چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ایک جنگ سی چھڑ گئی ہے اوراس کی وجہ اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز کی جانب سے صدر ٹرمپ کو سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز کی پیشکش کے موقع پر صدر امریکہ کا سعودی شاہ کے سامنے جھکنے کی تصویر کا دنیا بھر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر سامنے آنا ہے۔ شاہ عبدالعزیز کے سامنے صدر ٹرمپ کے جھکنے کی تصویر سے امریکہ میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر امریکیوں نے اس معاملے پر ٹرمپ کی خوب خبر لی۔ ایوارڈ کی وصولی کے دوران ٹرمپ کے آداب بجا لانے کے اقدام نے صدر کے مداحوں اور مخالفین میں ایک جنگ چھیڑ دی ہے۔ اب پتہ نہیں یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور بالآخر اس کے نتائج کیا نکلیں گے ۔

صدر ٹرمپ تو عیسائی ہیں البتہ ان کی بیٹی اور داماد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی ہیں اور یہودیوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ یہودی کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے۔ اس لئے امریکہ نے عرب نیٹو تنظیم کے حوالے سے جو گیم کھیلی ہے عین ممکن ہے کہ اس کے پیچھے یہودی لابی کا ہی ہاتھ ہو۔ کیونکہ امریکی صدارت کے لئے انتخاب لڑتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی جو پالیسیاں امریکیوں کے سامنے رکھی تھیں ان سے صاف واضح ہو رہا تھا کہ اقتدار ملتے ہی موصوف نہ صرف امریکی مسلمانوں کی زندگی تلخ بنا دیں گے بلکہ سابق امریکی صدور کی طرح صدر ٹرمپ کی تمام ہمدردیاں اسرائیل کے لئے ہوں گی کیونکہ امریکہ میں اسرائیل کے ساتھ پنگا لینے کی غلطی کرنے والا کوئی بھی شخص اقتدار کے سنگھا سن پر برا جمان ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لئے کہ امریکی اقتصادیات پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور ان کی آشیر باد کے بناء امریکہ کی سیاست' اقتصادیات وغیرہ میں پتہ بھی نہیں ہل سکتا اور موصوف نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے انتخابی منشور پر پوری طرح عمل کو حرز جاں بنا لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ صدر ٹرمپ کے صدر بنانے کی غلطی کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی بعد میں ہوش آیا اور اس کے غلط منصوبوں کی نہ صرف مخالفت شروع کردی گئی بلکہ اس کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے بھی شروع کردئیے جبکہ عدالتوں نے بھی اس کے فیصلوں کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دے کر انہیں مسترد کرنا شروع کردیا اور ثابت کردیا کہ بقول امیر مینائی
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
عرب نیٹو کانفرنس میں ایک جانب ایران پر دہشت گردی کا بڑھاوا دینے کے الزامات لگا کر اسے تنہا کرنے کا بھاشن دے دیا ہے دوسری جانب پاکستان کے بارے میں ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکالا جو عرصہ دراز سے دہشت گردی کا نہ صرف شکار ہے بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی بہادر افواج نے لا زوال قربانیاں بھی دیں اور انتہا پسندی کا مقابلہ بھی کیا اور ہزاروں نہتے عوام اس بے سود جنگ کی بھٹی کا ایندھن بن چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے الٹا بھارت کو مظلوم قرار دے کر پاکستان کے زخموں پر نمک پاشی کی حالانکہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کے حق خود ارادی کی نفی کر رہا ہے اور اپنے جاسوسوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کروا کے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے مدد بھی کر رہا ہے۔ اس صورتحال پر ملک کے اندر سیاسی حلقے وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ایک لفظ تک نہ کہنے پر معترض دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے جنرل یحییٰ خان کی یاد دلا دی ہے جو اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے رباط گئے تھے تو وہاں بھارت کے وفد کو دیکھ کر انہوں نے احتجاجاً تب تک واک آئوٹ جاری رکھا جب تک بھارت کے وفد کو اسلامی سر براہ کانفرنس سے نکال باہر نہیں کردیاگیا تھا۔ اس وقت جنرل یحییٰ جیسے شخص کے دو ٹوک اور بروقت فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی بہت بڑی جیت اور بھارت کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ نواز شریف کو کانفرنس سے خطاب کا موقع نہیں ملا مگر کیا وہ سائیڈ لائن میں پریس کانفرنس کرکے صدر ٹرمپ کے خلاف نہیں کم از کم پاکستان کے مسائل کو تو اجاگر کرسکتے تھے۔ اختر بیخود مراد آبادی نے درست کہا تھا کہ
سرد موسم' دھوپ' بارش' بجلیاں
اب ہمیں سب کچھ گوارا ہوگیا
صدر ٹرمپ نے اپنے غیر ملکی دورے کا آغاز ایک اسلامی ملک یعنی سعودی عرب سے کرتے ہوئے جو مقاصد حاصل کئے ہیں ان میں سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ ایک جانب اس نے مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع کردی ہے اور ایران کے خلاف دیگر مسلمان ملکوں کو لا کھڑا کردیا ہے تو دوسری جانب اسرائیل کو تحفظ دلانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ یہ کہہ کر اگر مسلمان' یہودی اور عیسائی مل جائیں تو امن قائم ہو جائے گا حالانکہ مسلمانوں کے لئے چشمہ ہدایت و نور یعنی قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان اس کے برعکس ہے اور مسلمانوں پر واضح کیاگیا ہے کہ یہ یہودی اور نصرانی تمہارے دوست ہر گز نہیں ہوسکتے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔
چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ
دو گھڑی تو سوچ تیرے گھر میں کیا ہونے کو ہے

متعلقہ خبریں