کے ڈھیر لگانے کی ۔آیئے ایک نظر اس ملک کے لوگوں پر بھی ڈال لیتے ہیںجو بے تحاشہ پیسہ کماتے ہیں۔مشہور ادیب ممتاز مفتی ایک جگہ لکھتے ہیںکہ ڈاکٹر شمشاد ہارون جب امریکہ سے پیرا سائیکالوجی کی تعلیم مکمل کر کے پاکستان آئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ ڈاکٹر یہ بتائو کہ امریکہ میں تو تم نے بھرپور زندگی گزاری ہو گی وہ کہنے لگی کہ امریکہ میں سب کچھ میّسر ہے لیکن بھرپور زندگی نہیں ہے وہ لوگ بھرپور زندگی سے محروم ہیں۔ارے !یہ کیسے ممکن ہے کہ انہیں سب کچھ حاصل ہو لیکن بھرپور زندگی سے محروم ہوںپتہ نہیں ایسا کیوں ہے لیکن ایسا ہے ان کی زندگی میں صرف دو چیزیں ہیںکام کام کام اورتفریح! پھر وہ کام اور تفریح کے چکر میں ایسے پھنسے ہوئے ہیںکہ انہیں کبھی فرصت نہیں ملتی انہیں مادیت نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔اتنی فراغت نہیں ملتی کہ وہ سوچیں کہ یہ کام اور تفریح کا چکر کیا ہے ؟کیوں ہے ؟اس کا انجام کیا ہے۔مقصد کیا ہے؟اہل مغرب کے نزدیک زندگی کا مقصد اقتصادی ترقی ہے۔ہمدردی قربانی یا خدمت اور محبت نہیںاگر یہ انسانی اوصاف ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت رکھتے ہیں تو صرف معاشی ترقی کے حوالے سے !ہم اہل مغرب سے بھی چار ہاتھ بڑھ گئے انہوں نے اپنی معیشت کو ترقی دی ہم نے ذاتی بینک بیلنس بنا کر قوم کو مار ڈالاکہتے ہیں کہ مظلوم کی آہ سے عرش بھی ہل جاتا ہے خدارا اس قوم کے حال پر رحم کیجیے۔ 

متعلقہ خبریں